کھانے کی نفسیاتی بیماری (Anorexia)

انسان اور نفسیات

کھانے کی نفسیاتی بیماری

*ڈاکٹر زیرک عطّاری

ماہنامہ فیضانِ مدینہ مارچ2023

کھانا اللہ پاک کی بہت ہی پیاری نعمت ہے۔ اس میں ہمارے لئے طرح طرح کی لذت بھی رکھی گئی ہے۔ اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ شریعت و سنت کے مطابق حلال کھانا ثواب کا ذریعہ بھی ہے۔

انسان بعض اوقات اپنے افعال میں میانہ روی سے ہٹ کر افراط و تفریط کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہی معاملہ ہمارا کھانے کے ساتھ بھی ہے۔ ایک طرف تو فوڈ کلچر کا دور دورہ ہے جس میں نت نئی ڈشیں منفرد اور اچھوتے انداز سے Restaurants  اپنے کسٹمرز کو پیش کرتے ہیں اور کھانے والوں کی ایک نہ ختم ہونے والی لائن ہوتی ہے۔ دوسری طرف تفریط کا ایک ایسا پہلو ہے جس سے ہم میں سے شاید ہی کوئی واقف ہو۔

جی ہاں ! دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو کہ کھانے کی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہیں۔ ان میں سے ایک بیماری Anorexia Nervosa ہے۔ یہ بیماری کیا ہے ، کیوں لوگ اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور اس کا علاج کیا ہے ؟ آئیے اس مضمون میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

اینوریکسیا  ( Anorexia )  ایک مخصوص قسم کی نفسیاتی بیماری ہے جس کا شکار زیادہ تر نوجوان لڑکیاں ہوتی ہیں۔ اس بیماری کی وجہ سے مریض کا کھانا اس حد تک کم ہوتا ہے کہ روزانہ کی بنیادوں پر جسم کو جتنی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے وہ کھانے سے پوری نہیں ہوتی۔ یہ ایک خطرناک بیماری ہے اور کوئی بھی مریض جان بوجھ کر اپنا کھانا اس حد تک کم نہیں کرتا۔

یہاں ایک فرق بیان کرنا ضروری ہے اور وہ ہے اختیاری طور پر دُبلا ( Slim )  ہونے کے لئے کم کھانا یا ورزش کرنا۔ یہ نفسیاتی بیماری نہیں ہے کیونکہ اس میں آپ ایک پلان کے مطابق اپنا وزن موٹاپے سے صحت مند لیول تک لاتے ہیں نیز بھوک سے کم کھانے کو جدید میڈیکل ، قدیم علمِ طب  اور ہمارا پیارا دینِ اسلام بھی سراہتا ہے بلکہ پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور  بزرگانِ دین  کے عمل سے بھی یہ واضح ہے ، اسی انداز کو عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی میں پیٹ کا ” قفلِ مدینہ “ کہا جاتا ہے۔

 جبکہ اینوریکسیا میں مقصد بھوک سے کم کھانا نہیں ہوتا بلکہ مریض پہلے ہی بہت دبلا بلکہ ہڈیوں کا ڈھانچا نظر آتا ہے ، اس کے باوجود وہ سمجھتا ہے کہ کہیں موٹا تو نہیں ہو رہا ، اسی نفسیاتی کیفیت کی وجہ سے وہ کھانا چھوڑدیتا ہے یا بہت کم کردیتا ہے یہ ایک بیماری ہے۔

اینوریکسیا کی علامات

 ( 1 )  مریض یہ سمجھتا ہے کہ اس کا وزن بہت زیادہ ہے یا اس کی باڈی شیپ میں کوئی کمی ہے۔ جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔

 ( 2 )  مریض کا وزن اس کی عمر یا قد کے حساب سے بہت کم ہوتا ہے۔

 ( 3 ) تین وقت کی بجائے ایک ہی وقت کا کھانا۔

 ( 4 ) چکنائی والی چیزوں سے ہر وقت اجتناب کرنا۔

 ( 5 ) بھوک مٹانے کے لئے ادویات کا استعمال کرنا۔

 ( 6 ) کھانے کے بعد منہ میں انگلی ڈال کر الٹی کردینا۔

 ( 7 ) بہت زیادہ ورزش کرنا تاکہ کھانے سے حاصل ہونے والی توانائی خرچ ہوجائے۔

 ( 8 ) کمزوری کا احساس اور چکر آنا۔

 ( 9 ) وٹامن اور منرل کی خون میں کمی کی وجہ سے جلد کا خشک ہونا اور بالوں کا گرنا۔

جو لوگ کئی سالوں تک اینوریکسیا کے مریض ہوتے ہیں ان میں درج ذیل علامات بھی پائی جاتی ہیں :

 * پٹھوں کی کمزوری * ہڈیوں کا بھُر بھُرا ہو جانا * دل کی دھڑکن کا بےربط ہوجانا * بلڈ پریشر کا گر جانا * گردوں کی بیماری * مِرگی کی طرح جھٹکے لگنا * قوتِ حافظہ کا کمزور پڑ جانا * قوتِ مدافعت میں کمی کی وجہ سے بار بار بیمار پڑ جانا * خون کی کمی۔

