اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  ، علمائے اسلام  رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام

اپنے بزرگوں کو یاد رکھئے

*مولانا ابو ماجد محمد شاہد عطّاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ اکتوبر 2023

ربیعُ الآخر اسلامی سال کا چوتھا مہینا ہے۔ اس میں جن اَولیائے کرام اور علمائے اسلام کا وصال ہوا ، ان میں سے 81 کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ ربیعُ الآخر 1439ھ تا 1444ھ کے شماروں میں کیا جاچکا ہے۔ مزید12 کا تعارف ملاحظہ فرمائیے :

اولیائے کرام رحمہم اللہ السَّلام :

 ( 1 ) امام برحق حضرت ناصحُ الدّین ابومحمد ابدال حسنی رحمۃُ اللہ علیہ کی ولادت چشت میں یکم محرم 331ھ اور وفات بھی یہیں ایک قول کے مطابق 4ربیعُ الآخر 421ھ میں ہوئی ، آپ مادر زاد ولی ، کثیرُ الفیض اور جہادِ ہند میں عملی طور پر حصہ لینے والوں میں سے تھے ، سلطان محمود غزنوی آپ کا مُعْتَقِد تھا۔[1]

 ( 2 ) عالم و عارف حضرت سیّد شمسُ الدّین صحرائی سمرقندی رحمۃُ اللہ علیہ کی ولادت فیروزآباد  ( صوبہ فارس ، ایران )  کے سادات گھرانے میں 17رمضان 678ھ کو ہوئی اور 15 ربیعُ الآخر 784ھ کو صحراء سمرقند ازبکستان میں وصال فرمایا ، مزار یہیں ہے۔ آپ عالمِ دین ، سلسلۂ قادریہ کے شیخِ طریقت اور استاذُ العلماء تھے۔ آپ نے صحراء شہر میں خانقاہ و دارُالعلوم بنایا اور ساری زندگی ترویج علم و تصوف میں مصروف رہے۔[2]

 ( 3 ) حضرت بندگی شیخ ابوسعید گنگوہی رحمۃُ اللہ علیہ قطبِ عالَم خواجہ عبدالقدوس گنگوہی کے پوتے ، حضرت جلالُ الدّین تھانیسری کے نواسے اور حضرت خواجہ نظامُ الدّین بلخی  رحمۃُ اللہ علیہم کے خلیفہ تھے ، آپ کی ولادت 14شعبان 959ھ اور وصال یکم ربیعُ الآخر 1043ھ کو ہوا ، مزار گنگوہ ، ضلع انبالہ ، مشرقی پنجاب ، ہند میں ہے ، آپ کثیرالمجاہدہ ، نورانی چہرے والے اور ہزاروں افراد کے شیخِ طریقت تھے ، مغلیہ بادشاہ نورُالدّین محمد جہانگیر آپ کا مریدتھا۔ [3]

 ( 4 ) شیخُ الوقت حضرت مولانا سیّد عبدالرحمٰن کاظمی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش مشہور شیخِ طریقت حضرت حاجی سیّد حسن بیجاپوری کے گھرمیں ہوئی۔ آپ عالمِ دین اور ولیِ کامل تھے۔ نفس رحمانی آپ کی تصنیف ہے۔ آپ کا وصال 11ربیعُ الآخر 1119ھ کو ہوا۔ مزار مبارک متصل جامع مسجد بیجاپور ریاست کرناٹک ، ہند میں ہے۔[4]

 ( 5 ) شیخُ العالَم حضرت مولانا عبد الباقی فرنگی محلی مہاجر مدنی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 1286ھ کو فرنگی محل لکھنؤ یوپی ہند میں ہوئی۔ آپ کا وصال مدینۂ منوّرہ میں 4ربیعُ الآخر1364ھ میں ہوا۔ تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔ آپ ماہرِ علوم و فنون مدرس ، استاذُالعلماء ، شیخِ طریقت اور بانی المدرسۃ النظامیۃ المدینۃ المنورۃ تھے۔ آپ قطبِ مدینہ مولانا ضیاءُ الدّین مدنی کے مشائخ میں سے تھے۔[5]

 ( 6 ) فخرالمشائخ حضرت مولانا پیر سیّد مسعود احمد رضوی رحمۃُ اللہ علیہ کی ولادت اندازاً 1351ھ کو لاہورمیں ہوئی ، آپ طویل عمرپاکریکم ربیعُ الآخر 1436ھ فوت ہوئے۔تدفین دارُالعلوم حزب الاحناف لاہور میں والد صاحب مفتیِ اعظم پاکستان ، خلیفۂ اعلیٰ حضرت علّامہ شاہ ابوالبرکات سیّد احمد قادری کے پہلو میں جانبِ مشرق ہوئی۔ آپ عالمِ دین ، پیرِ طریقت اور ناظم دارُالعلوم حزب الاحناف تھے۔[6]

علمائے اسلام رحمہم اللہ السَّلام :

 ( 7 ) ولیِ کامل حضرت ابوسلیمان حَمدبن محمد بستی خطابی شافعی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 319ھ بست ( صوبہ ہلمند ، افغانستان )  میں ہوئی اوریہیں 16ربیعُ الآخر388ھ کو وصال فرمایا ، آپ محدث العصر ، فقیہ شافعی ، عالم کبیر ، عابد و زاہد اور مصنف کتب تھے ، حصولِ علمِ دین کے لئے حجاز مقدس ، بغداد ، بصرہ ، خراسان ، نیشاپور اور بلادِ ما وراء النہرکے اَسفار کئے ، ایک درجن سے زائدکتب میں شرح صحیح بخاری اعلام السنن ، شرح سنن ابوداؤد معالم السنن اورغریب الحدیث مشہور ہیں۔[7]

