حضرت سیدنا شعیب علیہ السّلام (قسط:01)

سیرت انبیائےکرام

حضرت سیدناشعیب علیہ السّلام (قسط:01)

*مولانا ابو عبید عطاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ جنوری 2024ء

اللہ پاک نے اپنے ایک بہت پیارے نبی علیہ السَّلام کی طرف وحی بھیجی: جب صبح ہوتو سفر پر نکل جانا، سب سے پہلی چیز جو ملے اسے کھا لینا، دوسری چیز کو دفن کردینا، تیسری چیز ملے تو اسےاپنےپاس رکھ لینا، چوتھی چیز ملے تو اسے کوئی چیز کھلادینا، اگلے دن نبی علیہ السَّلام کو سب سے پہلے جو چیز ملی وہ ہوا میں ایک اونچا پہاڑ تھا، آپ نے دل میں کہا: میں اس پہاڑ کو کیسے کھا سکتا ہوں؟ میں تو اس کی طاقت نہیں رکھتااچانک وہ پہاڑ سکڑنا شروع ہوگیا یہاں تک کہ وہ ایک میٹھی کھجور کی طرح ہوگیا، آپ نےاسے کھالیا، آگے بڑھے تو راستے کے بیچ میں کسی نے برتن پھینکا ہوا تھا، آپ نے ایک گڑھا کھودا اور اسے دفن کردیالیکن وہ باہر نکل آیا آپ نے جب جب اسے دفنایا وہ خود ہی باہر آجاتا آخر کار آپ نے اسے ویسے ہی چھوڑدیا اور آگے بڑھ گئے، کچھ آگے ایک کبوتری نظر آئی آپ نے اسے اپنی آستین میں رکھ لیا، مزید آگے بڑھے تو ایک عقاب نظر آیا جو کسی انڈے وغیرہ کو توڑ کر اس میں سے گوشت نوچنا چاہتا تھا آپ نے ایک چھری نکالی تاکہ اس کبوتری کو ذبح کرکے اس کا گوشت اس عقاب کو کھلادیں، اچانک ایک فرشتے نے پیچھے سے آواز دی: میں ایک فرشتہ ہوں، اللہ پاک نے مجھے آپ کےپاس بھیجا ہے تاکہ میں آپ کو ان باتوں کے بارےمیں خبر دوں، وہ پہاڑ جس کو کھانے کا حکم ملا تھا، وہ غصہ ہے جب آپ اسے بھڑکاتے ہیں تووہ بھڑک جاتا ہے اور ایک بڑے پہاڑ جیسا ہوجاتا ہے کہ جسے نگلنے کی آپ طاقت نہیں رکھتے اور نہ اسے اٹھائے رکھنے کی سکت رکھتے ہیں اور اگر آپ اسے پرسکون رکھیں گے تو وہ ساکن رہے گا یہاں تک کہ ایک کھجور کے برابر ہوجائے گا آپ اس کے کھانے کو اچھا جانیں گے اور اس کے ختم ہوجانے پر اللہ کریم کی حمد و ثنا کریں گے، راستے میں پھینکا ہوا برتن لوگوں کے اعمال ہیں جو اچھا عمل کرے گا اللہ اسے ظاہر کردے گا یہاں تک کہ لوگوں میں وہ مشہور ہوجائے گا اور جو برا عمل کرے گا اللہ اسے بھی ظاہر کردے گا یہاں تک کہ لوگوں میں مشہور ہوجائے گا، اور وہ کبوتری جسے پناہ میں لینےکا حکم دیا تھا وہ صلۂ رحمی ہے آپ کے قریبی یا دور والے رشتہ دار اگر وہ آپ سے قطع تعلقی کریں تو آپ ان سے صلۂ رحمی کیجئے، بہرحال وہ عقاب جسے کھلانےکا حکم دیا تھا وہ نیکی اور بھلائی ہے اسے اہلِ خانہ و دیگر حضرات تک پہنچائیے اور حقدار و غیر حقدار کے ساتھ خوب بھلائی سے پیش آئیے۔([1])

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک کے یہ پیارے نبی ایک قول کے مطابق حضرت سیدنا شعیب علیہ السَّلام تھے،آئیے حضرت شعیب کی سیرتِ مبارکہ کے کچھ نورانی اور بابرکت پہلوؤں کامطالعہ کیجئے اور اپنےلئے راہِ نجات کا سامان کیجئے۔

