اچھا سوال

آؤ بچو! حدیثِ رسول سنتے ہیں

 اچھا سوال

*  مولانا محمد جاوید عطاری مدنی

ماہنامہ اگست2021ء

اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : “ حُسْنُ السُّوَالِ نِصْفُ العِلْمیعنی اچھا سوال کرنا آدھا علم ہے۔ (معجم الاوسط ، 5 / 108 ، حدیث : 6744)

پیارے بچّو! اچّھے سوال کے ذریعے ہم تھوڑے وقت میں زیادہ اور اچھی معلومات حاصل کرسکتے ہیں ، سُوال کو علم کی چابی کہا گیا ہے ، جو اس چابی (Key)کا اچھا استعمال کرے گا اس کے لئے علم کا لاک کھل جائے گا اور وہ علم کے دروازے سے داخل ہو کر بہت سارا علم حاصل کر لے گا۔ جو زیادہ سوال کرتا ہے وہ زیادہ علم حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

بعض بچّے سُوال کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں ، کلاس میں بھی اسی شرم کی وجہ سے اپنے ٹیچر سے سُوال نہیں کرتے اور یوں اپنا سبق(Lesson) بھی صحیح سے نہیں سمجھتے ، اس کا نقصان انہیں تب سمجھ میں آتا ہے جب دوسرے دن ٹیچر وہی سبق سنتے ہیں۔

اچّھے بچّو! اپنے ابو ، چاچو ، دادا ، ٹیچر یا مسجد کے امام صاحب سے وُضو ، نماز اور دیگر دینی اور دنیاوی معلومات حاصل کرنے کے لئے ادب کے ساتھ اچّھے اچّھے سُوال ضرور کیجئے۔ یاد رہے کہ سوال اچھے ہوں ، الٹے سیدھے اور بلا وجہ کے سوالات کرکے اپنے ٹیچر  ، ابو ، دادا وغیرہ کو پریشان کرنا بُری بات ہے ۔

اللہ پاک ہمیں اچّھے اچّھے سوال کرکے اچّھی اچّھی معلومات حاصل کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃُ المدینہ ، ماہنامہ فیضانِ مدینہ ، کراچی


Share