 ( 8 ) محدثِ وقت حضرت شیخ ابومحمد انجب بن ابوسعادت حامی بغدادی رحمۃُ اللہ علیہ کی ولادت محرم 554ھ میں ہوئی اور 19 ربیعُ الآخر635ھ کو وصال فرمایا ، آپ شیخ معمر ، کثیرالحدیث ، روایت سے محبت رکھنے والے ، فقر کے باوجود خوددار ، صبر کے پیکر ، حسن اخلاق کے مالک اورصدوق راویِ حدیث تھے ، آپ سے محدثین کی ایک جماعت نے سماعتِ حدیث کرنے کا شرف پایا۔[8]

 ( 9 ) امام العصرحضرت شیخ عبداللہ بن محمد بن محی الدین عبدالقادر نحراوی رحمۃُ اللہ علیہ نے اپنےوالداوردیگرعلمائے کرام سے علوم اسلامیہ حاصل کئے ، آپ عظیم عالمِ دین ، فقیہِ زمانہ اور اصحابِ تخریج میں سے تھے ، زندگی بھردرس وتدریس اور فتاویٰ نویسی میں گزارا ، خلقِ کثیرنے استفادہ کیا ، آپ نے مصر میں تقریباً پچاس سال کی عمرمیں ربیعُ الاوّل یا ربیعُ الآخر 1026ھ کو وصال فرمایا۔[9]

 ( 10 ) یادگارِاسلاف حضرت مولانا امجدعلی بلیغ کاکوروی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش شوال1242ھ کو ایک علمی گھرانے میں ہوئی اور 8 ربیعُ الآخر1334ھ کو وصال فرمایا۔خانقاہِ کاظمیہ کاکوروی ، یوپی ، ہند میں تدفین ہوئی۔آپ جامع معقول و منقول ، جید عالمِ دین ، نیک و متقی ، محقق ، ادیب اور شاعر تھے۔ علمی و روحانی فیضان حضرت شاہ تقی علی قلندر سے پایا۔ آپ صاحب ثروت اور غریب پَرْوَرتھے۔ تاریخِ کابل ، کشکول ، ذخیرہ اور اختراعنامہ سلطانی آپ کی کتب ہیں۔[10]

 ( 11 ) استاذُالعلماء ، تلمیذِ خلیفہ اعلیٰ حضرت علّامہ مولانا قاضی غلام محمود ہزاروی رحمۃُ اللہ علیہ 1335ھ کو کھلابٹ  ( ضلع ہری پور )  کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے اور 16ربیعُ الآخر 1412ھ کو ہری پور  ( KPK )  میں وصال فرما گئے ، آپ کا مزار مبارک جامعہ صدیقیہ فیضُ العلوم ، ہری پور بالمقابل ٹیلی کم سٹاف کالج خان پور روڈ کے ایک گوشے میں ہے۔ آپ جید عالمِ دین ، شیخُ القرآن و الحدیث ، مناظر و محقق اہلِ سنّت ، شیخ الحدیث و التفسیر ، جامع مسجد عیدگاہ جہلم و جامع مسجد گلزارِ مدینہ حسن ابدال کے خطیب ، سلسلۂ قادریہ کے شیخِ طریقت اور مصنفِ کتبِ کثیرہ تھے۔[11]

 ( 12 ) حضرت مولانا مفتی محمدحسین چشتی ہزاروی رحمۃُ اللہ علیہ کی ولادت موضع جونیاں ( دریائےسرن کے کنارے )  ضلع ایبٹ آباد کے ایک زمین دار گھرانے میں1327ھ کو ہوئی اور 13 ربیعُ الآخر 1416ھ کو جہاں پیدا ہوئے وہیں وصال فرمایا۔ آپ تلمیذ علامہ سیّد دیدار علی شاہ وصدرالشریعہ و حجۃ الاسلام ، فاضل منظراسلام بریلی ، مریدِ پیر مہر علی شاہ ، استاذالعلماء ، جامع مسجدبیڑہری پور کے خطیب ، مفتی علاقہ اور عالم باعمل تھے۔[12]

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ ( دعوتِ اسلامی )



[1] اقتباس الانوار ، ص285 تا 296-خزینۃ الاصفیاء ، ص 43

[2] تذکرہ مشائخ قادریہ فاضلیہ ، ص104 ، 105

[3] حقیقت گلزارصابری ، ص540 ، انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ، 3 / 111

[4] تذکرۃ الانساب ، ص 212

[5] تذکرہ علمائے اہل سنت ، ص172

[6] اُردو پوائنٹ اخبار ، 22جنوری 2015ء ، سوانح حیات خاندان رضویہ برکاتیہ ، ص28

[7] معالم السنن ، 1 / 13تا21 ، الامام الخطابی ومنھجہ فی العقیدہ ، ص25تا28

[8] سیراعلام النبلاء ، 16 / 324

[9] خلاصۃ الاثر ، 3 / 66

[10] تذکرہ مشاہیر کاکوروی ، ص45تا50

[11] تذکرہ بابِ علوم رئیس العلماغلام محمودہزاروی ، ص8تا30

[12] تذکرہ علماء اہل سنت ایبٹ آباد ، ص398تا401


Share