مختصر سیرت:حضرت شعیب علیہ السَّلام حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی اولاد سے ہیں، آپ کی دادی حضرت لوط علیہ السَّلام کی بیٹی تھیں([2]) آپ کا زمانہ حضرت ہود، حضرت صالح اور حضرت یوسف کے بعد کا ہے اور حضرت موسیٰ سے کچھ پہلے کا ہے علیہم السَّلام۔([3]) آپ کا شہر ’’مدین‘‘ تبوک کے مَحاذ(یعنی سامنے کی طرف) میں بحراحمر کے ساحل پر واقع ہے([4])اور مصر سے آٹھ منزل (تقریباً 144 میل) کے فاصلہ پر ہے۔([5])آپ کافی مالدار تھے۔([6]) جانور پالتے اور ان کے دودھ سے معا ش حاصل کرتے تھے۔([7]) بلکہ اپنی بکریاں خود چَرایا کرتے تھے([8]) کتابوں میں آپ علیہ السَّلام کی صرف دو بیٹیوں کا تذکرہ ملتا ہے ایک کا نام صَفُوْرَہ جبکہ دوسری  کا نام شَرْقَاء تھا۔([9]) جب آپ ضعیف ہوگئے اور بکریاں چرانے کے لئے کوئی قابل اعتماد خادم نہ ملا تو آپ کی دونوں بیٹیوں نے اس کام کو سنبھال لیا لہٰذا دونوں بیٹیاں بکریوں کو چراگاہ لے جاتی تھیں۔([10]) واپسی میں ایک کنویں کے قریب اپنی بکریوں کو لے آتی تھیں، وہاں مرد حضرات کنویں سے پانی نکال کر اپنے جانوروں کو سیراب کرتے تھے، لیکن نبی کی یہ دونوں پاکیزہ اور عفت مآب بیٹیاں مَردوں سے دور کھڑی ہوجاتیں اور مردوں کے جانے کا انتظار کرتی رہتیں، جب وہ لوگ چلے جاتے تو آگے بڑھتیں اور بچا کھچا پانی اپنی بکریوں کو پلاتی تھیں اور گھر واپس لوٹ آتیں، مصر سے حضرت موسیٰ علیہ السّلام تشریف لائے تو دیکھا کہ 2 خواتین اپنی بکریوں کے ساتھ مَردوں سے الگ تھلگ کھڑی ہیں، وجہ پوچھنے پر حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے قریب دوسرے کنویں کے منہ پر سے بھاری پتھر ہٹا یا اور اس میں سے پانی کھینچ کر بکریوں کو سیراب کردیا، دونوں بیٹیوں نے گھر جاکر حضرت شعیب سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو حضرت شعیب نے حضرت موسیٰ کو گھر لانےکاارشاد فرمایا، والد صاحب کے حکم پر ایک صاحب زادی اپنا جسم چھپائے ہوئے چہرہ آستین سے ڈھانپے ہوئے شرم حیا اور پردہ و وقار کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے حضرت موسیٰ کے پاس پہنچیں اور والد صاحب کا پیغام پہنچایا حضرت موسیٰ حضرت شعیب کی زیارت اور ان سے ملاقات کرنے کے ارادے سے چل دئیے، پہلے عفت مآب صاحب زادی آگے چل رہی تھیں اور حضرت موسیٰ پیچھے چل رہے تھے، لیکن پھر حضرت موسیٰ نے مزید پردےکے اہتمام کےلئے حضرت شعیب کی بیٹی سے فرمایا: آپ میرے پیچھے رَہ کر راستہ بتاتی جائیے۔ اس طرح حضرت موسیٰ حضرت شعیب کے پاس تشریف لےآئے۔([11])

حضرت شعیب نے حضرت موسیٰ کو اپنے ساتھ کھانا کھلایا اور پھر بکریاں چرانےکی ذمہ داری دی اور ایک بابرکت عصا ان کے سپرد کیا، یہ جنتی عصا تھا جسے حضرت آدم علیہ السَّلام اپنےساتھ جنت سے لائےتھے۔([12]) یہ عصا مبارک سرخ رنگ کا تھا۔([13]) حضرت موسیٰ نے کئی برس تک حضرت شعیب علیہ السَّلام کے پاس اقامت فرمائی اور ان کی بکریوں کی دیکھ بھال کرتے، انہیں چراتے اوردیگر کاموں میں حضرت شعیب کاہاتھ بٹاتے رہے،آپ نے اپنی ایک صاحبزادی حضرت صفورہ یا شرقاء کے ساتھ حضرت موسیٰ کا نکاح کردیا۔([14]) حضرت شعیب علیہ السَّلام کا ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ آپ نے حضرت موسیٰ کو کچھ بکریاں تحفے میں دے کر کہا:یہ بکریاں سفید اور سیاہ بچے جنیں گی۔ چنانچہ جیسے آپ نے کہا تھا ویسے ہی ہوا۔([15]) آپ ان صحائف کو پڑھا کرتےتھے جو اللہ کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السّلام پر نازل فرمائے تھے۔([16]) ایک قول کے مطابق آپ کو بھی صحائف عطا ہوئے تھے۔([17])

