قربانی کا بیان

اضحیہ یعنی قربانی کا بیان

مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیت تقرب ذبح کرنا قربانی ہے اور کبھی اوس جانور کو بھی اضحیہ اور قربانی کہتے ہیں جو ذبح کیا جاتا ہے۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جو اس امت کے لیے باقی رکھی گئی اور نبی کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّمکو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا، ارشاد فرمایا:

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲)( پ۳۰،الکوثر:۲)

’’تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔‘‘

مسائل فقہیہ

قربانی کئی قسم کی ہے۔

1: غنی اور فقیر دونوں پر واجب،

2: فقیر پر واجب ہو غنی پر واجب نہ ہو،

3: غنی پر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو۔

1: دونوں پر واجب ہو اوس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کی منت مانی یہ کہا کہ اﷲ (عزوجل) کے لیے مجھ پر بکری یا گائے کی قربانی کرنا ہے یا اس بکری یا اس گائے کو قربانی کرنا ہے۔

2: فقیر پر واجب ہو غنی پر نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ فقیر نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہے اور غنی اگر خریدتا تو اس خریدنے سے قربانی اوس پر واجب نہ ہوتی۔

3: غنی پر واجب ہو فقیر پرواجب نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کا وجوب نہ خریدنے سے ہو نہ منت ماننے سے بلکہ خدا نے جو اسے زندہ رکھا ہے اس کے شکریہ میں اور حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی سنت کے اِحیا میں ([1])جو قربانی واجب ہے وہ صرف غنی پر ہے(عالمگیری)۔(الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الأضحیۃ،الباب الاوّل فی تفسیرھا۔۔۔إلخ،ج۵،ص۲۹۱،۲۹۲)(بہارِ شریعت، ج۳، ص۳۲۷ تا ۳۳۱)


[1] ۔۔۔ یعنی سنت ابراہیمی کو قائم رکھنے کے لیے۔

Share

Comments


Security Code