وہ بزرگان دین جن کا وصال یا عرس صفر المظفر میں ہے

صَفَرُالْمُظَفَّر اِسلامی سال کا دوسرا مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، علمائے اسلام اور اَولیائے عظام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اَجْمعین کا وصال ہوا، ان میں سے 19 کا مختصر ذکر چار عنوانات کے تحت کیا گیا ہے۔صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان : (1)صحابیِ رسول، شہزادۂ صدیقِ اکبر،  پروردۂ مولیٰ علی حضرت سیّدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ، ذوالحلیفہ (نزد مدینہ شریف) میں ذوالقعدہ 10 ہجری کو پیدا ہوئے اور صَفَرُالْمُظَفَّر 38ھ کو مصر میں شہید کئے گئے۔ آپ مجاہد، عبادت گزار اور علم وفضل کے مالک تھے، کئی سال مصر کے گورنر رہے۔(سنن نسائی، ص 438، حدیث: 2661، اسد الغابۃ،ج5،ص105، المنتظم،ج5،ص156) (2)امُّ المؤمنین حضرت سیّدتُنا میمونہ بنتِ حارث ہلالیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا سلسلہ نسب 18ویں پشت میں نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے مل جاتا ہے آپ کا نکاح نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے 7ھ کو مکّۂ مکرمہ میں ہوا اور مکّۂ مکرمہ سے 6 میل کے فاصلے پر سَرِف (موجودہ نواریہ) کے مقام پر آپ کا وصال ہوا۔(زرقانی علی المواہب،ج4،ص423-سبل الہدی،ج11،ص144-207تا209-سیرت سیدالانبیا، ص408)اولیائے کرامرحمہم اللہ السَّلام: (3)مشہور ولیِ کامل، شیخ الاسلام حضرت بہاء الدین زکریا قریشی ملتانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی پیدائش 566ھ میں کروڑ لعل عیسن (ضلع لیہ، جنوبی پنجاب) پاکستان میں ہوئی۔ آپ مادرزاد ولی، حافظ القراٰن، عالمِ دین، شیخِ طریقت اور امام سلسلۂ سہروردیہ فی الہند ہیں۔ آپ نے 7 صَفَرُالْمُظَفَّر 661ھ کو مدینۃُالاولیا ملتان(جنوبی پنجاب) پاکستان میں وصال فرمایا، آپ کا مزار مرجعِ خاص و عام ہے۔(فیضانِ بہاء الدین زکریا ملتانی، ص3تا63) (4)سجادہ نشین  درگاہِ محمدیہ کالپی شریف حضرت علّامہ پیر سیّد احمد شاہ ترمذی کالپویرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ، ولیِ کامل، عالمِ باعمل، صاحبِ تصانیف اور سلسلۂ عالیہ قادریہ عطاریہ کے اکتیسویں  شیخِ طریقت ہیں، گیارہویں صدی ہجری کی ابتدا میں پیدا ہوئے اور 19 صَفَرُالْمُظَفَّر 1084ھ میں وصال فرمایا، مزار مبارک کالپی شریف (ضلع جالون، یوپی) ہند میں ہے۔(تاریخ مشائخ قادریہ،ج 2،ص114) (5)زینتِ خاندانِ غوثِ اعظم حضرت سیّدنا شیخ سیّد حسن بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادِی کی ولادت ابتدائے آٹھویں سن ہجری بغداد (عراق) میں ہوئی، آپ عالمِ دین، سلسلۂ عالیہ قادریہ عطاریہ کے تیئیسویں شیخِ طریقت اور آستانۂ غوثیہ کے سجادہ نشین تھے۔ وصال26 صَفَرُالْمُظَفَّر 781ھ کو فرمایا اور تدفین بغداد شریف میں ہوئی۔ (تاریخ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ، ص201) (6)تاجدارِ سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ حضرت مجددِ الفِ ثانی شیخ احمد فاروقی سر ہندی حنفی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 971ھ کو سرہند شریف (ضلع فتح گڑھ، صوبہ مشرقی پنجاب) ہند میں ہوئی اور 28 صَفَرُالْمُظَفَّر 1034ھ کو یہیں وصال فرمایا، روضۂ مبارک مرجعِ انوار ہے۔ آپ عالمِ باعمل، مصنفِ کُتُب اور عالمگیر شہرت کے حامل شیخِ طریقت ہیں۔ ”مکتوباتِ امام ربانی‘‘ آپ کی کُتُب سے ہے۔