صفر کے مہینےمیں شادی کرنا کیسا؟

(1)صفر اور ربیعُ الاوّل کے مہینے میں تعمیرات کروانا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ صفر یا ربیعُ الاوّل کے مہینے میں تعمیرات کا کام کرواسکتے ہیں یا نہیں، بعض لوگ ان مہینوں میں کام کرنے کو نقصان دہ اور منحوس سمجھتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے؟

بِسْمِ اﷲالرَّحْمٰنِِ ا لرَّحِیْمِ

اَلْجَوابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

صفر یا ربیعُ الاوّل یا کسی اور مہینے میں تعمیرات یا دیگر کوئی بھی جائز کام کرسکتے ہیں شرعاً اس کی کوئی بھی ممانعت نہیں اور کسی کا ان مہینوں میں کام کرنے کو نقصان دہ اور منحوس سمجھنا غلط و بے اصل ہے اور ا یسی سوچ زمانۂ جاہلیت میں پائی جاتی تھی جس سے اسلام نے منع کردیا۔

نیز اس ماہ (یعنی صفرالمظفر) میں سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طبیعت ناساز ہوئی تھی مگر اس وجہ سے اس ماہ کو منحوس نہیں کہہ سکتے کہ اگر ایسا ہو تو جس ماہ میں حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ظاہری وصال شریف ہوا وہ ماہ زیادہ منحوس قرار دینا پڑے گا جو کہ سراسر باطل ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبـــــــــــــــــہ

ابوالصالح محمد قاسم القادری

(2)صفر کے مہینےمیں شادی کرنا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا صفر کے مہینے میں شادی وغیرہ کرنا شریعت میں منع ہے؟

بِسْمِ اﷲالرَّحْمٰنِِ ا لرَّحِیْمِ

اَلْجَوابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

صفر کے مہینے میں نکاح کرنا بلاشبہ جائز ہے۔ بعض لوگ صفر کے مہینے میں اس اعتقاد کی بنا پر شادی نہیں کرتے کہ اس مہینے میں بلائیں وغیرہ اترتی ہیں اور یہ منحوس مہینا ہے۔ یہ اعتقاد محض باطل و مردود ہے جس کی کوئی اصل نہیں بلکہ زمانۂ جاہلیت میں لوگ اسے منحوس سمجھتے تھے تو سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کو منحوس جاننے سے منع فرما دیا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبـــــــــــــــــہ

ابوالصالح محمد قاسم القادری

(3)وقتِ نکاح دولہا، دلہن سے کلمے سُننا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نکاح کے وقت کسی دولہا یا دلہن سے کلمے نہ سُنے جائیں یا دو تین سے زیادہ وہ کلمے نہ سُنا سکے تو نکاح میں کوئی فرق پڑے گا یا نہیں؟ وضاحت فرما دیں۔

بِسْمِ اﷲالرَّحْمٰنِِ ا لرَّحِیْمِ

اَلْجَوابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

نکاح میں کلمے پڑھنا لازم یا شرط نہیں ہے یعنی یہ سمجھنا کہ اگر کلمے نہیں پڑھیں گے تو نکاح منعقد ہی نہ ہوگا، یہ شرعاً درست نہیں، کیونکہ دو مسلمانوں کا نکاح گواہوں (دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنے سے ہو جاتا ہے، اس میں کلمے پڑھنا شرط نہیں۔ البتہ نکاح کے وقت کلمے پڑھنا مستحسن عمل ہے کہ ان کلمات میں اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر ہے، اور ان کا ذکر نزولِ برکات کا سبب، خصوصاً اس اہم موقع پر ویسے ہی حصولِ برکت و سلامتی کے لئے کثرت سے ذکر کرنا مناسب ہے کہ اب سے دونوں کی نئی زندگی کا آغاز ہو رہا ہے، اور اس کا آغاز اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بابرکت نام سے کرنا نیک فال ہے۔

