محدثِ اعظم پاکستان کے فرامین

بزرگانِ دین کے مبارک فرامین

محدث اعظم پاکستان کے فرامین

*مولانا بلال حسین عطّاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ فروری2024 ء

محدثِ اعظم پاکستان حضرت علّامہ مولانا محمد سردار احمد قادری چشتی رحمۃُ اللہِ علیہ کی ولادت 1323ھ کو ضلع گورداسپور (موضع دیال گڑھ مشرقی پنجاب) ہند میں ہوئی۔ آپ استاذالعلماء، محدثِ جلیل، مُناظرِ اسلام،  شیخِ طریقت، بانیِ سنّی رضوی جامع مسجد و جامعہ رضویہ مَظہرِ اسلام (فیصل آباد) اور اکابرینِ اہلِ سنّت میں سے ہیں۔ مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفےٰ رضا خان، حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان اور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہِ علیہم جیسے عظیم عُلما سے آپ نے علمِ دین حاصل کیا جبکہ شاگردوں میں مفتی شریف الحق امجدی، علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی، مفتی وقار الدین رضوی، مفتی عبدالقیوم ہزاروی اور مفتی فیض احمد اویسی  رحمۃُ اللہِ علیہم سمیت کئی عبقری شخصیات شامل ہیں۔آپ کا وصال یکم شعبان 1382ھ/29 دسمبر 1962ء کو کراچی میں ہوا، مزارجھنگ بازار فیصل آباد میں واقع سنی رضوی جامع مسجد کے احاطہ میں ہے۔([1])

اس مضمون میں آپ  رحمۃُ اللہِ علیہ کے  15 فرامین جمع کئے گئے ہیں، ملاحظہ کیجئے!(1)پیارے آقا محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اتنا ذکر کریں کہ لوگ آپ کو دیوانہ تصور کریں۔([2])(2)جن گھروں میں عورتیں نماز نہیں پڑھتیں ان گھروں میں برکت نہیں ہوتی، وہ گھر مثل قبروں کے ہیں۔([3])(3)یہ جہاں سونے کے لئے نہیں بلکہ جاگنے اور جگانے کے لئے ہے۔ مرنے کے بعد قبر میں سونے کا بہت موقع ملے گا، وہاں کوئی نہیں جگائے گا۔([4])(4)جتنا دنیا کے پیچھے بھاگو گے اتنا ہی یہ آگے بھاگے گی، جتنا دنیا کو چھوڑکر بھاگو گے یہ اتنا ہی تمہارے پیچھے بھاگے گی۔([5])(5)لینے اور دینے میں دائیں ہاتھ کو استعمال کرو۔ یہ عادت ایسی پختہ ہوجائے کہ کل قیامت کو جب نامۂ اعمال پیش ہو تو اسی عادت کے موافق دایاں ہاتھ آگے بڑھ جائے تب تو کام بن جائے گا۔([6])

عُلَما و مبلغین کے لئےہدایات(6)علم اور عُلَما کے وقار کو ہمیشہ مَدِّ نظر رکھیں کوئی ایسا کام نہ کریں کہ عُلما کا وقار مجروح ہو۔آپ دین کے مبلغ اور ترجمان ہیں آپ کا کردار بے داغ ہونا چاہئے (7)دنیاداروں سے بے تکلفانہ روابط قائم نہ کریں۔ (8)بےضرورت بازار نہ جائیں اور نہ کسی دوکان پر (فالتو) بیٹھیں (9)آپ ہوں اور کتابوں کا مطالعہ۔ جس قدر علم میں توجہ کریں گے اتنا ہی ترقی و عروج حاصل کریں گے۔([7])(10)صبح کا وقت باتوں میں ہرگز ضائع نہ کریں۔ نماز کے بعد تلاوت، اس کے بعد اپنے اسباق میں مشغولیت، اِن شآءَ اللہ العزیز سارا دن اچھا گزرے گا۔([8]) (11)علمِ دین کو دنیا حاصل کرنےکا ذریعہ ہرگز نہ بنائیں اگر بنایاتو نقصان اٹھائیں گے (12)علمائے کرام کو خوش لباس ہونا چاہئے نیز اس کی شرعی حیثیت کا خیال بھی ضروری ہے۔([9]) (13)عمدہ جوتا استعمال کریں تاکہ دنیاداروں کی نگاہ عالِم کے جوتوں پر رہے ۔([10])(14) جب کبھی تم سے کوئی کسی حدیث کے بارے میں سوال کرے تو یہ مت کہو کہ یہ حدیث کسی کتاب میں نہیں بلکہ یوں کہو کہ یہ حدیث میرے علم میں نہیں ہے یا میں نے نہیں پڑھی۔([11])(15)ایک مرتبہ ایک صاحب سے فرمایا:میں اپنوں سے الجھ کر وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا، اتنا وقت میں  تبلیغِ دین اور بدمذہبوں کی تردید میں صَرف کروں گا۔([12])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، شعبہ ذمہ دار ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی



([1])حیاتِ محدثِ اعظم، ص334،27، 339

([2])تذکرہ محدث اعظم پاکستان،2/438

([3])حیاتِ محدث اعظم، ص 230

([4])حیات محدث اعظم ص202

([5])حیات محدث اعظم ص342

([6])حیات محدث اعظم ص374

([7])حیات محدث اعظم، ص84، 85، 125

([8])حیات محدث اعظم ص142

([9])حیات محدث اعظم، ص125

([10])حیات محدث اعظم، ص85

([11])حیات محدث اعظم، ص71

([12])تذکرہ محدث اعظم پاکستان،2/439


Share

Articles

Comments


Security Code