(تذکرۂ مجددالف ثانی،ص2تا39)خاندان و احبابِ اعلٰی حضرت علیہم رحمۃ ربِّ العزّت: (7)استاذِ اعلیٰ حضرت، شیخُ الاسلام حضرت سیّد ابوالعباس احمد بن زینی دحلان جیلانی مکی شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی امام الحرمین، مفتیِ شافعیہ، شیخ الحدیث، استاذُ العلما اور کئی کتب کے مصنف تھے، آپ کا گھر ”بیتِ دحلان“ علم و دین اور معرفت کا مرکز تھا۔ ”السیرۃ النبویۃ و الاثار النبویۃ“ آپ کی چالیس کتب میں سے ایک ہے۔ آپ کی ولادت1232ھ کو مکّہ شریف میں ہوئی اور وفات 4 صَفَرُالْمُظَفَّر 1304ھ کو مدینۂ منوّرہ میں فرمائی۔ جَنّۃُ البَقِیع میں دفن کئے گئے۔( نفحۃ الرحمن فی بعض الشیخ السیداحمدبن السیدزینی دحلان ص، 15تا51) (8)شہزادۂ استاذِ زمن، استاذُ العلما حضرتِ مولانا محمد حسنین رضا خان رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1310 ھ کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ اعلیٰ حضرت  علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کے بھتیجے، داماد، شاگرد و خلیفہ، جامع معقول و منقول، کئی کُتُب کے مصنف، مدرسِ دار العلوم منظرِ اسلام، صاحبِ دیوان شاعر، بانیِ حسنی پریس و ماہنامہ الرضا و جماعت انصار الاسلام تھے۔ وصال5 صَفَرُالْمُظَفَّر 1401ھ میں فرمایا اور مزار بریلی شریف میں ہے۔ (تجلیات تاج الشریعہ، ص95، صدر العلما محدث بریلوی نمبر، ص77تا81) (9)مُفسرِ اعظم حضرتِ مولانا محمد ابراہیم رضا خان رضوی جیلانی میاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت1325 ھ کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ عالمِ دین، مصنف، مہتمم دار العلوم منظرِ اسلام اور   شیخ الحدیث تھے۔11 صَفَرُالْمُظَفَّر 1385ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک بریلی شریف (یوپی) ہند میں روضۂ اعلیٰ حضرت کے دائیں جانب مرجعِ خلائق ہے۔(تجلیات تاج الشریعہ،ص93،مفتی اعظم اورانکے خلفاء، ص110) خلفائے اعلٰی حضرت علیہم رحمۃ ربِّ العزّت:(10)شَیخُ الخُطَباء و الاَئِمّہ، امام الحرم حضرت سیّدنا شیخ عبدُاللہ ابو الخیر مِرداد مکّی حنفی قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت1285ھ کو مکّہ شریف میں ہوئی اور شہادت طائف میں (غالباً یکم صفر) 1343ھ کو ہوئی۔ آپ جید عالمِ دین، حنفی فقیہ، مؤرخ، مصنف، مدرس اور مکّہ شریف کی مؤثر شخصیت تھے۔ علمائے مکّہ کے حالات و کرامات پر مشتمل ضخیم کتاب ”نشر النور والزھر“ آپ کی یادگار ہے۔ (مختصر نشر النور والزھر، ص 31، اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکّۂ مکرمہ، ص21،89) (11)مدرسِ حرم، عالمِ باعمل حضرت سیّدنا شیخ سیّد ابوبکر بن سالم البار مکّی علوی شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت1301 ھ کو مکّۂ مکرمہ کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی اور 2 صَفَرُالْمُظَفَّر 1384ھ کو وصال فرمایا، جنّت المعلیٰ میں مدفون ہوئے۔ آپ قاضیِ شہر، فقیۂ شافعی، استاذُ العلما، مصنف اور شیخِ طریقت تھے۔(الدلیل المشیِر، ص 21، سالنامہ معارف رضا 1999ء، ص200) (12)مدرسِ حرم، قاضیِ مکّۂ مکرمہ حضرت سیّدنا شیخ احمد بن عبدُاللہ  ناضرین  شافعی مکّی قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 1299ھ میں مکّۂ مکرمہ میں ہوئی اور 13 صَفَرُالْمُظَفَّر 1370 ھ کو وصال فرمایا، جنّۃُ المعلٰیمیں دفن کئے گئے۔ آپ بہترین مدرس، علومِ قدیم و جدید کے جامع، صاحبِ تقویٰ و ورع، فقہ شافعی کے فقیہ اور باعمل عالمِ دین تھے۔(الدلیل المشیر، ص 46 تا51) (13)عالمِ باعمل حضرت علّامہ محمود جان خان قادری جام جودھ پوری پشاوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 1255ھ کو پشاور پاکستان میں ہوئی اور 3 صَفَرُالْمُظَفَّر 1370ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک جام جودھ پور (ضلع جام نگر،گجرات) ہند میں ہے۔ آپ عالمِ دین، خطیبِ اہلِ سنّت، شاعرِ اسلام اور جام جودھ پور کی ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ منظوم حیاتِ اعلیٰ حضرت ”ذکرِ رضا“ آپ کی یادگار ہے۔(شخصیات اسلام، ص 136تا138) (14)استاذُ العلما، حضرت مولانا سیّد احمد عالَم قادری رجہتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت موضع بچروکھی نزد رجہت (ضلع نوادہ، بہار) ہند میں ہوئی اور 12 صَفَرُالْمُظَفَّر 1377ھ کو  وصال فرمایا، بسرام پور، تھانہ امام گنج (ضلع گیا، بہار) ہند میں آسودۂ خاک ہیں۔ آپ جید عالِم، مدرس اور قادرُ الکلام واعظ تھے۔(ماہنامہ اعلیٰ حضرت،اپریل 2002ء صد سالہ منظرِ اسلام نمبر قسط:2، ص167) (15)شیخ الواعظین، حضرت مولانا مفتی ابوعبدالقادر محمد عبداللہ کوٹلوی نقشبندی قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت کوٹلی لوہاراں غربی (ضیاءکوٹ،سیالکوٹ) پاکستان میں 1281ھ کو ہوئی اور یہیں 13 صَفَرُالْمُظَفَّر 1342ھ کو وصال فرمایا، عبداللہ شاہ قبرستان میں تدفین ہوئی، آپ عالمِ باعمل، واعظِ خوش بیان، صاحبِ دیوان شاعر اور مصنّف تھے، شعری مجموعہ ”انواع احمدی“ مطبوع ہے۔(اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اور علمائے کوٹلی لوہاراں، ص13،تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، ص83) (16)حافظُ المسائل حضرت علّامہ محمد عبدالکریم نقشبندی رضوی چتوڑی محدث بھیروگڑھی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ، جیدعالمِ دین، واعظ، مدرس، مصنف،  شیخِ طریقت اور فعال عالمِ دین تھے۔ پیدائش چتوڑگڑھ میواڑ (راجستھان) ہند میں ہوئی اور وصال 15 صَفَرُالْمُظَفَّر (غالباً 1342ھ) کو بھیروگڑھ (ضلع اجین، ایم پی) ہند میں ہوا۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص490تا500، ماہنامہ معارفِ رضا دسمبر2014ء، ص20) (17)ابو حنیفہ صغیر، امین الفتویٰ حضرت سیّدنا شیخ سیّد ابو الحسین محمد بن عبدالرحمن مرزوقی مکی حنفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1284 ھ کو مکّۂ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ حافظُ القراٰن، فقیہ حنفی، عہدِعثمانی میں مکّہ شریف کے قاضی، تراویح کے امام اور عہدِ ہاشمی میں وزارتِ تعلیم کے بڑے عہدے پر فائز رہے۔ 25 صَفَرُالْمُظَفَّر 1365ھ کو وصال فرمایا اور جنّۃُ المعلٰی مکّۂ مکرمہ میں تدفین ہوئی۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص80تا83-حسام الحرمین عربی، ص79) (18)تلمیذِ اعلیٰ حضرت، امام السالکین حضرت علّامہ سیّد ابوالفیض قلندر علی گیلانی سہروردی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی پیدائش 1312ھ میں کوٹلی لوہاراں شرقی (ضلع ضیا کوٹ، سیالکوٹ) پاکستان میں ہوئی۔ آپ جیّد عالمِ دین، فاضلِ دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی، بہترین خطیب، صاحبِ تصنیف اور صاحبِ کرامت شیخِ طریقت تھے۔ 27 صَفَرُالْمُظَفَّر 1377ھ کو وصال فرمایا، مزارمبارک ہنجروال (ملتان روڈ) مرکزالاولیاءلاہور میں ہے۔(تذکرہ مشائخ سہروردیہ قلندریہ ص234تا289، تذکرہ علمائے اہلسنت وجماعت لاہور، ص302) (19)استاذُ العلما، حضرت مولانا رحم الٰہی منگلوری مظفر نگری قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت منگلور (ضلع مظفر نگر، یو پی) ہند میں ہوئی۔ آپ ماہرِ معقولات عالم، صدر مدرس اور مجازِ طریقت تھے۔ آپ نے بحالتِ سفر آخر (غالباً28) صَفَرُالْمُظَفَّر 1363ھ کو وصال فرمایا۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص138)


Share