حج کا طریقہ (حنفی)

حج کا طریقہ

حج کا اِحرام باندھ لیجئے: اگر آپ نے ابھی تک حج کااِحْرام نہیں باندھا تو8 ذُوالْحِجَّہکو بھی باندھ سکتے ہیں مگرسَہولت 7کو رہے گی کیوں کہ مُعلِّم اپنے اپنے حاجیوں کو ساتویں کی عشاء کے بعد سے مِنٰی شریف پہنچانا شُروع کر دیتے ہیں ۔ مسجدِ حرام میں غیر مکروہ وَقْت میں اِحْرام کے دونَفْل ادا کر کے معنیٰ پر نظر رکھتے ہوئے اس طرح حج کی نیَّت کیجئے:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اُرِیْدُ الْحَجَّ ط فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْہُوَاَعِنِّیْ عَلَیْہِ وَبَارِِِِِِکْ لِیْ فِیْہِ ط نَوَیْتُ الْحَجَّ وَاَحْرَمْتُ بِہٖ لِلّٰہِ تَعَالٰی ط

اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !میں حج کا ارادہ کرتا ہوں تُو میرے لئے اِسے آسان کر اور مجھ سے قَبول فرما اوراِس میں میری مددکر اور میرے لئے اِس میں بَرَکت دے ، نیّت کی میں نےحج کی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اِس کا اِحرام باندھا۔

نیَّت کے بعد اِسلامی بھائی بُلند آواز سے اور اِسلامی بہنیں دِھیمی آواز میں تین تین مرتبہ لَبَّیْک پڑھیں ۔اب ا یک بار پھر آپ پر اِحرام کی پابندیاں عائد ہوگئیں ۔

ایک مُفید مشورہ: اگرآپ چاہیں توایک نَفلی طَواف میں حج کے اِضْطِباع، رَمَل اور سَعْی سے فارِغ ہو لیجئے ، اِس طرح طَوافُ الزِّیارَۃ میں آپ کو رَمَل اور سَعْی کی ضَرورت نہیں رہے گی۔مگر یہ ذِہن میں رہے کہ7اور8کو بھیڑ بَہُت زیادہ ہوتی ہے، نیز 10 کو طَوافُ الزِّیارَۃمیں بھی کافی ہُجُوم ہوتا ہے البتّہ 11اور 12کے طَوافُ الزِّیارَۃ میں رَش میں کمی آجاتی ہے اورسَعْی میں بھی قدرے آسانی رہتی ہے۔

مِنٰی کو روانگی: آج آٹھویں شب ہے،بعدِ نَمازِ عشاء ہر طرف دُھوم پڑی ہے، سب کو ایک ہی دُھن ہے کہ مِنٰی چلو! آپ بھی تیّار ہوجائیے ،اپنی ضَرورِیات کی اَشیاء مَثَلاً تسبیح، مُصلّٰی، قِبلہ نُما،گلے میں لٹکانےوالی پانی کی بوتل،ضَرورت کی دوائیں ، مُعلِّم کا ایڈریس اوریہ تو ہر وَقْت ساتھ ہی ہونا چاہیے تاکہ راستہ بھول جانے یا مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ حادِثے یا بے ہوشی کی صُورت میں کام آئے۔ اگر حَجَّنیں ساتھ ہیں تو سبزیاکسی بھی نمایاں رنگ کے کپڑے کا ٹکڑا ان کے سر کی پچھلی جانِب بُرقع میں سی لیجئے،تاکہ بھیڑ بھاڑ میں پہچان ہو سکے، راہ چلتے خُصُوصاً رَش میں انہیں اپنے آگے رکھئے اگر آپ آگے رہے اور یہ زیادہ پیچھے رہ گئیں تو بچھڑ سکتی ہیں ۔ اَخراجات برائے طَعام وقُربانی وغیرہ وغیرہ ساتھ لینا نہ بھولئے ، چولھا نہ لیجئے کہ وہاں مَنْع ہے۔ اگر ممکن ہوتو مِنٰی، عَرَفات،مُزْدَلِفہ وغیرہ کا سفر پیدل ہی طے کیجئے کہ جب تک مَکَّہ شریف پلٹیں گے ہر قدم پر سات کروڑ نیکیاں ملیں گی ۔ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیۡمِ۔ راستے بھر لَبَّیْک اورذِکر و دُرُود کی خوب خوب کثرت کیجئے۔ جُوں ہی مِنٰی شریف نظر آئے دُرُود پاک پڑھ کر یہ دُعا پڑھئے:

اَللّٰھُمَّ ھٰذِہٖ مِنًی فَامْنُنْ عَلَیَّ بِمَا مَنَنْتَ بِہٖ عَلٰی اَوْلِیَائِکَ ط

ترجمہ: اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! یہ منٰی ہے مجھ پر وہ اِحسان فرما جوتُو نے اپنے اولیاء پر فرمایا۔

اے لیجئے!اب آپ مِنٰی شریف کی حسین وادیوں میں داخِل ہوگئے، مرحبا! کس قَدَر دِلکُشا منظَر ہے، کیازمین، کیاپہاڑ، ہر طرف خیموں کی بہار ہے۔ آپ بھی اپنے مُعلِّم کی طرف سے دیئے ہوئے خَیمے میں قِیام فرمائیے۔ 8کی ظُہر سے لے کر کل نویں کی فَجر تک پانچ نَمازیں آپ کو مِنٰی شریف میں ادا کرنی ہیں کیوں کہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایسا ہی کیا ہے۔

منٰی شریف میں پہلے دن جگہ کیلئے لڑائیاں : مِنٰی شریف کی آج کی حاضِری عظیم عبادت ہے، اور لاکھوں لاکھ حُجّاج اِس عبادت کیلئے جمع ہو گئے ہیں ، اس لیے شیطان بھی ایک دم بپھرا ہوا ہے اور بات بات پر حاجیوں کو غُصّہ دلا رہا ہے، اِس کا یوں بھی اظہار ہو رہا ہے کہ خیموں میں جگہ کیلئے بعض حُجّاج اُلجھنے اور شورشَرابے میں مشغول ہیں ۔ آپ شیطان کے وار سے ہوشیار رہئے اگر کوئی حاجی صاحِب آپ کی جگہ پر واقِعی قابِض ہو گئے ہیں تو ہاتھ جوڑ کرنرمی سے ان کو سمجھایئے اگر وہ نہیں مانتے اور آپ کے پاس کوئی مُتَبادِل(مُ۔تَ۔بادِل) جگہ بھی نہیں تو جھگڑنے کے بجائے مُعلِّم کے آدَمی کو طلب فرما لیجئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ بَہَرحال آپ کو دل بڑا رکھنا اور اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے مہمانوں کے ساتھ نرمی اور در گزر سے کام لینا ہے، آج کا دِن بَہُت اَہم ہے ہو سکتا ہے کچھ لوگ گپ شپ کر رہے ہوں ،مگر آپ اپنی عِبادت میں لگے رہئے، ہو سکے تو ان کو نیکی کی دعوت دیجئے کہ یہ بھی ایک اعلیٰ دَرَجے کی عبادت ہے۔ آج آنے والی رات شبِ عَرَفہ ہے، ممکن ہو تو یہ رات ضَرور عبادت میں گزارئیے کہ سونے کے دِن بَہُت پڑے ہیں ، ایسے مَواقِع بار بار کہاں نصیب ہوتے ہیں !

دُعائے شبِ عَرَفہ: فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے:جو شخص عَرَفے کی رات میں یہ دعائیں ہزار مرتبہ پڑھے تو جو کچھ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سے مانگے گا پائے گا جب کہ گناہ یاقَطعِ رِحم (یعنی رشتے داری کاٹنے )کا سوال نہ کرے ۔(دُعا یہ ہے:)

سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ عَرْشُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی الْاَرْضِ مَوْطِئُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی الْبَحْرِسَبِیْلُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی النَّارِسُلْطَانُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی الْجَنَّۃِ رَحْمَتُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی الْقَبْرِقَضَائُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی الْھَوَآ ءِ رُوْحُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمَآءَ سُبْحٰنَ الَّذِیْ وَضَعَ الْاَرْضَ سُبْحٰنَ الَّذِیْ لَامَلْجَاءَ وَلَامَنْجٰی مِنْہُ اِلَّا اِلَیْہِط

پاک ہے وہ جس کا عرش بلندی میں ہے۔ پاک ہےوہ جس کی حکومت زمین میں ہے ، پاک ہے وہ کہ جس کا راستہ دریا میں ہے ، پاک ہے وہ کہ نار میں اس کی سلطنت ہے ، پاک ہے وہ کہ جنّت میں اس کی رَحمت ہے، پاک ہے وہ کہ قبر میں اسی کا حکم ہے ، پاک ہے وہ کہ ہوا میں جو روحیں ہیں اسی کی مِلک ہیں ،پاک ہے کہ وہ کہ جس نے آسمان کوبُلند کیا،پاک ہے وہ کہ جس نے زمین کو پَست کیا، پاک ہے وہ کہ اس کے عذاب سے پناہ ونجات کی کوئی جگہ نہیں مگر اُسی کی طرف۔

نَوِیں رات مِنٰی میں گزارنا سنَّتِ مُؤَکَّدہ ہے: راتوں رات مُعلِّموں کی بسیں سُوئے عَرَفات شریف چل پڑتی ہیں اورمِنٰی شریف میں نَویں رات گزارنے کی سُنَّتِ مُؤَکَّدہلاکھوں حاجیوں کی فوت ہو جاتی ہے ۔بہارِ شریعت میں ہے:اگر رات کومِنٰی میں رہا مگر صبحِ صادِق ہونے سے پہلے یا نَمازِ فجر سے پہلے یا آفتاب نکلنے سے پہلے عرفات کو چلا گیا تو بُرا کیا۔(بہارِ شریعت ج۱ ص۱۱۲۰)معلومات کی کمی کے باعِث بے شُمار حُجّاج صبحِ صادِق سے قبل ہی نَمازِ فَجر ادا کر لیتے ہیں !جلد بازی سے کام لینے کے بجائے حاجی صاحِبان اپنے مُعلِّم سے مل کرمِنٰی شریف میں رات گزارنے کی ترکیب بنا لیجئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کیلئے طُلُوعِ آفتاب کے بعد بس کا بندوبَست ہو جائیگا۔

