جاتے وقت خدا حافظ کہنا

جدہ کے رہائشی کا عمرے کے بعدحلق یا تقصیرجدہ میں  کرانا

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں جدہ کا رہائشی ہوں، عمرہ کرنے کے لئے مکہ شریف حاضری ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا میں عمرے کے تمام افعال ادا کرکے حلق یا تقصیر جدہ جاکر کرسکتا ہوں یا نہیں؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

عمرہ کرنے والے کے لئے حدودِ حرم کے اندر حلق یا تقصیر کروانا ضروری ہے، حدودِ حرم سے باہر کروانے کی صورت میں اس پر دَم لازم ہوگا۔ چونکہ جدہ حرم سے باہر ہے لہٰذا آپ جدہ جاکر حلق یا تقصیر نہیں کرواسکتے، کروائیں گے تو دَم دینا لازم ہوگا۔(لباب المناسک، ص325، ردالمحتار،ج3،ص666، بہار شریعت،ج1،ص1142)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

جاتے وقت خدا حافظ کہنا

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لوگ ملاقات کے بعد جاتے وقت خدا حافظ کہتے ہیں، کیا یہ درست ہے ؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

ملاقات کرکے جاتے وقت بھی سلام کرنا سنّت ہے، حدیثِ پاک میں اسی کی ترغیب ہے، البتہ سلام کرنے کے ساتھ ہی خدا حافظ بھی کہہ دیا تو حرج نہیں ہے کہ یہ دعائیہ جملہ ہے اور رخصتکرتے وقت دعا دینا نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم سے ثابت ہے ۔

حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:”کان النبی صلَّی اللہ علیہ وسلَّم اذا ودع رجلا اخذ بیدہ فلا یدعھا حتی یکون الرجل ھو یدع ید النبی صلَّی اللہ علیہ وسلَّم ویقول استودع اللہ دینک وامانتک وآخر عملک ترجمہ:نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم جب کسی کو رخصت فرماتے تو اس کا ہاتھ پکڑ کر اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک وہ خود ہاتھ پیچھے نہ کرتا، اور فرماتے: میں تمہارا دین، امانت اور آخری عمل، اللہ پاک کے سپرد کرتا ہوں۔(مشکاۃ المصابیح،ج1،ص455،حدیث:2435)

البتہ سلام کے بجائے صرف خدا حافظ کہنے پر اکتفا  نہ کیا جائےکہ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم نے وقت رخصت بھی سلام کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ چنانچہ  نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اذا انتھی احدکم الی مجلس فلیسلم فان بدا لہ ان یجلس فلیجلس ثم اذا قام فلیسلم فلیست الاولی باحق من الاٰخرۃترجمہ:جب تم میں سے کوئی کسی مجلس کے پاس پہنچے تو انہیں سلام کرے پھر وہاں بیٹھنا ہو تو بیٹھ جائے، جب جانے لگے تو دوبارہ سلام کرے کہ پہلی مرتبہ کا سلام، آخری مرتبہ کے سلام سے بہتر نہیں۔(یعنی دونوں مواقع پر سلام کرنے کی اپنی اپنی اہمیت ہے)(ترمذی ،ج4،ص324،حدیث:2715)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کیا فرض  کے بعد سنن و نوافل کے لئے جگہ بدلنا ضرور ی ہے؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میںکہ کیا  مقتدی کے لئے ضروری ہے کہ فرض پڑھ لینےکے بعد سنن و نوافل اس جگہ سےہٹ کرپڑھے، وہاں نہ پڑھے۔ کیا یہ مسئلہ درست ہے؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

ظہر و مغرب اور عشا کے فرض پڑھ لینے کے بعد مقتدیوں کے لئے سنن و نوافل اس جگہ سے ہٹ کرپڑھنے کو ضروری قرار دینا غلط اور عوامی غلط فہمی ہے درست مسئلہ یہ ہے کہ مقتدی کو اختیار ہے کہ جس جگہ اس نے جماعت سے فرض پڑھے، چاہے تو وہیں سنن و نوافل پڑھے یا اس سے آگے، پیچھے، دائیں، بائیں ہٹ کر پڑھے یا گھر جاکر پڑھے۔ البتہ مستحب یہ ہے کہ اس جگہ سے ہٹ کر سنن و نوافل پڑھے۔ یوں ہی یہ بھی مسنون ہے کہ جماعت ہوجانے کے بعد صفیں توڑ دی جائیں۔(فتاویٰ ہندیہ،ج1،ص77، فتاویٰ رضویہ،ج9،ص230)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

گھٹی دینے کا طریقہ

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بچّے کی پیدائش کے بعد اسے گُھٹی دینے کا طریقہ کیا ہے نیز اس موقع پہ کون کون سے اعمال کرنے چاہئیں؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

بچّہ پیدا ہو تو پہلے اس کے دائیں کان میں چار بار اذان اور بائیں کان میں تین بار اقامت کہی جائے اس کے بعد کسی عالمِ دین، بزرگ یا نیک شخص سے گھٹی دلوائی جائے جس کا طریقہ یہ ہے کہ گھٹی دینے والا کوئی میٹھی شے خود چبا کر بچے کے منہ میں ڈال کر تالو پہ مَل دے۔

اُمُّ المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے: کان یوتی بالصبیان فیبرک علیھم ویحنکھم ترجمہ: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ وسلَّم کی خدمت میں بچّے لائے جاتے حضور ان کے لئے برکت کی دعا کرتے اور تحنیک کرتے۔(گھٹی دئیے جانے کو تحنیک کہتے ہیں)۔(مسلم، ص134،حدیث:662)

سیّدی اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن فرماتے ہیں:”جب بچّہ پیدا ہو فوراً سیدھے کان میں اذان بائیں میں تکبیر کہے کہ خللِ شیطان و اُمُّ الصّبیان سے بچے، چھوہارا وغیرہ کوئی میٹھی چیز چبا کر اس کے منہ میں ڈالے کہ حلاوتِ اخلاق کی فالِ حسن ہے۔“(فتاویٰ رضویہ،ج24،ص453)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مارخور حلال ہے یا حرام؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مارخور حلال جانور ہے یا حرام؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مارخور بکرے سے بڑا ایک جنگلی جانور اور گھاس پھونس کھانے والا چوپایہ ہے، یہ حلال ہے، اس کے حرام ہونے کی کوئی وجہ نہیں جب کوئی چوپایا ایسا ہو کہ نہ تو ذی ناب (حرا م چوپایوں کے جو دو دانت باہر نکلے ہوتے ہیں وہ انیاب کہلاتے ہیں) ہو یا ذی ناب تو ہو لیکن اس سے شکار نہ کرتا ہو جیسا کہ اونٹ اور نہ ہی مردارخور ہو تو وہ حلال ہوتا ہے اور مارخور میں یہ دونوں وصف پائے جاتے ہیں۔(درمختار،ج9،ص620ملتقطاً، فتاویٰ رضویہ،ج20،ص313)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


Share