مسجد، نمازی اور اہلِ محلہ

کیسا ہونا چاہئے ؟

مسجد ، نمازی اور اہلِ محلہ

*مولانا ابو النور  راشد علی عطاری مدنی

ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر 2023ء

دینِ اسلام میں مسجدکو بڑی اہمیت حاصل ہے ، یہ اللہ کا گھر ہے ، یہاں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے۔ قراٰنِ کریم میں21 سے زائد بار مسجد کا ذکر آیا ہے۔ نیز مساجد کو آباد کرنے ، ان میں اعتکاف کرنے ، انہیں صاف ستھرا رکھنے ، ان میں ذِکرُ اللہ سے نہ روکنے اور اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح کثیر احادیث میں بھی مساجد کی اہمیت ، ان کے آداب ، فضائل اور احکام کا بیان ہے۔ اللہ کریم کے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عظیم ہے : جو مسجد سے محبت کرتا ہے اللہ ربُّ العزّت اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔[1]

مسجد کی آبادکاری کے چار بنیادی ستون ہیں :

 ( 1 ) امام  ( 2 ) مؤذن ( 3 )  مسجد انتظامیہ  ( 4 ) مقتدی

ان میں سے پہلے تینوں کے حوالے سے ” ماہنامہ فیضانِ مدینہ “[2] میں مضامین شائع ہوچکے ہیں جبکہ اب آپ کے پیشِ نظر مضمون میں چوتھے اہم ستون ” مقتدی “ یعنی مسجد کے نمازیوں اور اہلِ محلہ کی کچھ ذمّہ داریوں کا بیان کیا جارہا ہے۔ یہ موضوع دو حصوں پر مشتمل ہے :

 ( 1 ) مسجد کی ضروریات و معاملات اور اہلِ محلہ و نمازی

 ( 2 ) امام و مؤذن کے ساتھ اہلِ محلہ و نمازیوں کا رویہ

 ( 1 ) مسجد کی ضروریات و معاملات اور اہلِ محلہ و نمازی

 * مسجد کی صفائی وغیرہ کی ذمّہ داری اگرچہ مؤذن یا خادم کی ہوتی ہے لیکن یاد رہے کہ اگر اہلِ محلہ یا نمازیوں میں سے کوئی شخص مسجد کی صفائی یا دھلائی وغیرہ میں معاونت کرے گا یا خود آگے بڑھ کر صفائی کرے گا تو اس میں نہ تو کوئی گناہ ہے نہ ہی قباحت ، بلکہ ثواب ہی ثواب ہے۔ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : مَنْ اَخْرَجَ اَذًى مِنَ الْمَسْجِدِ بَنَى اللَّهُ لَهٗ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ یعنی جو مسجد سے کسی تکلیف دہ چیز کو دورکرتا ہے ، اللہ کریم اس کے لئے جنت میں گھر بناتا ہے۔[3]  ایک اور حدیثِ پاک میں ہے : عُرِضَتْ عَلَيَّ اُجُورُ اُمَّتِي حَتَّى القَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ المَسْجِدِ یعنی میری امت کے  ( اعمال کے )  اجر و ثواب مجھ پر پیش کئے گئے یہاں تک کہ ایک شخص کے مسجد سے تنکا نکالنے کا اجر بھی اس میں لکھا ہوا تھا۔[4]

چنانچہ اہلِ محلہ نوجوانوں کو چاہئے ہفتے یا پندرہ دن میں ایک بار مسجد کی صفائی و دھلائی وغیرہ میں خادمِ مسجد کے ساتھ مل کر حصہ ملائیں۔

 * اہلِ محلہ کو مسجد کے اخراجات و ضروریات کا لازمی لحاظ رکھنا چاہئے۔ ہمارا تین سے پانچ افراد کا کنبہ اور دو کمرے کا مکان ہو تو اخراجات کی ایک لمبی لسٹ ہوتی ہے۔ دوسری طرف چھوٹی سے چھوٹی مسجد میں بھی کم از کم 4سے8پنکھے ، 6سے 8لائٹیں ، وُضو خانہ ، ساؤنڈ مشین اور اسپیکرز وغیرہ ہوتے ہیں ، ان سب کا بجلی کا بل بھی آتا ہے اور خرابی کی صورت میں ریپیرنگ بھی کروانی ہوتی ہے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ ہر نمازی ہر جمعہ کو مسجد کے فنڈ میں کم از کم 100 روپے اور زیادہ جتنا ہوسکے ضرور شامل کرے۔ نیز اللہ کریم نے جن کی اچھی آمدن کا سلسلہ بنایا ہے انہیں چاہئے کہ مسجد کے لئے ماہانہ ہزار ، دوہزار روپے کا فنڈ مخصوص کرلیں۔