اینوریکسیا کی وجوہات

جس طرح دیگر نفسیاتی بیماریوں کی وجوہات ہوتی ہیں اسی طرح اینوریکسیا کی بھی کچھ وجوہات ہیں :

 ( 1 ) آپ کے خاندان میں کسی کو کھانے کی یا دیگر کوئی نفسیاتی بیماری ہے۔

 ( 2 ) آپ کو زیادہ کھانے یا وزن زیادہ ہونے کے طعنے ملنا۔

 ( 3 ) خود اعتمادی اور خود داری کا فقدان۔

 ( 4 ) آپ گھبراہٹ یا ڈپریشن کے مریض ہیں۔

 ( 5 ) آپ کی شخصیت ہر وقت پرفیکشن کو ڈھونڈتی ہو۔

 ( 6 ) ذہنی ، جسمانی یا جنسی تشدد۔

مندرجہ بالا وجوہات میں سے کوئی بھی وجہ اینوریکسیا کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر جس طرح کی جسمانی ہیئت کو رول ماڈل بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور اسی طرح بعض پروفیشن ایسے ہوتے ہیں جن میں کام کرنے والی عورتوں کو دبلا پتلا رہنے کی تاکید کی جاتی ہے۔تو ممکن ہے کہ وہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جن میں خود اعتمادی کا فقدان ہے وہ اس ٹرینڈ کو فالو کرنے کی کوشش میں اینوریکسیا تک پہنچ جائیں۔

اینوریکسیا کا علاج

اگر آپ میں یا آپ کے کسی جاننے والے میں اینوریکسیا کی علامات پائی جاتی ہیں تو فوراً کسی اچھے ماہر نفسیات سے رابطہ کریں۔ سب سے پہلے تو آپ کے مکمل بلڈ ٹیسٹ ہوں گے تاکہ پتا چل سکے کہ کوئی جسمانی بیماری تو وجہ نہیں ہے۔ اس کے بعد ماہر نفسیات ضروری سوال کر کے مرض کی تشخیص کرے گا کہ آیا اینوریکسیا کی بیماری ہے یا نہیں۔ اور اگر اینوریکسیا کی تشخیص ہوجاتی ہے تو اس کا علاج بھی موجود ہے۔

بنیادی طور پر تو آپ کا علاج تھیراپی کے ذریعے ہی ہوگا۔ آپ میں خود اعتمادی کو پروان چڑھایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ باڈی امیج یا وزن کے حوالے سے آپ کے جو منفی خیالات ہیں ان کی جانچ کی جائے گی اور ان منفی خیالات کو بدل کر ان کی جگہ مثبت خیالات پر فوکس کرنے کا کہا جائے گا۔ اسی طرح کھانے میں اعتدال پر آپ کی  مدد کی جائے گی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اگر گھبراہٹ یا ڈیپریشن کا مرض ہے تو اس کا بھی علاج کیا جائے گا۔

جس قدر اینوریکسیا کا جلد علاج ہوگا اتنا ہی جسم کے دیگر اعضاء کا نقصان کم ہوگا۔ جلدی علاج ملنے کی صورت میں کم وقت کے اندر آپ کی Recovery ہوجائے گی۔

اینوریکسیا کے علاوہ بھی کھانے کی  چند مزید نفسیاتی بیماریاں ہیں۔ جن میں سے ایک Bulimia nervosa  ( بُولیمِیا )  بھی ہے۔ اس میں مریض عموماً ایک ہی بار اس قدر زیادہ کھانا کھاتا ہے کہ وہ مزید کھانا پیٹ میں نہیں ڈال سکتا۔ اس بیماری میں مبتلا ہونے والے بعض مریض تو کھانے کے بعد الٹی کے ذریعے کھانے کو باہر نکال دیتے ہیں اور زیادہ تر مریض پیچش آور  ( laxatives )  ادویات کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کھانے سے توانائی صحیح طور پر جسم میں جذب نہیں ہوتی۔ یہ بیماری بھی اینوریکسیا کی طرح نقصان دہ ہے۔ اس کے لئے بھی مریض کو چاہئے کہ فوری طور پر ماہر نفسیات سے رجوع کرے۔

آخر میں عرض کرتا چلوں کہ کھانے کی نفسیاتی بیماریاں عموماً ماڈرن طبقے یا مغربی کلچر میں زیادہ عام ہیں۔ اس کی ایک وجہ ظاہری خوبصورتی پر حد درجہ فوکس ہے جس کی وجہ سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خود کو جاذبِ نظر دِکھانا چاہتے ہیں۔  دین اسلام نے جو ہمیں اعتدال ، شرم و حیا اور اعلیٰ اخلاق پر فوکس کا درس دیا ہے شاید یہ کھانے کی نفسیاتی بیماریوں کے تدارک کے لئے بہترین احتیاطی تدابیر ہیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ماہر نفسیات ، U.K


Share

Articles

Comments


Security Code