کتنی عیدی ملی؟

اسلام اور عورت

کتنی عیدی ملی؟

* اُمِّ میلاد عطاریہ

ماہنامہ مئی 2021ء

یقیناً رَمَضانُ المبارَک عاشقانِ رمضان کے لئے نہایت ہی خوشی کا مہینا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس مبارَک ماہ کے رخصت ہونے پر کئی عُشاق کے دل غم میں ڈوب جاتے ہیں ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ پاک نے رَمَضانُ المبارَک کے شکرانے میں ایک خوشی کا موقع بھی عطا فرمایا جسے عیدُ الفطر کے نام سے جانا جاتا ہے ، جو کہ ایک اہم اسلامی مذہبی تہوار ہے اسے مسلمان یکم شوّال کو جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں نیز عید عربی زبان کا لفظ ہے اور اسے خوشی ، فرحت وغیرہ کے معانی سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اور اس دن روزہ رکھنے سے شریعتِ مطہرہ نے منع فرمایا ہے۔

مسلمانوں میں عیدُ الفطر منانے کے مختلف انداز پائے جاتے ہیں ، مثلاً عید کے موقع پر نئے کپڑے پہننا ، گھروں میں لذیذ اور طرح طرح کے کھانے بنوانا ، رشتہ داروں یا دوستوں سے ملاقات کے لئے جانا اور بیرونِ ملک سے آکر اپنے والدین کے ساتھ عید منانا وغیرہ لیکن ان سب معمولات کے ساتھ ساتھ عید کے موقع پر عیدی لینے اور دینے کا بھی سلسلہ ہوتا ہے ، جس میں ماں باپ اپنے بچّوں کو عیدی کے طور پر پیسے دیتے ہیں ، اسی طرح بچّے بڑے بہن بھائیوں سے بھی عیدی طلب کرتے ہیں نیز دیگر رشتے داروں کے بچّوں کو بھی عیدی پیش کی جاتی ہے۔

اسی طرح شادی شدہ بیٹی کے گھر عیدی بھجوانے کا بھی رواجپایا جاتا ہے ، یقیناً یہ بیٹیوں سے محبت کے اظہار کا ایک طریقہ ہے ، لیکن اس موقع پر بعض ناخوش گوار معاملات ہوجاتے ہیں جن سے سب کو بچنا چاہئے اور وہ یہ کہ عیدی ملنے کے بعد خواتین ایک دوسرے سے اس عیدی کا تذکرہ کرتی ہیں اور مقابلہ بازی شروع ہوجاتی ہے کہ میرے گھر والوں نے تو مجھے اتنا سارا سامان بھیجا ، تمہیں “ کتنی عیدی ملی؟ “ اور تمہارے گھر والوں نے تمہیں عیدی میں کیا دیا؟ یاد رکھئے! اس طرح کے سوالات دوسری اسلامی بہن کوپریشان کرسکتے ہیں ، حالانکہ ہمارا رَوَیّہ اس کے برعکس ہمدردانہ اور دوسری اسلامی بہنوں کی خیر خواہی والا ہونا چاہئے ، جسے جو بھی عیدی ملے اسے اس پر راضی اور خوش رہنا چاہئے اور اللہ کریم کی بارگاہ میں شکر ادا کرنا چاہئے کہ شکر کرنے سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح یہاں یہ بات بھی ضرور مدِ ّنظر رہے کہ عیدی دینا کوئی واجب یا لازمی نہیں لہٰذا والدین یا دیگر رشتہ دار جو بھی عیدی دیں اگر وہ اپنی خوشی اور استطاعت سے دے سکتے ہیں تو بے شک دیں ، لیکن اس کے لئے خود کو مشقت میں ڈالنے یا خود پر جبر کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں اور جسے عیدی نہ ملی تو وہ بھی ناراض نہ ہو اور نہ ہی دل چھوٹا کرے۔ نیز سسرال والوں کو اور بالخصوص ساس کو چاہئے کہ اس معاملے میں بھی اپنی بہو کو پریشان نہ کریں بلکہ آپس میں محبت سے رہیں۔ اِنْ شآءَ اللہ عید کی خوشیاں دو بالا ہوجائیں گی۔ اللہ پاک ہمیں شریعت کی روشنی میں عید منانے کی توفیق عطا فرمائے ، اٰمین۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* نگران عالمی مجلس مشاورت(دعوتِ اسلامی) اسلامی بہن


Share

Articles

Comments


Security Code