اس کے علاوہ نکاح کے موقع پر کلمے پڑھنے کا ایک مقصد توبہ و تجدیدِ ایمان کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ خیال رہے کہ اگر دولہا کو کلمے یاد ہیں اور بھرے مجمع میں وہ پڑھ سکتا ہے تو پڑھ دے ورنہ بھری محفل میں اس کو شرمندگی سے بچانے کے لئے نکاح خواں اسے پڑھاتا جائے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مُجِیْب مُصَدِّق

محمد نوید چشتی ابوالصالح محمد قاسم القادری

(4)مدرسہ کے بچّوں کا وقف کے قرآنِ پاک پر لکھنا

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مدرسہ میں دیئے گئے وقف کے قرآنِ پاک جب حفظ و ناظرہ کے لئے بچوں کو پڑھنے کے لئے دیئے جاتے ہیں تو بچے پہچان کے لئے قرآنِ پاک پر نام لکھ لیتے ہیں اور اغلاط یاد رکھنے کے لئے نشان بھی لگا لیتے ہیں تو وقف کے قرآنِ پاک میں ذاتی تصرف جائز ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اﷲالرَّحْمٰنِِ ا لرَّحِیْمِ

اَلْجَوابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مدرسہ میں دیئے گئے وقف کے قرآنِ پاک پر نام نہ لکھا جائے، انتظامیہ کو چاہئے کہ وقف کے قرآنِ پاک کے تحفظ کیلئے اس پر خاص نمبر لکھ دے جس کا ریکارڈ اپنے پاس محفوظ کر لے تاکہ اسے بچوں کو دیتے وقت واضح طور پر معلوم ہو کہ کون سا قرآنِ پاک کس بچے کے حوالے کیا گیا ہے اور یوں بچوں کے استعمال شدہ کے درمیان فرق رہے اور وہ ایک دوسرے کا بھی استعمال نہ کریں اور وقف کی حفاظت بھی ہو۔ غلطیاں یاد رکھنے کے لئے نشان لگانا وقف میں ذاتی تصرف ہے جو کہ ناجائز ہے۔

البتہ اگر کسی کا ذاتی قرآنِ پاک ہے تو اُس پر نام بھی لکھ سکتے ہیں اور غلطیاں یاد رکھنے کے لئے نشان لگانا بھی جائز ہے لیکن اس میں بھی یہ خیال رکھا جائے کہ بڑے بڑے نشان نہ لگائے جائیں بلکہ حروف اور حرکات کے علاوہ خالی جگہ پر ایسی پینسل سے چھوٹا سا نشان لگانا چاہئے کہ جس کے نشان کو مٹایا جاسکتا ہو تاکہ بعد میں ان نشانات کو ختم کیا جا سکے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبـــــــــــــــــہ

ابوالصالح محمد قاسم القادری

(5)قرض لی جانے والی رقم کو موجودہ ویلیو پر لوٹانا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص کسی سے پندرہ بیس سال پہلے دس لاکھ روپے قرض لے اور اب واپس کرنا چاہتا ہے تو کیا شرعاً اس پر دس لاکھ ہی واپسی کرنا لازمی ہے یا پھر آج کی ویلیو کے حساب سے زیادہ رقم بنتی ہے کیونکہ بیس سال پہلے دس لاکھ کی ویلیو بہت زیادہ تھی مگر آجکل وہ ویلیو نہیں ہے؟ راہنمائی فرمادیں۔

بِسْمِ اﷲالرَّحْمٰنِِ ا لرَّحِیْمِ

اَلْجَوابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

حکمِ شرعی یہ ہے کہ جتنے روپے بطورِ قرض لئے تھے اتنے ہی واپس کرنا لازم ہیں اس سے زیادہ نہیں، ویلیو کم ہوگئی ہو یا زیادہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، لہٰذا بیس سال پہلے اگر دس لاکھ روپے قرض لئے تھے تو اب دس لاکھ روپے ہی واپس کرنا لازم ہیں، قرض دینے والے کا زیادہ مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے اگرچہ بیس سال پہلے دس لاکھ کی ویلیو بہت زیادہ تھی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مُجِیْب مُصَدِّق

ابو حذیفہ شفیق رضا عطاری مدنی ابوالصالح محمد قاسم القادری


Share