حج کی سنتیں

(حج کی سنتیں)

1 طوافِ قدوم یعنی میقات کے باہر سے آنے والا مکہ معظمہ میں حاضر ہو کر سب میں پہلا جو طواف کرے اُسے طواف قدوم کہتے ہیں۔ طواف قدوم مفرد اور قارِن کے لیے سنت ہے، متمتّع کے لیے نہیں۔

2 طواف کا حجرِ اسود سے شروع کرنا۔

3 طواف قدوم یا طوافِ فرض میں رَمَل کرنا۔

4 صفا و مروہ کے درمیان جو دو میل اخضر ہیں، اُن کے درمیان دوڑنا۔

5 امام کا مکّہ میں ساتویں کو اور

6 عرفات میں نویں کو اور

7 منیٰ میں گیارہویں کو خطبہ پڑھنا۔

8 آٹھویں کی فجر کے بعد مکّہ سے روانہ ہونا کہ منیٰ میں پانچ نمازیں پڑ ھ لی جائیں۔

9 نویں رات منیٰ میں گزارنا۔

10 آفتاب نکلنے کے بعد منیٰ سے عرفات کو روانہ ہونا۔

11 وقوف عرفہ کے لیے غسل کرنا۔

( 12) عرفات سے واپسی میں مزدلفہ میں رات کو رہنا اور

( 13) آفتاب نکلنے سے پہلے یہاں سے منیٰ کو چلا جانا۔

( 14) دس اورگیارہ کے بعد جو دونوں راتیں ہیں اُن کو منیٰ میں گزارنا اور اگر تیرھویں کو بھی منیٰ میں رہا تو بارھویں کے بعد کی رات کو بھی منیٰ میں رہے۔

( 15) ابطح یعنی وادی محَصَّب میں اُترنا، اگرچہ تھوڑی دیر کے لیے ہو اور اِن کے علاوہ اور بھی سنتیں ہیں، جن کا ذکر اثنائے بیان میں آئے گا۔ نیز حج کے مستحبات ومکروہات کا بیان بھی موقع موقع سے آئے گا۔

اب حرمین طیبین کی روانگی کا قصد کرو اور آداب سفر و مقدماتِ حج جو لکھے جاتے ہیں اُن پر عمل کرو۔(بہارِ شریعت ،جلد اول،حصہ۶،صفحہ۱۰۵۰ ، ۱۰۵۱)

Share