 * یہ خیال رہنا چاہئے کہ مسجد میں وہی چیز دی جائے جس کی ضرورت ہو ، بعض لوگ کئی مرتبہ سمجھانے کے باوجود اپنی مرضی سے جائے نماز ، قراٰنِ پاک ، پارے اور مختلف سورتیں لا کر مسجد میں رکھ جاتے ہیں۔ جبکہ یہ چیزیں مسجد میں پہلے ہی بہت ہوتی ہیں اور نئی آنے والی بھی پہلے والیوں کی طرح استعمال میں نہیں آتیں یوں رکھے رکھے ان پر دھول مٹی جمع ہوتی رہتی ہے۔ اس لئے جب بھی مسجد میں کوئی خرچہ کرنے کو جی چاہے تو مسجد انتظامیہ یا امام صاحب سے مشورہ ضرور کرلیں۔

 * بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ مسجد میں آکر سب سے پہلے اپنے لئے الگ سے پنکھا چلائیں گے ، اگرچہ پہلے سے کوئی پنکھا چل رہا ہو اور اس کی ہوا میں جگہ بھی موجود ہو ، ایسے لوگوں کو خیال کرنا چاہئے کہ مسجد کے پنکھے بھی بجلی سے ہی چلتے ہیں اور ان کا بھی بِل آتا ہے۔

 * مساجد میں عمومی طور پر کسی نہ کسی نماز کے بعد دینی درس کا سلسلہ ہوتا ہے ، نمازیوں کو چاہئے کہ اس درس میں شرکت کریں ، یہ درس آپ لوگوں تک علم ِدین کی دولت پہنچانے کے لئے ہوتا ہے ، اسی طرح جمعۃ المبارک کے دن بھی پہلی اذان ہوتے ہی مسجد حاضر ہوجائیں تاکہ امام صاحب کے بیان کے ذریعے آپ علم دین حاصل کرسکیں۔ جن مساجد میں نمازی وقت پر مسجد جاتے ہیں وہاں جمعہ کے بیانات بھی ایک ترتیب کے ساتھ ہوتے ہیں۔

 * جو لوگ مساجد میں فاتحہ کا کھانا یا افطاری وغیرہ بھیجتے ہیں انہیں چاہئے کہ برتن بھی ہاتھوں ہاتھ واپس لے جائیں ، بعض لوگ اپنے برتن وقت پر لینے نہیں آتے ، نتیجۃً مسجد میں رنگ برنگے برتن جمع ہوجاتے ہیں ، نیز بعض تو بعد میں جگہ جگہ باتیں بھی کرتے ہیں کہ مسجد سے ہمارے برتن نہیں آتے ، حالانکہ لے کر خود نہیں جاتے ، ایسا بالکل نہیں کرنا چاہئے کہ ایک مسلمان کی قطعاً یہ شان نہیں۔

 * مسجد انتظامیہ کے لوگ محلے ہی کے افراد ہوتے ہیں اور وہ مسجد کا نظام چلانے کے کوئی پیسے یا سیلری نہیں لیتے ، اس لئے اہلِ محلہ کو ان سے بھی بات کرتے ہوئے خیال رکھنا چاہئے ، بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ مسجد کی لائٹ یا پنکھا وغیرہ خراب ہونے یا کبھی وضو خانے پر پانی نہ آنے وغیرہ پر انتظامیہ سے ایسے پیش آتے ہیں جیسے وہ ان کے گھر کے ملازم ہوں۔

 ( 2 ) امام و مؤذن کے ساتھ اہلِ محلہ و نمازیوں کا رویہ

 * اِمامت کی فضیلت و عظمت اس سے بڑھ کر کیا بیان کی جائے کہ یہ وہ مَنْصَب ہے جسے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے نبھایا اور اس منصب کے لئے انہوں نے بہترین اَفراد کو منتخب کیا۔نَماز کی امامت نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نِیابَت  ( یعنی نائب ہونے )  کا ایک حصہ ہے ، اسی طرح اذان دینا بھی بہت سعادت کی بات ہے ، اس لئے اہلِ محلہ و نمازیوں کو چاہئے کہ امام صاحب اور مؤذن صاحب کے حقوق و ضروریات کا خیال رکھیں۔

 * لَین دَین اور کاروبار کے معاملات ہر انسان کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں ، لہٰذا اگر امام و مؤذن مسجد کی ذمّہ داری کے ساتھ ساتھ کوئی جائز کاروبار یا ملازمت کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے ، کاروبار میں اگرچہ بعض لوگ ناجائز انداز اختیار کرتے ہوں تو ضروری نہیں کہ امام یا مؤذن بھی ایسا کرتے ہوں۔