قومِ شعیب:حضرت شعیب علیہ السَّلام دو قوموں کی جانب رسول بناکر بھیجے گئے (1)اہل مَدْیَن اور(2) اصحابُ الْاَیْکہ([18]) آپ نےاپنی قوم کو انتہائی بہترین طریقے سے دعوتِ دین دی اور دعوتِ دین دینے میں نرمی اور مہربانی کو پیشِ نظر رکھا اسی وجہ سے رسولِ کریم پیارے آقا محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب بھی حضرت شعیب کا ذکرِ خیر کرتے تو فرماتے: وہ خطیبُ الانبیاء ہیں۔([19]) آپ علیہ السَّلام سارا دن وعظ فرماتے اور ساری رات نماز میں گزارتے تھے۔([20]) ایک روایت میں ہے کہ آپ بہت زیادہ نماز پڑھا کرتےتھے، جب آپ کی قوم آپ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتی تو مذاق اڑاتی اور ہنستی تھی۔([21]) آپ نے لوگوں کو اللہ وَحْدَہٗ لاشریک کی عبادت کی طرف بلایا اور ناپ تول میں کمی اور راستے میں مسافروں کو ڈرانے سے منع کیا، جس کے سبب بعض خوش نصیب لوگ ایمان لے آئے مگر زیادہ تر لوگوں نے کفر کیا([22]) اور اپنے طغیان و عصیان کا مظاہرہ اور اپنی سرکشی کا اظہار کرتے ہوئے آپ کے ساتھ بے ادبی اور بدزبانی کی آخر کار دونوں قومیں عذابِ الٰہی سے ہلاک کردی گئیں۔ ’’اصحابِ مدین‘‘ پر تو یہ عذاب آیا کہ فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ یعنی حضرت جبرائیل علیہ السَّلام کی چیخ اور چنگھاڑ کی ہولناک آواز سے زمین دہل گئی اور لوگوں کے دل خوف ِ دہشت سے پھٹ گئے اور سب بہت جلد موت کے گھاٹ اُتر گئے۔([23]) جبکہ اَیْکہ والوں پر سیاہ بدلی سے آگ برسا ئی گئی جس سے وہ سب جل بھن گئے۔([24])                                                                                                                                                                                           (بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغُ التحصیل جامعۃُ المدینہ، شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])اسد الغابہ،5 /277- فنون العجائب للنقاش، ص53

([2])خازن،2/118، الاعراف:85

([3])اعلام للزرکلی، 3/165- البدایۃ والنہایۃ،1/274

([4])سیرت مصطفی، ص41

([5])صراط الجنان، 6/198

([6])تفسیر کبیر، 6/388، ھود، تحت الآیۃ:88

([7])اسلامی زندگی،ص143

([8])المنتظم فی تاریخ الملوک والامم،1/326

([9])مستدرک، 3/175، حدیث:3583

([10])لطائف الاشارات للقشیری، 2/433

([11])بیضاوی،3/289-خازن،3/429-تفسیر ثمر قندی،2/514،القصص، تحت الآیۃ:23تا 25

([12])تفسیرقرطبی،جز 11،6 /91

([13])نہایۃ الارب، 13/160

([14])مستدرک، 3/175، حدیث:3583

([15])صراط الجنان،3/371

([16])تاریخ ابن عساکر،23/78

([17])سیرت حلبیہ،1/314

([18])تفسیرطبری، 9/473، الشعراء:189

([19])نوادر الاصول، 4/60

([20])صراط الجنان، 4/481

([21])تفسیر کبیر، 6/387، ھود:87

([22])البدایۃ والنہایۃ،1/267

([23])عجائب القراٰن،ص353

([24])تفسیرطبری، 9/473، الشعراء:189


Share