چلو عَرفات چلتے ہیں وہاں حاجی بنیں گے ہم

گنہ سے پاک ہو ں گے لوٹ کے جس دم چلیں گے ہم

عرفات شریف کو روانگی:آج 9ذُوالْحِجَّہکو نَمازِ فجر مُستحب وَقْت میں ادا کر کے لَبَّیک اور ذِکْرودُعامیں مَشغول رہئے یہاں تک کہ سورج طُلوع ہونے کے بعد مسجدِ خَیف شریف کے سامنے واقِع کوہِ ثَبِیر پر چمکے، اب دھڑکتے ہوئے دِل کے ساتھ جانبِ عَرَفات شریف چلئے اور راستے بھرلَبَّیک اور ذِکرو دُرُود کی کثرت رکھئے۔ دل کو خیالِ غیر سے پاک کرنے کی کوشِش کیجئے کہ آج وہ دن ہے کہ کچھ کا حج قبول کیاجائے گا اور کچھ کو انہیں مَقبولین کے طفیل بخشا جائیگا ۔ مَحروم وہ جو آج مَحروم رہا ، اگر وَسوسے آئیں تو اُن سے بھی لڑائی مت باندھئے کہ یوں بھی شیطان کی کامیابی ہے کہ اُس نے آپ کو کسی اور کام پر لگا دیا! بس آپ کی ایک ہی دُھن ہو کہ مجھے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے کام ہے ۔ یوں کرنے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ شیطان ناکام و نامُراد دَفْعْ ہو گا۔

محبت میں اپنی گما یاالٰہی

نہ پاؤں میں اپنا پتا یاالٰہی (وسائلِ بخشش ص ۷۸)

راہِ عرفات کی دُعا

( مِنٰی شریف سے نکل کر یہ دُعا پڑھ لیجئے:)

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا خَیْرَ غُدْوَۃٍ غَدَوْتُھَاقَطُّ وَقَرِّبْھَا مِنْ رِضْوَانِکَ وَاَ بْعِدْھَا مِنْ سَخَطِکَ وَ اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ تَوَجَّھْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَلِوَجْھِکَ الَکَرِیْمِ اَرَدْتُّ فَاجْعَلْ ذَنْبِیْ مَغْفُوْرًا وَّحَجِّیْ مَبْرُوْرًا وَّارْحَمْنِیْ وَلَاتُخَیِّبْنِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْ سَفَرِیْ وَاقْضِ بِعَرَفَاتٍ حَاجَتِیْ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ط

اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !میری اس صبح کو تمام صبحوں سے اچھی بنا دےاور اسے اپنی خوشنودی سے قریب کر اور اپنی ناخوشی سے دور کر۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں تیری طرف متوجہ ہوا اور تجھ پر میں نے تَوَکُّل کیا اورتیرے وَجہِ کریم کا ارادہ کیا تو میرے گناہ بخش اورمیرے حج کو مَبرور کر اور مجھ پر رَحم فرما اور مجھے محروم نہ کراور میرے سفر میں میرے لئے بَرَکت عطا فرما اور عَرَفات میں میری حاجت پوری کر، بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

عرفات شریف میں داخِلہ: اے لیجئے!اب آپ عَرَفات شریف کے قریب آپہنچے، تڑپ جائیے اور آنسوؤں کو بہنے دیجئے کہ عَنقَرِیب آپ اُس مقدَّس میدان میں داخِل ہوں گے کہ جہاں آنے والا مَحروم لوٹتا ہی نہیں ۔ جب نظر جَبَلِ رَحْمت کو چُومے لَبَّیْک ودُعا میں اورزِیادہ کوشِش کیجئے کہ اب جو دُعا مانگیں گے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ قَبول ہوگی۔ دل سنبھالے ، نگاہیں نیچی کئے لَبَّیْککی پَیہم تکرار کرتے ہوئے روتے روتے میدانِ عَرَفاتِ پاک میں داخِل ہوں ۔

سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ !یہ وہ مقدَّس مَقام ہے جہاں آج لاکھوں مسلمان ایک ہی لباس (اِحرام)میں مَلْبُوس جمع ہیں ، ہر طرف لَبَّیْک کی صَدائیں گُونج رہی ہیں ۔ یقین جانئے بے شُمار اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَاماور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دو نبی حضرتِ سیِّدُنا خِضَر اورحضرتِ سیِّدُنا الیاس عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی بروزِ عَرَفہ میدانِ عَرَفاتِ مُبارَک میں تشریف فرما ہوتے ہیں ۔ اب آپ بخوبی آج کے دِن کی اَہَمِیَّت کا اندازہ لگاسکتے ہیں ۔ حضرتِ سیِّدُنا امام جعفرصادق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِق سے مروی ہے: کچھ گناہ ایسے ہیں جن کا کفّارہ وُقُوفِ عَرَفہ ہی ہے۔ (یعنی وہ صِرْف وُقُوفِ عَرَفات سے ہی مٹتے ہیں ) (قوتُ القلوب ج۲ص۱۹۹ )

یومِ عرفہ کے دو عظیم الشّان فضائل: {۱}عرفے سے زیادہ کسی دن میں اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو جہنَّم سے آزاد نہیں کرتا پھر ان کے ساتھ ملائکہ پر مُباہات(یعنی فخر) فرماتا ہے۔(مسلمص ۷۰۳ حدیث ۱۳۴۸ ) {۲} عرفے سے زیادہ کسی دن میں شیطان کو زیادہ صغیر و ذلیل و حقیر اورغَیظ(یعنی سخت غصّے) میں بھرا ہوا نہیں دیکھا گیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دن میں رَحمت کا نُزُول اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بندوں کے بڑے بڑے گناہ مُعاف فرمانا شیطان دیکھتا ہے۔(موطّا امام مالک ج۱ ص ۳۸۶حدیث ۹۸۲)

کسی نے جب عورتوں کو دیکھا: ایک شخص نے عرفہ کے دن عورَتوں کی طرف نظر کی، رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا:’’ آج وہ دن ہے کہ جو شخص کان اور آنکھ اور زَبان کو قابو میں رکھے، اُس کی مغفِرت ہوجائے گی۔‘‘(شُعَبُ الْاِیمان ج۳ ص۴۶۱حدیث ۴۰۷۱)

یا الٰہی حج کروں تیری رِضا کے واسِطے

کر قبول اِس کو محمد مصطَفٰے کے واسطے

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم

عرفات میں کنکروں کوگواہ کرنے کی ایمان افروز حِکایت: حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم واسِطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے ایک بار حج کے موقع پر میدانِ عَرَفات میں سات کنکر ہاتھ میں اٹھائے اور اُن سے فرمایا: اے کنکرو! تم گواہ ہوجاؤ کہ میں کہتا ہوں : ’’ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ‘‘ ترجمہ : اللہ تَعَالٰی کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم) اس کے بندہ ٔخاص اور رسول ہیں ۔پھر جب سوئے تو خواب میں دیکھا کہمَحشر برپا ہے اور حساب کتاب ہورہا ہے، ان سے بھی حساب لیا جاتا ہے اور حُکمِ دوزخ سنایا جاتا ہے، اب فِرِشتے سوئے جہنَّم لیے جارہے ہیں جب جہنَّم کے دروازے پر پہنچتے ہیں تو اُن سات کنکروں میں سے ایک کنکر دروازے پر آکر روک بن جاتا ہے پھر دوسرے دروازے پر پہنچے تو دوسرا کنکر اِسی طرح دروازے کے آگے آگیا، یونہی جہنَّم کے ساتوں دروازوں پر ہوا پھر ملائکہ عرشِ مُعلّٰی کے پاس لے کر حاضِر ہوئے۔ اللہ تَعَالٰی نے ارشاد فرمایا : اے ابراہیم ! تو نے کنکروں کو اپنے ایمان پر گواہ رکھا تو ان بے جان پتَّھروں نے تیرا حقّ ضائِع نہ کیا، تو میں تیری گواہی کا حقّ کیسے ضائِع کرسکتا ہوں ! پھر اللہ تبارَکَ وَتَعالیٰ نے فرمان جاری کیا کہ اسے جنَّت کی طرف لے جاؤ چُنانچِہ جب جنَّتکی طرف لے جایا گیا توجنَّت کا دروازہ بند پایا، کِلمۂ پاک کی گواہی آئی اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجنَّتمیں داخِل ہوگئے۔(دُرۃ الناصحین ص ۳۷)

خوش نصیب حاجیو اور حجّنو!: آپ بھی میدانِ عَرَفات میں سات کنکر اُٹھا کر مذکورہ کلمہ یا کلمۂ شہادت پڑھ کر اُن کو گواہ بنا کر واپَس وَہیں رکھ دیجئے نیز دنیا میں جہاں بھی ہوں موقع ملنے پر دَرَختوں ، پہاڑوں ، دریاؤں ، نہروں اور بارِش کے قطروں وغیرہ وغیرہ کو کلمہ شریف سُنا کر اپنے ایمان کا گواہ بناتے رہئے۔

