جانوروں کی سبق آموز کہانیاں

دو کوہان والا اونٹ

* مولانا شاہ زیب عطّاری مدنی

ماہنامہ مارچ2022ء

امّی جی! ابھی تک صبح نہیں ہوئی کیا؟

نہیں!نہیں چنکو بیٹا! صبح ہوئے تو کافی دیر ہوگئی ہے ، ضرور کچھ اور مسئلہ ہوگا ، اسی لئے ہمارے گھر میں اندھیرا ہے ، ورنہ ہمارا گھر سب سے بہترین جگہ پر ہے۔ ہوا ، دھوپ سب برابر آتے ہیں۔

چنکو چوہے اور اس کی امی کی حیرت ٹھیک تھی کیونکہ صبح ہونے کے بعد اگر رات جیسا بلکہ اس سے بھی زیادہ اندھیرا چھا جائے تو سب لوگ پریشان ہوجائیں گے ، ایسے ہی چنکو اور اس کی امی بھی پریشان ہوئے لیکن!انہوں نے کوشش کی ، آگے بڑھے اور ہاتھ میں ہاتھ دے کرآہستہ آہستہ گھر کے مین گیٹ تک پہنچ گئے ، جہاں سے گھر میں روشنی آتی تھی۔

ایسا لگتا ہے کہ دروازے پر جیسے کوئی بڑی چیز ہو ، چنکو چوہے نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا۔

چنکو کی امی نے فوراً کہا : رُکو ذرا! ہاتھ مت لگانا ، ہوسکتا ہے کوئی بڑا جانور ہو ، اور پھر کسی مصیبت میں نہ پڑ جائیں۔

تھوڑی دیر تک ماں بیٹے دیکھتے اور سونگھتے رہے ، مگر انہیں اتنا ہی پتا چلا کہ دروازے پر ضرور کوئی بڑا جانور بیٹھا ہے۔

کافی دیر انتظار کرنے کے بعد جب دونوں واپس اندر جانے لگے تو ایک دَم سے ہلکی ہلکی روشنی آنے لگ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا گھر روشن ہوگیا۔

اس کا صاف مطلب تھا کہ وہ جانور ان کے گھر کے دروازے سے اٹھ گیا ہے۔ اس لئے ماں بیٹے آہستہ آہستہ دوبارہ دروازے کی طرف بڑھے ، قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ بڑا جانور دو کوہان والا ایک اونٹ تھا۔

اب ماں بیٹے کا ڈر ختم ہوچکا تھا ، انہیں معلوم تھا کہ اونٹ اگرچہ بڑا جانور ہے لیکن نقصان پہنچانے والا نہیں۔ چنکو مین گیٹ سے باہر نکلا اور آگے بڑھ کر اونٹ کو سلام کیا ، اور پھر کچھ دیر پہلے کی ساری کہانی سنادی۔

یہ سُن کر اونٹ ہنس پڑا ، اس نے کہا : مطلب میں بالکل صحیح جگہ پر پہنچا ہوں ، اگر میں غلط نہیں ہوں تو آپ کا نام چنکو ہونا چاہئے۔

چنکو نے حیرت سے کہا : ہاں! میں ہی چنکو ہوں ، لیکن! آپ کو کیسے معلوم؟ میں نے تو آج پہلی بار آپ کو دیکھا ہے ، اس سے پہلے نہ کبھی دیکھا اور نہ کبھی ہم ملے۔

اونٹ نے جواب دینے کے بجائے ایک اور سوال کرلیا۔ بالکل صحیح کہا آپ نے ، لیکن! مجھے پہلے ایک اور چیز بتائیں کہ آپ کی امی ماسی چینا کہاں ہیں؟

چنکو حیرت سے ، واہ! آپ تو سب کو جانتے ہیں ، رُکیں! میں

امّی کو بلا کر لاتا ہوں۔

کچھ دیر بعد ماں بیٹے دونوں حیرت سے دیکھ رہے تھے اور اونٹ کھڑا مسکرا رہا تھا ، اونٹ نے بتایا کہ میرے نانا مجھے اکثر بتاتے ہیں کہ ریگستان کے اس طرف تین درخت ہیں ، ان درختوں پر بہت زیادہ پتے ہیں ، وہاں ماسی چینا اور اس کا بیٹا چنکو دونوں رہتے ہیں ، ایک بار میں ان درختوں کے پتے کھا رہا تھا تو میری رسی درخت میں پھنس گئی ، میں نے بڑی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا ، اس وقت یہ دونوں ماں بیٹے میرے پاس آئے اور میری مدد کی۔

ماسی چینا کہنے لگیں : ہاں! ہاں!! یاد آیا ، یاد آیا ، ہم نے ان کی مدد کی تھی ، ان کی بھی دو کوہانیں تھیں اور جسم پر بہت زیادہ بال تھے۔

اونٹ کہنے لگا : نانانے مجھے کہا کہ تم ان کے پاس جاؤ اور میرا سلام کہو ، اور میری طرف سے ان کے لئے یہ بہت ساری چیزیں لے جاؤ ، بس یہی وجہ ہے کہ میں یہاں ہوں۔

اب تینوں ہنس ہنس کر باتیں کررہے تھےاور سب خوش تھے ، اونٹ نے تحفے ان کودئیے اوروہاں سے چلا گیا۔

پیارے بچّو : اس کہانی سے معلوم ہوا کہ جس چیز کے بارے میں ہمیں معلوم نہ ہو اس کے قریب نہیں جانا چاہئے ، ورنہ بہت نقصان ہو سکتا ہے ، اور یہ بھی پتا چلا کہ جو مشکل وقت میں ہماری مدد کرے اس کو ہم یاد رکھیں اور اس کا شکریہ ادا کریں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ  التحصیل جامعۃ المدینہ ، شعبہ  بچوں کی دنیا( چلڈرنز لٹریچر)  المدینۃ العلمیہ ، کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code