معراج جسمانی  تھی  یا روحانی؟

معراج جسمانی تھی یا روحانی؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ (1)شبِ معراج کو سرکار علیہ الصَّلٰوۃ و السَّلام کی معراج جسمانی تھی یا روحانی؟ (2) اگر کوئی جسمانی معراج کا انکار کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ (سائل:محمد عدیل رضا قادری، پنڈی گھیب، اٹک)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

(1)حضور علیہ الصَّلٰوۃ و السَّلام کو بیداری کی حالت میں جسمانی معراج نصیب ہوئی، اس پہ قرآنی آیت و صحیح احادیث دال ہیں، نیز جمہور صحابۂ کرام، تابعین، تبعِ تابعین، فقہاء، محدثین اور متکلمین کا مذہب اور اہلِ سنّت و جماعت کا یہی عقیدہ ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:  ( سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ(۱)) ترجمۂ کنز العرفان:پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک سیر کروائی جس کے اِرد گِرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں، بیشک وہی سننے والا، دیکھنے والا ہے۔(پ15، بنی اسرآءیل :1)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیتِ کریمہ کے تحت تفسیرِ خازن، جلالین اور حاشیہ صاوی میں ہے:والحق الذی علیہ اکثر الناس ومعظم السلف و عامۃ الخلف من المتأخرین من الفقھاء والمحدثین والمتکلمین انہ اسری بروحہ وجسدہ صلی اللہ علیہ وسلم، ویدل علیہ قولہ سبحانہ وتعالیٰ( سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا )(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) و لفظ العبد عبارۃ عن مجموع الروح والجسد، والحدیث الصحیحۃ التی تقدمت تدل علی صحۃ ھذا القول‘‘

ترجمہ: حق وہی ہے جس پر کثیر لوگ، اکابر علماء اور متأخرین میں سے عام فقہاء، محدثین اور متکلمین ہیں کہ حضور علیہ السَّلام نے جسم اور روح مبارک کے ساتھ سیر فرمائی، اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے: پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا، کیونکہ لفظ عبد روح اور جسم دونوں کے مجموعے کا نام ہے، یونہی ( ماقبل) ذکر کردہ حدیث صحیح بھی اس قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے۔(تفسیرخازن،پ15،تحت الآیۃ:1 ،ج3،ص158)

نسیم الریاض میں ہے: ’’(انہ اسراء بالجسد والروح فی القصۃ کلھا) ای فی قصۃ الاسراء الی المسجد الاقصی والسموات، (وعلیہ تدل الآیۃ) الدالۃ علی شطرھا صریحاً (وصحیح الاخبار) المشھورۃ المستفیضۃ الدالۃ علی عروجہ صلی اللہ علیہ وسلم الی السماء، والاحادیث الاحاد الدالۃ علی دخولہ الجنۃ ووصولہ الی العرش او طرف العالم کما سیاتی وکل ذلک بجسدہ یقظۃ‘‘

ترجمہ: نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے پورے واقعۂ معراج میں یعنی مسجدِ اقصی سے آسمانوں تک جسم و روح مبارک کے ساتھ سیر فرمائی، جس کے ایک حصے پہ آیتِ کریمہ واضح طور پہ دلالت کرتی ہے اور آسمانوں تک کی سیر پر حدیثِ مشہور مستفیض دلالت کرتی ہے، نیز جنّت میں داخل ہونے، عرش پہ جانے یا عالَم کے اس کنارے جانے پہ خبرِ واحد دلالت کرتی ہے، جیسے کہ آگے آئے گا، اور یہ سب بیداری میں جسمِ مبارک کے ساتھ تھا۔(نسیم الریاض،ج3،ص103)

مکتوباتِ امام ربّانی و فتاویٰ رضویہ میں ہے: ’’معراج شریف یقیناً قطعاً اسی جسمِ مبارک کے ساتھ ہوئی نہ کہ فقط روحانی، جو ان کی عطا سے ان کے غلاموں کو بھی ہوتی ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتاہے: ( سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) (یعنی ) پاکی ہے اسے جو رات میں لے گیا اپنے بندہ کو، یہ نہ فرمایا کہ لے گیا اپنے بندہ کی روح کو‘‘۔ ( فتاویٰ رضویہ،ج 15،ص 74 )

مقالاتِ کاظمی میں ہے: ’’جمہور علماء، صحابہ، تابعین و تبعِ تابعین اور ان کے بعدمحدثین و فقہاء اور متکلمین سب کا مذہب یہ ہے کہ اسراء اور معراج دونوں بحالتِ بیداری اور جسمانی ہیں اور یہی حق ہے‘‘۔ (مقالاتِ کاظمی،ج1،ص114)

(2) معراج شریف کا مطلقاً انکار کفر ہے، کیونکہ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کی معراج قطعی اور کتابُ اللہ سے ثابت ہے، البتہ جو معراج کو تسلیم کرے لیکن فقط روحانی کا قائل ہو تو وہ خطا پر ہے، اور فی زمانہ اس کا انکار نہیں کرتے مگر بد مذہب و گمراہ لوگ۔

معراج کا مطلقاً انکار کفر ہے، چنانچہ شرح عقائدِ نسفیہ پھر نِبْراس میں ہے: ’’فالاسراء ھو من المسجد الحرام الی البیت المقدس قطعی ای یقینی ثبت بالکتاب ای القرآن و یکفر منکرہ۔۔ الخ‘‘ ترجمہ: مسجدِ حرام سے بیت المقدس تک کی سیر قطعی یقینی اور کتاب اللہ سے ثابت ہے اور اس کا منکر کافر ہے‘‘۔(النبراس، ص295)

نسیم الریاض میں ہے: ’’(ذھب معظم السلف و المسلمین) عطف للعام علی الخاص، وفیہ اشارۃ الی ان خلافہ لا ینبغی لمسلم اعتقادہ (الی انہ اسراء بالجسد) مع الروح (وفی الیقظۃ)‘‘ ترجمہ: (اکابر علماء و مسلمین اس طرف گئے ہیں) یہ عام کا خاص پر عطف ہے اور اکابر علماء و مسلمین کہنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس کے خلاف کا اعتقاد رکھنا کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا، ( کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ بیداری میں جسم اور روح مبارک کے ساتھ سیر فرمائی )۔ (نسیم الریاض،ج3،ص99)

فتاویٰ رضویہ میں ہے: ’’ان عظیم وقائع نے معراج مبارک کا جسمانی ہونا بھی آفتاب سے زیادہ واضح کردیا، اگر وہ کوئی روحانی سیر یا خواب تھا تو اس پر تعجب کیا؟ زید و عمرو خواب میں حرمین شریفین تک ہو آتے ہیں، اور پھر صبح اپنے بستر پر ہیں۔ رؤیا کے لفظ سے استدلال کرنا اور (اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ ) نہ دیکھنا صریح خطا ہے۔ رؤیا بمعنی رویت آتا ہے۔ اور فتنہ و آزمائش بیداری ہی میں ہے نہ کہ خواب میں، ولہٰذا ارشاد ہوا: ( سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) ( یعنی) پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو لے گیا ‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ،ج 29،ص635)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبــــــــــــــــــــــہ

ابوالصالح محمد قاسم قادری


Share