’’بارانِ رَحمت‘‘کے نُو حُرُوف کی نسبت سے

وُقوفِ عرفات شریف کے 9 مَدَنی پھُول

{۱}جب دوپَہَر قریب آئے تو نہاؤ کہ سُنَّتِ مُؤَکّدہ ہے اورنہ ہو سکے تو صِرْف وُضو۔ (بہارِ شریعت ج۱ ص ۱۱۲۳){۲}آج یعنی9ذُوالْحِجَّہ کو دوپہر ڈھلنے (یعنی نَمازِ ظہر کا وَقت شروع ہونے) سے لے کر دسویں کی صبحِ صادِق کے دَرمِیان جو کوئی اِحرام کے ساتھ ایک لمحے کے لئے بھی عَرَفات ِپاک میں داخِل ہواوہ حاجی ہوگیا، آج یہاں کا وُقوف حج کا رُکنِ اعظم ہے{۳}عَرَفات شریف میں وَقتِ ظُہرمیں ظُہْرو عَصْر مِلاکر پڑھی جاتی ہے [1]؎ مگر اِس کی بعض شرائِط ہیں {۴} حاجی کو آج بے روزہ ہونا اور ہر وَقْت با وُضو رہناسُنَّت ہے{۵}جَبَلِ رَحْمت کے قریب جہاں سیاہ پتّھر کا فرش ہے وہاں وُقُوف کرنا افضل ہے {۶} بعض لوگ ’’جَبَلِ رَحْمت‘‘کے اُوپر چڑھ جاتے اور وہاں سے کھڑے کھڑے رُومال ہلاتے رہتے ہیں ، آپ ایسا نہ کیجئے اور اُن کی طرف بھی دِل میں بُرا خیال نہ لائیے،آج کا دِن اَوروں کے عَیب دیکھنے کا نہیں ،اپنے عَیبوں پرشَرْمْساری اورگِریہ وزاری کا ہے{۷}وُقوف کے لیے کھڑا رہنا افضل ہے شرط یا واجِب نہیں ، بیٹھا رہا جب بھی وُقُوف ہوگیا وُقوف میں نیّت اور رُو بقبلہ ہونا افضل ہے {۸}نمازوں کے بعد فوراً وُقوف کرناسنَّت ہے۔(بہارِ شریعت ج۱ ص ۱۱۲۴ ) {۹} مَوقِف (یعنی ٹھہرنے کی جگہ)میں ہر طرح کے سائے حتّٰی کہ چَھتری لگانے سے بچئے، ہاں جو مجبور ہے وہ معذور ہے۔ (ایضاًص۱۱۲۸)چھتری لگائیں تو مَرْد یہ احتیاط فرمائیں کہ سر سے مَس( TOUCH)نہ ہو ورنہ کفّارے کی صورتیں پیدا ہو سکتی ہیں ۔

اِمامِ اَہلسُنَّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خاص نصیحت: بدنگاہی ہمیشہ حرام ہے نہ کہ اِحرام میں ، نہ کہ مَوقِف یا مسجدُ الحرام میں ،نہ کہ کعبے کے سامنے، نہ کہ طَوافِ بیتُ اللّٰہ میں ۔ یہ تمہارے اِمتِحان کا موقع ہے، عورَتوں کو حُکم دیا گیا ہے کہ یہاں مُنہ نہ چھپاؤ اور تمہیں حُکم دیا گیا ہے کہ اُن کی طرف نگاہ نہ کرو، یقین جانو کہ یہ بڑے عزّت والے بادشاہ کی باندیاں ہیں اور اِس وَقت تم اوروہ سب خاص دربار میں حاضِر ہو، بِلا تَشبِیہ شیر کا بچّہ اُس کی بغل میں ہو اُس وَقت کون اُس کی طرف نگاہ اُٹھا سکتاہے تو اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ واحدِ قہّار کی کنیزیں کہ اُس کے دربارِ خاص میں حاضِر ہیں ، اُن پر بدنگاہی کس قَدَر سخت ہوگی۔ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰىؕ-(ترجَمۂ کنزالایمان:اور اللّٰہ کی شان سب سے بلند ۔(پ ۱۴ ، النحل : ۶۰))ہاں ہاں !ہوشیار!اِیمان بچائے ہوئے، قلب ونگاہ سنبھالے ہوئے، حَرَم(یاد رہے! عرفات حدودِ حرم سے باہَرہے) وہ جگہ ہے جہاں گناہ کے اِرادے سے بھی پکڑا جاتاہے اورایک گناہ لاکھ کے برابر ٹھہرتا ہے۔ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ خیر کی توفیق دے ۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱۰ ص۷۵۰)

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم

گناہوں سے مجھ کو بچا یاالٰہی

بُری عادتیں بھی چُھڑا یاالٰہی (وسائلِ بخشش ص ۷۹)

عرفات شریف کی دُعائیں (عَرَبی)

[1]: دوپَہَر کے وَقت دَورانِ وُقوف مَوقِف میں مندَرَجۂ ذَیل کلمۂ توحید، سورہ ٔاِخلاص شریف اورپھر اس کے بعد دِیا ہُوا دُرُود شریف سو سو بار پڑھنے والے کی بَحکمِ حدیث بخشش کردی جاتی ہے، نیز اگر وہ تمام عَرَفات شریف والوں کی سفارِش کردے تو وہ بھی قَبول کرلی جائے۔

(الف)یہ کلمۂ توحید 100بار پڑھئے: لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ط لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ط

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلاہے اُس کا کوئی شریک نہیں ، اُسی کیلئے مُلک ہے اورتمام خُوبیاں اُسی کے لیے ہیں ، وُہی زندہ کرتا اورمارتاہے اوروہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔

(ب) سورہ ٔاِخلاص شریف100 بار(ج)یہ دُرُود شریف 100بار پڑھئے: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی(سَیِّدِنَا)مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی(سَیِّدِنَا)اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ (سَیِّدِنَا) اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدُٗوَّعَلَیْنَا مَعَھُمْ ط

اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارے سردار حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم پر دُرود بھیج جس طرح تو نے دُرود بھیجے ہمارے سردارحضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامپراورہمارے سردار حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامکی آل پر ، بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے اور ہم پر بھی ان کے ساتھ۔

[2] اَللہ اَکْبَرُ وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُ تین بار پھر کلمۂ توحید ایک بار اس کے بعد یہ دُعا تین بار پڑھئے: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ بِالْھُدٰی وَنَقِّنِیْ وَاعْصِمْنِیْ بِالتَّقْوٰی وَاغْفِرْلِیْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰیط

اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھ کو ہدایت کے ساتھ رہنمائی کراورپاک کر اور پرہیزگاری کے ساتھ گناہ سے محفوظ رکھ اور دنیا وآخرت میں میری مغفرت فرما۔

اس کے بعد ایک بار یہ دُعا پڑھئے:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَّبْرُوْرًا وَّ ذَنْۢبًا مَّغْفُوْرًا ط اَللّٰھُمَّ لَكَ الْحَمْدُ کَالَّذِیْ نَقُوْلُ وَخَیْرًا مِّمَّا نَقُوْلُ ط اَللّٰھُمَّ لَكَ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ وَ اِلَیْكَ مَاٰبِیْ وَلَكَ رَبِّ تُرَاثِیْ ط اَللّٰھُمَّ اَعُوْذُبِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَوَسْوَسَۃِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الْاَمْرِط اَللّٰھُمَّ اِنِّیْۤ اَسْئَلُكَ مِنْ خَیْرِ مَا تَجِیْٓءُ بِہِ الرِّیْحُ وَنَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَجِیْٓءُ بِہِ الرِّیْحُ ط اَللّٰھُمَّ اھْدِنَا بِالْھُدٰی وَ زَیِّنَا بِالتَّقْوٰی وَاغْفِرْلَنَا فِی الْاٰخِرَۃِ وَ الْاُوْلٰی ط اَللّٰھُمَّ اِ نِّیْۤ اَسْئَلُكَ رِزْقًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا ط اَللّٰھُمَّ اِنَّكَ اَمَرْتَ بِالدُّعَآءِ وَ قَضَیْتَ عَلٰی نَفْسِكَ بِالْاِجَابَۃِ وَ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ وَلَا تَنْکُثُ عَھْدَكَ ط اَللّٰھُمَّ مَا اَحْبَبْتَ مِنْ خَیْرٍ فَحَبِّبْہُ اِلَیْنَا وَیَسِّرْہُ لَنَا وَمَا کَرِھْتَ مِنْ شَـرٍّ فَکَرِّھْہُ اِلَیْنَا وَجَنِّبْنَاہُ وَلَا تَنْزِ عْ مِنَّا الْاِسْلَامَ بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا ط اَللّٰھُمَّ اِنَّكَ تَرٰی مَکَانِیْ وَ تَسْمَعُ کَلَامِیْ وَتَعْلَمُ سِـرِّیْ وَ عَلَانِیَتِیْ وَلَا یَخْفٰی عَلَیْكَ شَیْءٌ مِّنْ اَمْرِیۤ اَنَا الْبَاۤئِسُ الْفَقِیْرُ الْمُسْتَغِیْثُ الْمُسْتَجِیْرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنْۢبِہٖ اَسْئَلُكَ مَسْأَ لَۃَ الْمِسْکِیْنِ وَاَبْتَھِلُ اِلَیْكَ اِبْتِھَالَ الْمُذْنِبِ الذَّ لِیْلِ وَاَدْعُوْكَ دُعَآءَ الْخَآئِفِ الْمُضْطَرِّ دُعَآءَمَنْ خَضَعَتْ لَكَ رَقَبَتُہٗ وَفَاضَتْ لَكَ عَیْنَاہُ وَنَحِلَ لَكَ جَسَدُہٗ وَرَغِمَ اَنْفُہٗ ط اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْنِیْ بِدُعَآئِكَ رَبِّیْ شَقِیًّا وَّ کُنْۢ بِیْ رَؤُوْفًا رَّحِیْمًا یَا خَیْرَ الْمَسْئُوْلِیْنَ وَ خَیْرَ الْمُعْطِیْنَ ط

اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اس حج کو مبرور کر اورگناہ بخش دے۔ الٰہی! تیرے لئے حمد ہے جیسی ہم کہتے ہیں اور اس سے بہتر جس کو ہم کہیں ۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میری نماز وعبادت اورمیرا جینا اورمرنا تیرے ہی لئے ہے اورتیری ہی طرف میری واپَسی ہے اور اے پروردگار ! تو ہی میرا وارِث ہے۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب ِقبراور سینے کے وَسوَسے اور کام کی پراگندگی (پریشانی) سے۔الٰہی! میں سُوال کرتاہوں اُس چیز کی خیر کا جس کو ہَوا لاتی ہے اوراُس چیز کے شَر سے پناہ مانگتاہوں جسےہَوالاتی ہے ۔ الٰہی!ہدایت کی طرف ہم کو رہنمائی کر اورتقویٰ سے ہم کو زینت عنایت کر اورآخِرت اوردنیا میں ہم کو بخش دے۔الٰہی!میں رزقِ پاکیزہ اور بابَرَکت کا تجھ سے سُوال کرتاہوں ۔الٰہی!تُو نے دعا کرنے کا حکم دیا اورقَبول کرنے کا ذِمّہ تو نے خود لیا اوربے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا اور اپنے عَہد کو نہیں توڑتا۔ الٰہی! جو اچّھی باتیں تجھے محبوب ہیں انہیں ہماری محبوب کردے اورہمارے لئے میسر کر اورجو بُری باتیں تجھے ناپسند ہیں انہیں ہماری ناپسند کراورہم کو ان سے بچا اور اسلام کی طرف تُو نے ہم کو ہدایت فرمائی تو اس کو ہم سے جدا نہ کر۔الٰہی!تو میرے مکان کو دیکھتا اورمیرے کلام کو سنتاہےاورمیرے پوشیدہ اورظاہِر کوجانتاہے کہ میرے کام میں سے کوئی شےتجھ پر مخفی(یعنی چُھپی) نہیں ۔ میں نامُراد، محتاج،فریادکرنے والا ،پنا ہ چاہنے والا، تجھ سے ڈرنے والا، اپنے گناہ کا مُقرّومُعترف(یعنی اقرار واعتِراف کرنے والا) ہوں ، مسکین کی طرح تجھ سے سُوال کرتاہوں اورگنہگار ذلیل کی طرح تجھ سے عاجِزی کرتاہوں اورڈرنے والے مُضطَر کی طرح تجھ سے دُعا کرتا ہوں ، اُس کی مِثل دُعا جس کی گردن تیرے لئے جھکی ہوئی اورآنکھیں جاری اور بدن لاغِر اور ناک خاک میں ملی ہے۔اے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ !تُو اپنی ہدایت سے مجھے محروم نہ کراورمجھ پر بَہُت مہربان ہوجا اے بہت بہتر سُوال کئے گئے اور بہتر دینے والے ۔

[3] اَمیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے راوی کہ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ میری اور اَنبیاء کی دُعا عَرَفہ کے دِن یہ ہے:

لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْكَ لَہٗ ط لَہُ الْمُلْكُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ط اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَّ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا ط اَللّٰھُمَّ اشْرَ حْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْلِیْۤ اَمْرِیْ وَاَعُوْذُبِكَ مِنْ وَّسَاوِسِ الصَّدْرِ وَتَشْتِیْتِ الْاَمْرِ وَ عَذَابِ الْقَبْرِ ط اَللّٰھُمَّ اِ نِّیْۤ اَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ مَا یَلِـجُ فِی اللَّیْلِ وَشَرِّ مَا یَلِـجُ فِی النَّھَارِ وَ شَرِّ مَا تَھُبُّ بِہِ الرِّیْحُ وَ شَرِّ بَوَاۤ ئِقِ الدَّھْرِ ط

اللہکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ یکتاہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے ملک ہےاور اسی کے لیے سب خوبیاں ہیں ، وہ زندہ ہے اوراسے کبھی موت نہیں آئے گی اور وہ ہرچیزپر قدرت رکھنے والاہے۔اے اللہ!میری قُوّتِ سَماعت کو نور کر اورمیری نظرکو نور کر اورمیرے دل میں نور بھر دے ۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !میرا سینہ کھول دے اورمیرا کام آسان کراور میں تیری پناہ مانگتاہوں سینے کے وَسوَسوں اورکام کی پراگندگی(انتشار)اورعذابِ قبر سے۔اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !میں تیری پناہ مانگتاہوں اُس کی بُرائی سےجو رات میں داخِل ہوتی ہے اور اُس کی بُرائی سے جو دن میں داخِل ہوتی ہےاوراُس کی بُرائی سے جسے ہوا اُڑا لاتی ہے اور آفاتِ دَہر کی برائی سے۔

مَدَنی پھول:صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی میدانِ عَرَفات میں پڑھنے کی بعض دعائیں نَقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : اس مقام پر پڑھنے کی بَہُت دعائیں کتابوں میں مذکور ہیں مگر اتنی ہی میں کِفایت ہے اور دُرُود شریف وتِلاوتِ قرآن مجید سب دُعاؤ ں سے زیادہ مُفید۔

(بہارِ شریعت ج ۱ص ۱۱۲۷)

میدانِ عرفات میں دُعا کھڑے کھڑے مانگنا سُنَّت ہے: پیارے پیارے حاجیو! صِدقِ دِل سے اپنے ربِّ کریم عَزَّ وَجَلَّ کی طرف مُتَوَجِّہ ہو جایئے اورمیدانِ قِیامت میں حِسابِ اَعمال کے لیے اُس کی بارگاہ میں حاضِری کا تَصوُّر کیجئے۔ نہایت ہی خُشُوع و خُضُوع کے ساتھ لرزتے، کانپتے، خوف واُمّید کے ملے جُلے جذبات کے ساتھ آنکھیں بندکئے ، سرجُھکائے دُعا کے لئے ہاتھ آسمان کی طرف سَر سے اُونچے پھیلائے توبہ و اِستِغفار میں ڈوب جائیے، دَورانِ دُعا وَقتًا فوقتًا لَبَّیْککی تکرار رکھئے، خوب رورو کر اپنی، اپنے والدَین اورتمام اُمَّت کی مغفِرت کی دُعا مانگئے، کوشِش کیجئے کہ ایک آدھ قطرۂ آنسو تو ٹپک ہی جائے کہ یہ قَبولیَّت کی دلیل ہے ، اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی صُورت ہی بنالیجئے کہ اچّھوں کی نَقل بھی اچّھی ہے۔ تاجدارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اورتمام انبیام ئے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام اور تمام صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اوراہلِ بیتِ اطہارکا وسیلہ اپنے پَروَرْدَگار عَزَّ وَجَلَّ کے دَربار میں پیش کیجئے۔ حُضُورِ غوثِ پاک،خواجہ غریبِ نواز اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کا واسِطہ دیجئے،ہر وَلی اورہر عاشِقِ نبی کا صَدقہ مانگئے۔ آج رَحمت کے دَروازے کھولے گئے ہیں ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مانگنے والا ناکام نہیں ہو گا، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت کی گھنگھور گھٹائیں جُھوم جُھوم کر آرہی ہیں ، رَحمتوں کی مُوسلادھار بارِش برس رہی ہے۔ سارے کاسارا عَرَفات اَنوار وتَجَلِّیات اور رَحمت وبَرَکات میں ڈُوبا ہُوا ہے! کبھی اپنے گناہوں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قہّاری اور اس کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے بَید کی طرح لرزئیے تو کبھی ایسے جذبات ہوں کہ اُس کی رَحمتِ بے پایاں کی اُمّید سے مُرجھایا ہُوا دِل گلِ نَوشِگُفتہ کی طرح کِھل اُٹھے۔

عَدْل کرے تاں تھر تھر کمبن اُچِّیاں شاناں والے

فَضْل کرے تاں بخشے جاوَن میں جَہے مُنہ کالے

دُعائے عَرَفات (اردو)

(دَورانِ دُعا وَقتًا فَوَقتًا لَبَّیْک و دُرُود شریف پڑھئے)

دونوں ہاتھ اِس طرح اٹھایئے کہ سینے ، کندھے یا چِہرے کی سیدھ میں رہیں یا اتنے بُلند ہو جائیں کہ بغل کی رنگت نظر آ جائے ،چاروں صورَتوں میں ہتھیلیاں آسمان کی طرف پھیلی ہوئی رہیں کہ دُعا کا قِبلہ آسمان ہے۔ اب یوں دُعا شروع کیجئے :

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط یَاۤ اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ یَاۤ اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ یَاۤ اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ [2]؎؎

یَارَبَّنَا یَارَبَّنَا یَارَبَّنَا یَارَبَّنَا یَارَبَّنَا [3]؎

جس قَدَر دُعائے ماثُورہ (یعنی قران و حدیث کی دعائیں )یاد ہوں ، وہ عَرَبی میں عرض کرنے کے بعد اپنے دِلی جذبات اپنی مادَری زَبان میں اپنے رَحمت والے پَروَرْدَگار عَزَّ وَجَلَّ کے دربارِ گُہَربار میں اِس یقینِ مُحکَم کے ساتھ کہ آپ کی دُعا قَبول ہو رہی ہے اِس طرح عرض کیجئے: یَااَللہُ یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ ط

تیرے کروڑہا کروڑ اِحْسان کہ تُو نے مجھے اِنسان بنایا، مسلمان کیا اورمیرے ہاتھوں میں دامَنِ رَحْمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عطا فرمایا۔ یَااَللہُ عَزَّ وَجَلَّ ! اے محمدِعَرَبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خالِق عَزَّ وَجَلَّ ! میں کس زَبان سے تیرا شکرادا کروں کہ تُو نے مجھے حج کا شَرَف بخشا۔میری کس قَدَر خوش بختی ہے کہ میں اُس میدانِ عَرَفات کے اندر حاضِرہوں جسے یقینا میٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قدم بوسی کاشَرَف مِلا ہے، دُنیا کے کونے کونے سے آنے والے لاکھوں مسلمان آج یہاں جمع ہوئے ہیں ، اِن میں یقینا تیرے دو نبی حضرتِ الیاس وحضرتِ خِضَر عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اوربے شمار اَولیائے کرام بھی موجود ہیں ۔ چُنانچِہ اے ربِّ رسولِ کریم عَزَّ وَجَلَّ ! آج جو رَحْمت کی بارِشیں نبیّوں اور وَلیوں پر برس رہی ہیں انھیں کے صدقے ایک آدھ قطرہ مجھ گنہگار پر بھی برسا دے۔ ؎

یَااللّٰہُ یَا رَحمٰنُ یَاحنّانُ یَا مَنّانُ

بخش دے بخشے ہوؤں کا صدقہ یَااللّٰہ مِری جھولی بھر دے

(وسائلِ بخشش ص ۱۰۷)

(اوّل آخِر دُرودِ پاک اور تین بارلَبَّیْک پڑھئے)