 * نماز اللہ کی جانب سے فرض ہے اور اس کے احکام فقہائے کرام نے تفصیل کے ساتھ لکھ دیئے ہیں ، کس کے پیچھے نماز پڑھی جائے گی اور کس کے پیچھے نہیں یہ سب کتابوں میں لکھا ہے۔ بعض لوگ نماز جیسی عبادت کو بھی اپنی اَنا اور اپنی سوچ کے دائرے میں رکھتے ہیں۔ امام مسجد سے کوئی چھوٹی سی غلطی ہوگئی یا نہیں بھی ہوئی لیکن یہ جناب سمجھتے ہیں کہ غلط ہے تو امام کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ انتہائی غلط ہے۔ ایک امام صاحب کی کمرمیں درد تھا ، وہ مسجد میں آتے اور مسجد کے کونے میں رکھی کرسی پر بیٹھ جاتے ، ایک نمازی صاحب نے صرف اس وجہ سے مسجد آنا چھوڑ دیا کہ امام صاحب مسجد میں کرسی پر کیوں بیٹھتے ہیں۔

 * اپنے ذاتی اختلافات کو اپنی ذات تک ہی رکھنا چاہئے بلکہ مسلمان کی حیثیت سے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ تو اخوت اور بھائی چارے کا رشتہ رکھنا چاہئے ، اپنے جھگڑوں یا مخالفتوں کے باعث امام و مؤذن کو اپنا فریق تصور کرنا نادانی ہے۔ ایک امام صاحب نے کسی محفل کا اعلان کردیا تو ایک اچھے بھلے سمجھدار ، پڑھے لکھے نمازی مسجد سے غائب ہوگئے ، امام صاحب کو محسوس ہوا تو کچھ دن بعد اسپیشل ان کی دکان پر جاکر ملاقات کی اور نہ آنے کا سبب پوچھا تو پتا چلا کہ موصوف کی اُس محفل والوں سے کچھ مخالفت ہے اور امام صاحب نے ان کی محفل کا اعلان کردیا اس لئے امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا ہی چھوڑ دی۔

 * جن کے ساتھ روز کا ملنا جلنا ہو یا مختلف معاملات پر تبادلہ خیال ہوتا ہو تو ان کی میٹھی اور کڑوی سبھی باتیں سننی پڑتی ہیں ، یہ کوئی عقل مَندی نہیں کہ میٹھی میٹھی باتیں تو سب سنیں اور اگر کبھی کوئی کڑوا لفظ سننے کو مل گیا تو راہیں جدا کرلیں۔ ایک صاحب جو کہ گذشتہ 15سال سے درس و بیان میں مصروف ہیں ، اُن کی کسی موضوع پر اپنے محلے کی مسجد کے امام صاحب سے بات ہو رہی تھی ، دورانِ گفتگو انہیں ایک لفظ ناگوار گزرا اور کئی مہینے تک وہ مسجد نہیں آئے۔ اَلامان والحفیظ

 * امام صاحب اگر نماز پڑھنے یا درس و بیان سننے کی دعوت دیں تو ان کی دعوت پر لبیک کہنا چاہئے ، کبھی بھی ان کی دعوت پر ناراضگی یا خفگی کا اظہار نہ کریں۔

 * امام اور مقتدیوں کے درمیان مَحَبّت و پیار کی فضا ضروری ہے تاکہ نیکی و تقویٰ میں باہم تعاون ہو۔ خواہش پرستی اور شیطانی اغراض کی اِتّباع میں اگر کینہ و بُغض پیدا ہو گیا ہو تو اسے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ، نائب مدیر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



[1] مجمع الزوائد ، 2 / 135 ، حدیث : 2031

[2] امام کو کیسا ہونا چاہئے ؟  ( شوّالُ المکرم1441ھ تا ذُوالحجۃِ الحرام 1441ھ ) ، مؤذن کو کیسا ہونا چاہئے ؟  ( صفرُالمظفر1442ھ تا ربیعُ الاوّل1442ھ )  اور مسجد انتظامیہ کو کیسا ہونا چاہئے ؟  ( ربیعُ الآخِر1442ھ تا شعبان و رمضان1442ھ مطابق اپریل2021ء )

[3] ابن ماجہ ، 1 / 419 ، حدیث : 757

[4] ترمذی ، 4 / 420 ، حدیث : 2925


Share

Articles

Comments


Security Code