پہلے فرض حج کریں یا بیٹی کی شادی؟

(1)نفل حج و عمرہ کب کرناافضل ہے؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نفل حج وعمرہ کرنا افضل ہے یا کسی غریب مقروض تنگدست کی مدد کرنا ؟سائل:ذوالفقار علی (عارف والہ)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

نفلی کاموں کے بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ جس کی حاجت زیادہ ہو اور جس کا نفع زیادہ ہو وہ افضل ہوتا ہے لہٰذا اگر کسی محتاج شخص کو بہت زیادہ حاجت ہو تو اس کی مدد کرنا نفلی حج وعمرہ کرنے سے افضل ہے ورنہ نفلی حج وعمرہ صدقہ کرنے سے افضل ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2)حجِ اکبر کی تعریف کیا ہے؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حجِ اکبر کی تعریف کیا ہے؟

سائل:محمدخالد (شاد باغ،مرکز الاولیاء ،لاہور)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

حجِ اکبر کے متعلق فقہاء کے مختلف اقوال ہیں اور مشہور قول یہ ہے کہ نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ وسلَّم نے جس دن حج فرمایا تھا اسے حجِ اکبر کہا جاتا ہے اور چونکہ وہ حج جمعہ کے دن کیا گیا تھا تو نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ وسلَّم کے حج کی یاد تازہ کرتے ہوئے مسلمان اس حج کوکہ جو جمعہ کے دن واقع ہو حجِ اکبر کہتے ہیں ۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(3)پہلے فرض حج کریں یا بیٹی کی شادی؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص پر حج فرض ہو جائے مگر اسکی بیٹی جوان گھر میں  ہو تو کیا اسے حج کرنے جانا چاہیے یا پہلے بیٹی کی شادی کرنی چاہیے بعض لوگ کہتےہیں کہ پہلے بیٹی کافرض ادا کر لیں پھر حج کو جائیں گے  جبکہ بیٹی کے لیے ابھی رشتہ تلاش کر رہے ہوتے ہیں کیا اس وجہ سے حج میں تاخیر کر نا جائز ہے ؟سائل:محمد کاشف(اسلام پورہ ،لاہور)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جس شخص پر حج فرض ہو چکا اس پر فرض ہے کہ اسی سال حج کو جائے بلا عذر شرعی  اس سال حج نہ کرنا گنا ہ ہے اور فقہاء نے  جن اعذار  کی وجہ سےحج کی ادائیگی فرض نہ ہونے کا حکم دیا ہے ان میں  بیٹی کی شادی کو شمار نہیں کیا لہٰذا اس وجہ سے جو حج موخر کرے گا گناہ گار ہوگا چند سال تک نہ کیا تو فاسق ہے اور اس کی گواہی مردود مگر جب کریگا ادا ہی ہے قضا نہیں۔

بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اگر حج کرنے جائیں گے تو بچیوں کی شادی کے لیے پیسے نہیں بچیں گے تو یاد رہے کہ شادی کے لیے کثیر اخرجات کرنا نہ فرض ہے نہ لازم بلکہ بعض صورتوں میں گناہ جیسے گانے باجے اور ناجائز رسموں پر خرچ کرنا تو شریعت کے مطابق اور سادگی سے شادی کریں جس کے لے لیے کثیر مال ہونا کوئی ضروری نہیں دوسری بات یہ ہے کہ حج کرنا مُفْلسِی پیدا نہیں کرتا بلکہ حج تو غنی بناتا ہے  لہٰذا حج کریں مقدّس مقامات پر جا کر دُعا کریں اللہ کریم بہتر اسباب پیدا فرمائےگا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(4)پچھلے سالوں کی قربانی نہ کرنے کا حکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید پر 17سال سے قربانی واجب تھی مگر کم علمی کی وجہ سے اس نے نہیں کی ،اب مسئلہ معلوم ہوا ہے تو قربانی کرنا چاہتا ہے ایسی صورت میں زید کیلیے شرعی حکم کیا ہے؟ قربانی کے ساتھ کوئی کفارہ بھی دینا ہوگا یا نہیں ؟سائل:محمد رضوان حسین(مرکز الاولیاء لاہور )

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

زید پچھلے سالوں کی قربانی نہ کرنے سے گنہگار ہوا اس لیے زید پر توبہ کرنا اور ہرسال کی قربانی کے بدلے ایک بکری کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے یعنی 17سال کی قربانی لازم ہے تو 17بکریوں کی قیمت صدقہ کرے، اس کے علاوہ کوئی کفارہ نہیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(5)کیاایصال ثواب کے لیے قربانی کر سکتے ہیں ؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں اپنی طرف سے قربانی ہر سال کرتا ہوں اس مرتبہ میں اپنی قربانی کے علاوہ اپنے والد صاحب کے ایصال ثواب کے لیے بھی ایک قربانی کرنا چاہتا ہوں عرض یہ ہے کہ کیا فوت شدہ کے ایصال ثواب کے لیے اس کی طرف سے قربانی ہوسکتی ہے ؟

سائل: غلام مصطفی عطاری (اچھرہ ،لاہور)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جی ہاں ! فوت شدہ کو ایصال ثواب کرنے کے لیے اس کی طرف سے بھی قربانی ہوسکتی ہے کیونکہ قربانی کرنا ایک قربت (ثواب کا کام) ہے اور میت کی طرف سے بھی قربت ہوسکتی ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(6)زکوٰۃ اورقربانی کے نصاب میں فرق

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قربانی کانصاب کیاہے ؟اورزکوٰۃ وقربانی کے نصاب میں کیافرق کیاہے؟سائل :عبدالقدیرجلالی(شادی پورہ،مرکزالالیاء،لاہور )

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

ضروریات زندگی سے زائد ساڑھے سات تولے سونایا ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی مالیت کے برابر کسی بھی سامان ،زمین ،دوکان یا پیسوں کا مالک ہونا وجوب قربانی کانصاب ہے۔

زکوٰۃ اورقربانی کے نصاب میں دوفرق ہیں قربانی کے نصاب میں مال نامی ہونااورسال گزرناشرط نہیں ہے جبکہ زکوٰۃ میں یہ دونوں شرطیں ہیں ۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم


Share