یاربِّ مصطَفٰے عَزَّ وَجَلَّ ! میری کمزوری اور ناتُوانی تجھ پر آشکار ہے، آہ!میں تو وہ کمزور بندہ ہوں کہ نہ گرمی برداشت کر سکتاہوں نہ سردی، مجھ میں کھٹمل، مچھّر کے ڈنک کی بھی سہار نہیں حتّٰی کہ اگر چِیُونٹی بھی کاٹ لے تو بے چَین ہوجاتاہوں ، آہ ! اگر کوئی پَروں والا معمولی ساکیڑا کپڑوں میں گھُس کرپَر پھڑپھڑاتا ہے تو مجھے اُچھال کر رکھ دیتاہے، آہ! ہائے میری بربادی!اگر گناہوں کے سبب مجھے قَبر میں تیرے قَہر وغَضَب کی آگ نے گھیر لیا تو میں کیا کروں گا! آہ!اگر میرے کَفَن میں سانپ اور بِچھُّوگھُس گئے تو میرا کیا بنے گا! اے ربِّ محمد عَزَّ وَجَلَّ ! بَطُفیلِ محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کَرَم کردے، مجھے نَزع و قبر وحشر کی تکلیفوں سے بچا لے، یقیناً تیرے کَرَم کی فَقَط ایک نَظر ہوجائے تو مجھ پاپی وبدکار کے دونوں جہاں سنور جائیں ، اے ربِّ محبوب عَزَّ وَجَلَّ !مجھ پر اپنافَضْل و اِحْسان فرمااورمجھ سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے راضی ہو جا اور مجھے اپنا پسندیدہ بندہ بنا لے۔

گناہ گار طلبگارِ عَفْو و رَحمت ہے

عذاب سَہنے کا کس میں ہے حوصَلہ یاربّ

(وسائلِ بخشش ص ۹۷)

(اوّل آخِر دُرودِ پاک اور تین بارلَبَّیْک پڑھئے)

یا ربِّ مصطَفٰے عَزَّ وَجَلَّ ! تیرے پیارے رسول، محمدِمَدَنی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَتیرا یہ اِرشاد مجھ تک پہنچا چکے ہیں کہ ’’اے ابنِ آدم!جب تک تُو مجھ سے دُعا کرتا رہے گا اورپُراُمّید رہے گا میں تیرے گناہوں کو بخشتا رہوں گا، اے ابنِ آدم!اگر تیرے گناہ آسمان تک پَہنچ جائیں اورپھر بھی اگر تُو مجھ سے بخشش طلب کرے گا تو میں مُعاف کردوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہ ہوگی، اے ابنِ آدم!اگر تُو زمین بھر گناہوں کے ساتھ میرے پاس آئے گا مگر اِس حال میں کہ تُونے کوئی کُفْر وشرک نہ کیا ہو تو میں زمین بھر رَحْمت ومغفِرت کے ساتھ تیرے پاس پہنچوں گا۔‘‘[4]؎ تواے میرے مکّی مَدَنی محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مَعبود عَزَّ وَجَلَّ ! اگر چِہ میں نے گناہوں سے زمین وآسمان بھردیئے ہیں مگر پھر بھی مجھے تیری رَحْمت پر ناز ہے، الٰہی عَزَّ وَجَلَّ ! میرے غوثِ اعظم علیہ رحمۃُ اللّٰہ الاکرم، میرے غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اورمیرے امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکااور میرے مُرشدِ کریم کاواسِطہ میری بے حساب مغفِرت فرما، میری بے حساب مغفِرت فرما، میری بے حساب مغفِرت فرما۔

تو بے حساب بخش کہ ہیں بے شمار جُرم دیتاہوں واسِطہ تجھے شاہِ حجاز کا (ذوقِ نعت)

(اوّل آخِر دُرودِ پاک اور تین بارلَبَّیْک پڑھئے)

اے ربِّ محمدِ مصطَفٰے عَزَّ وَجَلَّ !میں اِقرار کرتا ہوں کہ میں نے بڑے بڑےگناہوں کا اِرتِکاب کیاہے مگر یہ سب کے سب تیری شانِ عَفْو و دَرگزر کے سامنے بَہُت ہی چھوٹے ہیں ، اے میرے پیارے پیارے مالِک عَزَّ وَجَلَّ ! یقینا تیری مغفِرت و بخشش گنہگاروں کو ڈھونڈتی ہے اورمجھ سے بڑھ کر اِس میدانِ عَرَفات میں کوئی مجرِم نہ ہوگا! اے میرے مَدَنی نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ربِّ غنی عَزَّ وَجَلَّ !میں اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوں اوراُمید کرتا ہوں کہ تیری بخشش کا اِنْعام مجھ گنہگار پر ضَرور ہو گا،یَا اِلٰہَ الْعٰلَمِین عَزَّ وَجَلَّ !تجھے خُلَفائے راشِدین عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور اُمَّہاتُ الْمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنَّ کا واسِطہ، بی بی فاطِمہ اور حسنینِ کریمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمَا بلالِ حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور اُوَیس قَرْنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا صَدْقہ ، میری بھی بخشش فرما اور میرے مرشدِکریم، میرے اَساتِذۂ کِرام ، تمام عُلَماء و مشائِخِ اہلسنّت اور میرے والِدَین اورگھر کے تمام اَفراد کو بخش دے اور ساری اُمَّت کی مغفِرت فرما۔

دَوام دین پہ اللہ مَرحمت فرما

ہماری بلکہ سب امّت کی مغفِرت فرما

(اوّل آخِر دُرودِ پاک اور تین بارلَبَّیْک پڑھئے)

اے محمدِ مَعصُوم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خدائے حیّ و قیّوم! بے شک مسلمانوں کا صَدَقہ و خیرات کرناتو پسند فرماتا ہے ۔ تو اے جَوادو کریم مجھ سے بڑھ کر نیکیوں کے مُعامَلے میں غریب و مُفلِس کون ہوگا! اور دینے والوں میں تجھ سے بڑھ کرعطا کرنے والا کون ہوگا! تواے مالکِ مصطَفٰے عَزَّ وَجَلَّ بطفیلِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ!مجھے دین پر استِقامت، اپنی دائمی رِضا ،جہنَّم سے امان اور بے حساب مغفِرت کی خیرات سے نواز کر مجھ پر اِحْسانِ عظیم فرما۔

حُسین ابنِ علی کے لاڈلوں کا واسِطہ مولیٰ

بچا لے ہم کو تو نارِ جہنَّم سے بچا مولیٰ

(اوّل آخِر دُرودِ پاک اور تین بارلَبَّیْک پڑھئے)

اے اپنے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پسینے میں خوشبو پیدا کرنے والے! اے مریضوں کوشِفا دینے والے!تمام مسلمانوں میں سب سے بڑا مَحَبَّتِ دُنیا کا مریض اورگناہوں کا بیمار’’ سائلِ شفا ‘‘بن کر تیری بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضِر ہے، یَاشَافِیَ الْاَمْرَاض ! میں حُبِّ دُنیا اور گناہوں کی بیماری سے صحَّت یابی کا سُوال کرتا ہوں ، اے پَرْوَرْدَگارعَزَّ وَجَلَّ !سیِّدُ الاَبرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صَدقے مجھے شِفائے کامِلہ عطا فرما،مجھے نیک بنا دے اور مجھے مریضِ عشقِ مصطَفٰیبنا اور مجھے غمِ مدینہ سے نواز دے۔

میں گناہوں میں لِتھڑا ہوا ہوں بد سے بد تر ہوں بگڑا ہوا ہوں

عَفْوِ جرم و قُصُور و خطا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے

(اوّل آخِر دُرودِ پاک اور تین بارلَبَّیْک پڑھئے)

یاربِّ مصطَفٰے عَزَّ وَجَلَّ !تجھے تمام انبیاء و صَحابہ واہلبیتِ وجملہ اولیاء کا واسِطہ ہمارے بیماروں کو شِفا عطا فرما، قَرض داروں کے قَرضے سے اُتار دے ، تنگدستوں کو فَرَاخ دَستی دے، بے روزگاروں کو حلال آسان روزی عطافرما، بے اولادوں کو بِغیر آپریشن کے عافِیَّت کے ساتھ نیک اولاد عطاکر، جن کے رِشتوں میں رُکاوَٹیں ہیں اُنہیں نیک رِشتے نصیب فرما، یاربِّ مصطَفٰےعَزَّ وَجَلَّ ! مسلمانوں کوفرنگی فیشن کی آفت سے چھڑا کر اِتّباعِ سُنَّت کی سعادت عنایت فرما، یاربِّ مصطَفٰے عَزَّ وَجَلَّ !جو بے جامقدَّموں میں گِھرے ہیں اُنہیں نَجات عطا فرما، جن کے رُوٹھے ہیں اُن کو منادے، جن کے بچھڑے ہیں اُن کو مِلادے، جن کے گھروں میں ناچاقِیاں ہیں اُن کو آپس میں شِیروشکر کردے، یاربِّ مصطَفٰےعَزَّ وَجَلَّ ! جن پر سِحر ہے یا جو آسَیب زدہ ہیں اُنہیں سِحروآسَیب سے چُھٹکارا عطا فرما، یاربِّ مصطَفٰے عَزَّ وَجَلَّ !مسلمانوں کو آفات وبَلِیّات سے بچا، دُشمنوں کی دُشمنی، شریروں کے شر، حاسدوں کے حَسَد اور بدنگاہوں کی نگاہِ بد سے مسلمانوں کو محفُوظ ومامون فرما۔

وہ کہ عرصے سے بیمار ہیں جو جِنّ و جادو سے بیزار ہیں جو

اپنی رحمت سے اُن کو شِفا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے

(اوّل آخِر دُرودِ پاک اور تین بارلَبَّیْک پڑھئے)

یاربِّ کریم!بی بی فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کا واسِطہ ، سیِّدَہ زَینَب، سیِّدَہ سکینہ، بی بی حوّا ، بی بی سارہ ، بی بی ہاجِرہ ، بی بی آسِیہ اور بی بی مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنَّ کا صَدْقہ، ہماری ماؤں بہنوں اوربہو بیٹیوں کو شرم وحَیا کی چادر نصیب فرما اور اُنہیں ہر نامَحرَم مَع اپنے دَیور و جَیٹھ، چچازاد، خالہ زاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد، بہنوئی، پھوپھا اور خالو [5]؎ ،سب سے صحیح شَرْعی پردہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔

دیدے پردہ مِری بیٹیوں کو ماؤں بہنوں سبھی عورَتوں کو

بھیک دیدے تُو اپنی عطا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے

(اوّل آخِر دُرودِ پاک اور تین بارلَبَّیْک پڑھئے)

یَا اَللہ عَزَّ وَجَلَّ !ایسا عمل جو تیری بارگاہ میں مقبول نہ ہو، ایسا دِل جو تیری یاد سے غافل رہے، ایسی آنکھ جو فِلمیں ڈِرامے دیکھتی اوربدنِگاہی کرتی رہے، ایسے کان جوگانے باجے اورغِیبَت وچُغلی سنتے رہیں ، ایسے پاؤں جو بُری مجلسوں کی طرف چل کر جاتے رہیں ، ایسے ہاتھ جو ظُلم کے لیے اُٹھتے رہیں ، ایسی زَبان جو فُضُول گوئی اورگالی گلوچ سے باز نہ آئے، ایسا دِماغ جو بُرے منصوبے باندھتا رہے اورایسے سینے سے جو مسلمانوں کے کِینے سے لبریز ہوتیری پناہ مانگتا ہوں ، اے میرے پیارے پَرْوَرْدَگار عَزَّ وَجَلَّ ، مَکّے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور تیری عطا سے کل خُدائی کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صَدقے جملہ مجتہدین و اَئِمَّۂ اَربَعہ اورسَلاسلِ اَرْبَعہ کے تمام اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے وَسیلے سے اپنا تابِعِ فرمان بنا کر مجھ پر فضل و اِحْسان فرما۔

اے خدائے مصطَفٰے عَزَّ وَجَلَّ ! تجھے ہر عاشقِ رسول کا واسِطہ ،مجھے غمِ مصطَفٰے میں رونے والی آنکھ اور تڑپنے والا دل عنایت فرمااور سچّا عاشِقِ رسول بنا اور میرا سینہ مَحَبَّت حبیب کامدینہ بنا دے اور مجھے بیوفا دنیا کا نہیں مدینے کا دیوانہ بنا دے۔ ؎

پیچھا مرا دُنیا کی محبت سے چُھڑا دے

یارب!مجھے دیوانہ مدینے کا بنادے

(وسائلِ بخشش ص ۱۰۰)

(اوّل آخِر دُرودِ پاک اور تین بارلَبَّیْک پڑھئے)

یاربِّ مصطَفٰے عَزَّ وَجَلَّ !تجھے کعبۂ مشرّفہ اور گنبد خضرا کا واسِطہ، میرے حج وزِیارت اورمیری جائز دُعائیں جو میرے حق میں بہتر ہوں وہ قَبول فرما اور مجھے مُستَجابُ الدَّعواتبنا دے میری اور میدانِ عَرَفات میں حاضِرہر حاجی کی مغفِرت فرما،اورمجھے ہر سال حج و زِیارتِ مدینہ سے مُشرّف فرما اور مجھے مدینۂ پاک میں زیرِ گنبدِخضرا جلوۂ محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں عافِیَّت کے ساتھ شہادت ، جنَّتُ البَقِیع میں مَدفَن اور جنَّتُ الفِردوس میں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا پڑوس نصیب فرما۔یا ربِّ مصطَفٰے عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے جن جن اِسلامی بھائیوں اور اِسلامی بہنوں نے دُعاؤں کے لیے کہا ہے، بَطُفیلِ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُن سب کی ہر جائز مُراد میں ان کی بہتری پر نظر فرما اور اُن سب کی بخشِش کر دے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

جن جن مُرادوں کے لیے اَحْباب نے کہا

پیشِ خبیر کیا مجھے حاجَت خبر کی ہے (حدائقِ بخشش شریف)

(اوّل آخِر دُرودِ پاک اور تین بارلَبَّیْک پڑھئے)

غروبِ آفتاب کے بعد تک دعا جاری رکھئے!: اِسی طرح آہ و زاری کے ساتھ دُعا جاری رکھئے یہاں تک کہ آفتاب ڈُوب جائے اور رات کا ہلکا سا حصَّہ آجائے، اِس سے پہلےجائے وُقوف (یعنی جہاں آپ ٹھہرے ہوئے ہیں ) سے چل پڑنامَنْع ہے اورغُروبِ آفتاب سے قَبل حُدُودِ عَرَفات سے باہَر نکل جانا حرام ہے اور دَم لازِم، اگر غروبِ آفتاب سے قبل ہی واپَس عَرَفات میں داخِل ہو گیا تو دم ساقِط ہو جائیگا۔ یاد رہے! آج حاجی کو نَمازِ مغرِب یہاں نہیں بلکہ عشاء کے وَقْت میں مُزْدَلِفہ میں مغرِب و عشاء مِلا کر پڑھنی ہے ۔

گناہوں سے پاک ہوگئے: پیارے پیارے حاجیو!آپ کے لئے یہ ضَروری ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سچے وعدوں پر بھروسا کر کے یقین کرلیجئے کہ آج میں گناہوں سے ایسا پاک ہوگیا ہوں جیسا کہ اُس دِن جب کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ اب کوشِش کیجئے کہ آیَندہ گناہ نہ ہوں ۔ نَماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ میں ہرگز کوتاہی نہ ہو، فِلموں ڈِراموں اور گانوں باجوں نیز حرام روزی کمانے، داڑھی مُنڈانے یا ایک مُٹھّی سے گھٹانے، ماں باپ کا دِل دُکھانے وغیرہ وغیرہ گناہوں میں مُلَوَّث ہوکر کہیں پھر آپ شیطان کے چُنگل میں نہ پھنس جائیں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مُزدَلِفہ کو روانَگی: جب غُروبِ آفتاب کا یقین ہوجائے تو عَرَفات شریف سے جانِبِ مُزْدَلِفہ شریف چلئے، راستے بھر ذِکْر ودُرُود اور دُعاو لَبَّیْک وزاری و بُکاء( یعنی رونے دھونے) میں مصروف رہو۔ کل میدانِ عَرَفات شریف میں حُقُوقُ اللّٰہ مُعاف ہوئے یہاں حُقُوقُ العِبَاد مُعاف فرمانے کا وعدہ ہے۔ (بہارِ شریعت ج۱ ص ۱۱۳۱،۱۱۳۳)اے لیجئے!مُزْدَلِفہ شریف آگیا !ہر طرف چہل پہل اور خوب رونق لگی ہوئی ہے،مُزْدَلِفہ کے شُروع میں کافی رَش ہوتا ہے، آپ بے دھڑک آگے سے خوب آگے بڑھتے چلے جایئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اندر کی طرف کافی کُشادہ جگہ مل جائے گی مگر یہ اِحتیاط رہے کہ کہیں مِنٰی شریف کی حد میں داخِل نہ ہو جائیں ۔ پیدل چلنے والوں کیلئے مشورہ ہے کہ مُزْدَلِفہ میں داخِل ہونے سے پہلے پہلے استنجا وُضو کی ترکیب بنالیں ورنہ بھیڑ میں سخت آزمائش ہو سکتی ہے۔

مغرِب وعشاء مِلا کر پڑھنے کا طریقہ: یہاں آپ کو ایک ہی اَذان اورایک ہی اِقامت سے نَمازِ مغرِب و عشاء وقتِ عشاء میں ادا کرنی ہیں ، لہٰذا اَذان واِقامت کے بعد پہلے مغرِب کے تین فَرض ادا کرلیجئے، سلام پھیرتے ہی فوراً عشاء کے فرض پڑھئے پھر مغرِب کی سُنَّتیں ، نفلیں (اوّابین) اِس کے بعد عشاء کی سُنَّتیں ،نفلیں اور وِتر و نوافل ادا کیجئے ۔ (بہارِ شریعت ج۱ص ۱۱۳۲)


کنکَرِیاں چُن لیجئے: آج کی شب بعض اَکابِر عُلَماء رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے نزدیک لَیلَۃُ القَدرسے بھی افضل ہے، یہ رات غفلت یا خوش گپِّیوں میں ضائِع کرنا سخت محرومی ہے ، ہوسکے تو ساری رات لَبَّیْک اور ذِکْر و دُرُود میں گزارئیے۔ (ایضاً ص۱۱۳۳) رات ہی میں شیطانوں کو مارنے کے لیے پاک جگہ سے اُنچاس کنکریاں کھجور کی گٹھلی کی سائز کے برابر چُن لیجئے بلکہ کچھ زِیادہ لے لیجئے تاکہ وار خالی جانے وغیرہ کی صُورت میں کام آسکیں ، ان کو تین بار دھو لیجئے،کنکریاں بڑے پتّھر کو توڑ کر نہ بنایئے۔ناپاک جگہ سے یا مسجِد سے یا جَمرے کے پاس سے کنکریاں مت لیجئے۔

ایک ضَروری اِحتِیاط: آج نَمازِ فجر اَوَّل وَقْت میں ادا کرنا افضل ہے مگر نَماز اُس وَقْت اداکیجئے جب کہ صُبحِ صادِق یقینی طور پر ہوجائے۔ عُمُوماً مُعلِّم کے آدَمی بَہُت جلدی مچاتے ہیں اور ابتِدائے وقتِ فجر سے پہلے ہی ’’صلٰوہ صلٰوہ‘‘ چِلّانا شُروع کردیتے ہیں اور بعضحُجَّاج وَقْت سے قَبل ہی نَماز ادا کر لیتے ہیں !آپ ایسا مت کیجئے بلکہ دوسروں کو بھی نرمی کے ساتھ نیکی کی دعوت دیجئے کہ ابھی وَقْت نہیں ہوا، جب توپ کا گولہ [6]؎ چھوٹے تب نَماز ادا کیجئے ۔

وُقوفِ مزدَلِفہ: مُزْدَلِفہ میں رات گزارنا سُنّتِ مؤَکَّدہ ہے مگر اِس کا وُقوف واجِب ہے۔ وُقوفِ مُزْدَلِفہ کا وَقْت صُبحِ صادِق سے لے کر طُلُوعِ آفتاب تک ہے، اِس کے درمِیان اگر ایک لمحہ بھی یہاں گزار لیا تو وُقوف ہوگیا، ظاہِر ہے کہ جس نے فجر کے وَقْت میں مُزْدلِفہ کے اندر نَمازِ فجرادا کی اُس کا وُقوف صحیح ہوگیا، جو کوئی صُبحِ صادِق سے پہلے ہی مُزْدَلِفہ سے چلا گیا اُس کا واجِب تَرْک ہوگیا، لہٰذا اُس پر دَم واجِب ہے۔ ہاں ، عورت، بیمار یا ضَعِیف یا کمزور کہ جنہیں بھِیڑ کے سبب اِیذا پہنچنے کا اَندیشہ ہو اگر مجبوراً چلے گئے تو کچھ نہیں ۔ (بہارِ شریعت ج۱ص ۱۱۳۵)

کوہِ مَشْعَرُالْحرام پر اگر جگہ نہ ملے تو اُس کے دامَن میں اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو وادیِ مُحَسِّر[7]؎(مُ۔حَس۔سِر) کے سواکہ یہاں وقوف کرنا ناجائز ہے جہاں جگہ مل جائے وُقوف کیجئے اور وُقوفِ عَرَفات والی تمام باتیں یہاں بھی مَلحُوظ رکھئے یعنی لَبَّیْک کی کثرت کیجئے اور ذِکْرو دُرُود اور دُعا میں مشغول ہوجائیے۔(ایضاًص۱۱۳۳)
اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ !جو کچھ مانگیں گے وہ پائیں گے کہ کل عَرَفات شریف میں حُقُوقُ اللّٰہ مُعاف ہوئے تھے یہاں حُقُوقُ العِباد مُعاف فرمانے کا وعدہ ہے۔ (حقوقُ العباد معاف ہونے کی تفصیلصَفْحَہ 18پر گزری)

نَماز سے قَبل مگر طُلُوعِ فجر کے بعد یہاں سے چلا گیا یا طُلُوعِ آفتاب کے بعد گیا تو بُرا کیا مگر اس پر دم وغیرہ واجِب نہیں ۔ (ایضاً)

مُزدَلِفہ سے مِنٰی جاتے ہوئے راستے میں پڑھنے کی دُعا: جب طُلُوعِ آفتاب میں دو رَکْعَت پڑھنے کا وَقْت باقی رہ جائے تو سُوئے مِنٰی شریف روانہ ہو جائیے اور راستے بھر لَبَّیْک اور ذِکْر و دُرُود کی تکرار رکھئے۔اور یہ دُعا پڑھئے:

اَللّٰھُمَّ اِلَیْكَ اَفَضْتُ وَمِنْ عَذَابِكَ اَشْفَقْتُ وَ اِلَیْكَ رَجَعْتُ وَمِنْكَ رَھِبْتُ فَاقْبَلْ نُسُکِیْ وَ عَظِّمْ اَجْرِیْ وَارْحَمْ تَضَرُّعِیْ وَاقْبَلْ تَوْبَتِیْ وَاسْتَجِبْ دُعَآئِیْ ط

اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں تیری طرف واپس ہو ا اور تیرے عذاب سے ڈرااور تیر ی طرف رُجُوع کیا اور تجھ سے خوف کیا،تُو میر ی عبادت قبول کر اور میرا اَجر زیادہ کر اور میری عاجِزی پر رَحم کراور میری توبہ قَبول کر اور میری دُعا مستجاب (یعنی مقبول ) فرما۔

مِنٰی نظر آئے تو یہ دعا پڑھئے

مِنٰی شریف نظر آئے تو (اوّل آخِر دُرود شریف کے ساتھ) وُہی دعا پڑھئے جو مکۂ مکرَّمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفَا وَّتَعْظِیْمًاسے آتے ہوئے مِنٰی دیکھ کر پڑھی تھی۔ دُعا یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ ھٰذَہٖ مِنًی فَامْنُنْ عَلَیَّ بِمَا مَنَنْتَ بِہٖ عَلٰی اَوْلِیَآئِکَط

ترجَمہ:اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !یہ مِنٰی ہے مجھ پر وہ اِحسان فرما جو تُو نے اپنے اولیاء پر فرمایا۔

یاالٰہی فضل کر تجھ کو مِنٰی کا واسِطہ

حاجیوں کا واسِطہ کُل اولیاء کا واسِطہ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دسویں ذُوالحجہ کا پہلا کام رَمی: مُزْدَلِفہ شریف سے مِنٰی شریف پہنچ کر سیدھے جَمْرَۃُ العَقَبَہ یعنی بڑے شیطان کی طرف تشریف لایئے، آج صِرْف اِسی ایک کو کنکریاں مارنی ہیں ۔ پہلے کعبۂ شریف کی سَمْت معلوم کرلیجئے پھرجَمرے سے کم از کم پانچ ہاتھ (یعنی تقریباً ڈھائی گز)دُور(زِیادہ کی کوئی قید نہیں )اِس طرح کھڑے ہوں کہ مِنٰی آپ کے سیدھے ہاتھ پر اور کعبہ شریف اُلٹے ہاتھ کی طرف رہے اورمُنہ جَمرے کی طرف ہو، سات کنکریاں اپنے اُلٹے ہاتھ میں رکھ لیجئے بلکہ دو تین زائد لے لیجئے ۔[8]؎ اب سیدھے ہاتھ کی چٹکی میں لے کراورہاتھ اچّھی طرح اُٹھا کر کہ بغل کی رنگت ظاہِر ہو ہر بار بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَر کہتے ہوئے ایک ایک کر کے سات کنکریاں اِس طرح ماریئے کہ تمام کنکریاں جمرے تک پہنچیں ورنہ کم از کم تین ہاتھ کے فاصلے تک گریں ۔ پہلی کنکری مارتے ہی لَبَّیْک کہنا موقوف کردیجئے جب سات پوری ہوجائیں تو وہاں نہ رُکیے، نہ سیدھے جایئے نہ دائیں بائیں بلکہ فوراً ذِکر و دُعا کرتے ہوئے پَلَٹ آئیے۔(بہارِ شریعت ج۱ص۱۱۹۳)(فوراً پلٹنا ہی سنّت ہے مگراب جدید تعمیرات کے سبب پلٹنا ممکن نہیں رہا لہٰذا کنکریاں مارکر کچھ آگے بڑھ کر ’’ یوٹرن‘‘ کی ترکیب کرنی ہو گی)

رَمی کے وَقت احتِیاط کے5مَدَنی پھول

خوش نصیب حاجیو!رَمیِ جَمرات کے وَقْت خُصُوصاً دسویں کی صُبح حاجیوں کا زبردست رَیلا ہوتاہے اوربعض اَوقات اِس میں لوگ کُچلے بھی جاتے ہیں ۔

سگِ مدینہ عفی عنہ نے ۱۴۰۰؁ھ میں دسویں کو صُبح مِنٰی شریف میں اپنی آنکھوں سے یہ لرزہ خَیز منظَر دیکھا تھا کہ لاشوں کو اُٹھا اُٹھا کر ایک قِطار میں لِٹایا جا رہا تھا مگر اب جگہ میں کافی توسیع کر دی گئی ہے نیچے کے حصّے کے علاوہ اوپر چار منزلیں مزید بنا دی گئی ہیں اِس لئے ہجوم کافی تقسیم ہو جاتا ہے۔ کچھ اِحتِیاطیں عرض کرتا ہوں :

[1]: 10 ویں کی صبح کافی ہُجوم ہوتا ہے، دوپہر کے تین چار بجے بھیڑ کم ہو جاتی ہے اب اگراسلامی بہنیں بھی ساتھ ہوں تو حَرَج نہیں اُوپرکی منزل سے رَمْی کریں گے تو رَش اور بھی کم ملے گا اور کُھلی ہوا بھی مِل سکے گی[2]رَمی میں چھڑی، چَھتری اور دیگر سامان ساتھ نہ لے جایئے ، انتِظامیہ کے اَہل کار لے لیتے ہیں ، واپَس ملنا دشوارہوتا ہے ۔ ہاں ، چھوٹا سا اسکول بیگ اگر کمر پر لٹکا ہوا ہو تو بعض اوقات لے جانے دیتے ہیں مگر10ویں کی رَمی میں یہ بھی نہ ہی لے جائیں تو بہتر ہے کہ روک لیا تو آپ آزمائش میں پڑ سکتے ہیں ۔11اور 12کی رَمی میں چھوٹی موٹی چیزیں لے جانے کے معاملے میں انتطامیہ کی طرف سے سختی قدرے کم ہو جاتی ہے [3] ویل چئیر والوں کیلئے رَمی کا مناسِب وَقْت تینوں دن بعد نَمازِعَصْر ہے[4] کنکریاں مارتے وَقْت کوئی چیز ہاتھ سے چھوٹ کر گرجائے یاپاؤں سے چپل نکلتی محسوس ہو تو ہُجوم ہونے کی صورت میں ہرگز مت جُھکئے[5]جب کچھ رُفَقاء مل کر رَمیکرنا چاہیں تو پہلے ہی سے واپس مِلنے کی کوئی قریبی جگہ مقرَّر کر کے اُس کی نشانی یاد رکھ لیجئے ورنہ بِچھَڑ جانے کی صورت میں بے حد پریشانی ہوسکتی ہے ۔ بھیڑ کے دیگر مقامات پر بھی اِس بات کا خیال رکھئے۔ سگِ مدینہ عُفِیَ عَنہ نے ایسے ایسے بوڑھے حاجیوں اورحَجَّنوں کو بِچھَڑتے دیکھا ہے کہ بے چاروں کو اپنے مُعلِّمتک کا نام معلوم نہیں ہوتا اور پھر بچاروں کیلئے وہ آزمائش ہوتی ہے کہ اَلْاَمان وَالْحَفِیْظ ۔

’’اللہ غفار‘‘کے آٹھ حروف کی نسبت سے

رَمی کے 8 مَدَنی پھول

دو فرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:{۱}عرض کی گئی:رَمی جِمار میں کیا ثواب ہے؟آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: تو اپنے رب کے نزدیک اس کا ثواب اُس وَقت پائے گا کہ تجھے اس کی زیادہ حاجت ہو گی ۔ (مُعْجَمُ اَ وْسَط ج ۳ ص ۱۵۰ حدیث ۴۱۴۷) {۲} جمروں کی رَمی کرنا تیرے لیے قِیامت کے دن نور ہوگا۔(اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۲ص۱۳۴حدیث ۳){۳}سات کنکریوں سے کم مارنا جائز نہیں ۔ اگر صِرْف تین ماریں یا بالکل رَمْی نہ کی تو دَم واجِب ہوگا اور اگر چار ماریں تو باقی ہر کنکری کے بدلے صَدَقہ ہے۔(رَدُّالْمُحتار ج۳ص۶۰۸){۴}اگرسب کنکریاں ایک ساتھ پھینکیں تویہ سات نہیں فَقَط ایک مانی جائے گی۔ (اَیضاً ص ۶۰۷ ) {۵}کنکریاں زمین کی جِنس سے ہونا ضَروری ہیں ۔(جیسے کَنکَر، پتَّھر،چُونا، مِٹّی) اگرمَینگنی ماری تو رَمی نہیں ہوگی۔(دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتار ج۳ص۶۰۸){۶}اِسی طرح بعض لوگ جَمرات پر ڈَبّے،یا جوتے مارتے ہیں یہ بھی کوئی سنَّت نہیں اور کنکری کے بدلے جوتا یا ڈبّا مارا تو رَمْی ہوگی ہی نہیں {۷}رَمْی کے لیے بہتر یِہی ہے کہمُزْدَلِفہ سے کنکریاں لی جائیں مگر لازِمی نہیں دُنیا کے کسی بھی حصّے کی کنکریاں ماریں گے رَمْی دُرُست ہے{۸}دسویں کی رَمْی طُلُوعِ آفتا ب سے لے کر زَوال تک سنَّت ہے، زَوال(یعنی ابتدائے وقتِ ظہر) سے لے کر غُروبِ آفتاب تک مُباح (یعنی جائز)ہے اور غُروبِ آفتاب سے صُبحِ صادِق تک مکروہ ہے۔ اگر کسی عُذْر کے سبب ہو مَثَلاًچَرواہے نے رات میں رَمْی کی تو کَراہت نہیں ۔ (اَیضا ًص ۶۱۰)

اِسلامی بہنوں کی رَمی: عُموماً دیکھا جاتا ہے کہ مَرْد بِلا عُذْر عورَتوں کی طرف سے رَمْی کر دیا کرتے ہیں اِس طرح اِسلامی بہنیں رَمْی کی سَعادت سے مَحروم رَہ جاتی ہیں اور چُونکہ رَمی واجِب ہے لہٰذا تَرکِ واجِب کے سبب اُن پر دَم بھی واجِب ہوجاتاہے لہٰذا اِسلامی بہنیں اپنی رَمی خود ہی کریں ۔

مریضوں کی رَمی: بعض حاجی صاحِبان یوں تو ہر جگہ دَندَناتے پھرتے ہیں لیکن معمولی سی بیماری کے سبب وہ دوسروں سے رَمی کروا لیتے ہیں ۔

مریض کی طرف سے رمی کا طریقہ: صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : جو شخص مریض ہو کہ جَمرے تک سُواری پر بھی نہ جا سکتا ہو، وہ دوسرے کو حکم کر دے کہ اس کی طرف سے رَمی کرے اور اُس کو چاہیے کہ پہلے اپنی طرف سے سات کنکریاں مارنے کے بعد مریض کی طرف سے رَمی کرے یعنی جب کہ خود رَمی نہ کرچکا ہو اور اگر یوں کیا کہ ایک کنکری اپنی طرف سے ماری پھر ایک مریض کی طرف سے، یوہیں سات بار کیا تو مکروہ ہے اور مریض کے بِغیر حکم رَمْی کردی تو جائز نہ ہوئی اور اگر مریض میں اتنی طاقت نہیں کہ رَمْی کرے تو بہتر یہ کہ اُس کا ساتھی اُس کے ہاتھ پر کنکری رکھ کر رَمْی کرائے۔ یوہیں بیہوش یا مَجنون یا نا سمجھ کی طرف سے اس کے ساتھ والے رَمْی کر دیں اور بہتر یہ کہ اُن کے ہاتھ پر کنکری رکھ کر رَمْی کرائیں ۔(بہارِ شریعت ج ۱ ص ۱۱۴۸)

’’ابراہیم‘‘کے سات حروف کی نسبت سے

حج کی قُربانی کے 7مَدَنی پھول

{۱}دسویں کو بڑے شیطان کی رَمی کرنے کے بعد قُربان گاہ تشریف لایئے اورقُربانی کیجئے، یہ وہ قُربانی نہیں جو بَقَرہ عید میں ہُوا کرتی ہے بلکہ حج کے شکرانے میں قارِن اور مُتَمَتِّع پر واجِب ہے چاہے وہ فقیرہی کیوں نہ ہو،مُفرِد کے لئے یہ قُربانی مُستحب ہے چاہے وہ غنی(مالدار) ہو{۲}یہاں بھی جانور کی وُہی شرائط ہیں جو بقرہ عید کی قُربانی کی ہوتی ہیں ۔ (بہارِ شریعت ج ۱ ص۱۱۴۰)مَثَلاًبکرا (اس میں بکری ،دُنبہ ،دُنبی اوربھیڑ(نرو مادہ) دونوں شامل ہیں )ایک سال کا ہو، اس سے کم عمر ہوتو قربانی جائز نہیں ، زیادہ ہوتو جائز بلکہ افضل ہے۔ ہاں دُنبہ یا بَھیڑ کا چھ مہینے کا بچّہ اگر اتنا بڑا ہوکہ دُور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہوتو اس کی قربانی جائز ہے۔(دُرِّمُختارج۹ص۵۳۳) یادرکھئے!مُطلَقاًچھ ماہ کے دُنبے کی قربانی جائز نہیں ، اس کا اِتنا فَربَہ(یعنی تگڑا) اور قد آور ہونا ضَروری ہے کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا لگے۔اگر 6ماہ بلکہ سا ل میں ایک دن بھی کم عمر کا دُنبے یا بَھیڑ کا بچّہ جودُور سے دیکھنے میں سال بھر کا نہیں لگتا تو اس کی قربانی نہیں ہو گی{۳} اگر جانور کاکان ایک تہائی(3/1) سے زِیادہ کٹا ہوا ہوگا تو قُربانی ہوگی ہی نہیں اور اگر تہائی یا اِس سے کم کٹا ہُوا ہو، یا چِرا ہوا ہو یا اُس میں سوراخ ہو اِسی طرح کوئی تھوڑا سا عیب ہوتو قربانی ہو تو جائے گی مگر مکروہِ( تنزیہی ) ہو گی {۴}ذَبح کرنا آتا ہو تو خود ذَبح کرے کہ سنت ہے، ورنہ ذَبح کے وَقْت حاضر رہے ۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۱۱۴۱) دوسرے کو بھی قُربانی کا نائب کرسکتے ہیں [9]؎ {۵}اُونٹ کی قُربانی افضل ہے کہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حِجَّۃُ الْوَداع کے موقع پر اپنے دَستِ مُبارَک سے63 اُونٹ نَحْر فرمائے ۔ اور سرکار ِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اجازت سے بَقِیَّہ اُونٹ حضرتِ مولاعلی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے نحرکئے۔(مسلم ص۶۳۴حدیث ۱۲۱۸) ایک اور روایت میں ہے کہ سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس پانچ یا چھ اُونٹ لائے گئے تو اُونٹوں پر بھی گویا ایک وجد طاری تھا اور وہ اس طرح آگے بڑھ رہے تھے کہ ہر ایک چاہتا تھا کہ پہلے مجھے نَحْر ہونے کی سعادت مل جائے۔ ( ابوداوٗدج۲ ص ۲۱۱حدیث ۱۷۶۵)

ہر اک کی آرزو ہے پہلے مجھ کو ذَبح فرمائیں

تماشا کر رہے ہیں مرنے والے عیدِ قرباں میں (ذوقِ نعت)

{۶} بہتر یہ ہے کہ ذبح کے وقت جانور کے دونوں ہاتھ، ایک پاؤں باندھ لیجئے ذَبح کرکے کھول دیجئے۔ یہ قربانی کرکے اپنے اور تمام مسلمانوں کے حجّ و قربانی قَبول ہونے کی دعا مانگئے۔(بہارِ شریعت ج۱ص۱۱۴۱){۷}دسویں کو قُربانی کرنا افضل ہے گیارہویں اور بارہویں کو بھی کرسکتے ہیں مگر بارہویں کو غُروبِ آفتاب پر قُربانی کا وَقْت ختم ہوجاتاہے۔

حاجی اوربَقَرہ عید کی قُربانی

سُوال: حاجی پر بَقرہ عید کی قُربانی واجب ہے یا نہیں ؟

جواب: مُقِیم مالدار حاجی پر واجِب ہے، مُسافِرحاجی پر نہیں اگر چِہ مالدار ہو۔بَقَرہ عید کی قربانی کاحَرَم شریف میں ہونا ضَروری نہیں ، اپنے مُلک میں بھی کسی کو کہہ کر کروائی جاسکتی ہے۔ البتّہ دن کا خیال رکھنا ہو گا کہ جہاں قربانی ہونی ہے وہاں بھی اور جہاں قربانی والا ہے وہاں بھی دونوں جگہ ایّام قربانی ہوں ۔ مُقِیم حاجی پر قربانی واجِب ہونے کے بارے میں ’’اَلْبَحرُالرَّائق ‘‘ میں ہے:اگر حاجی مسافر ہے تو اُس پر قربانی واجِب نہیں ہے ،ورنہ وہ(یعنی مقیم حاجی) مکّی کی طرح ہے اور(غنی ہونے کی صورت میں ) اُس پرقربانی واجِب ہے ۔(اَلبَحرُالرّائق ج۲ ص۶۰۶)عُلَماء کرام نے جس حاجی پر قربانی واجِب نہ ہونے کاقَول کیا ہے اس سے مُراد وہ حاجی ہے جو مسافِر ہو۔چُنانچِہ ’’مَبسُوط ‘‘میں ہے: قربانی شہر والوں پر واجِب ہے ، حاجیوں کے علاوہ اور یہاں شہروالوں سے مُرادمُقیم ہیں اور حاجیوں سے مُراد مسافِر ہیں ،اہلِ مکہ پر قُربانی واجِب ہے اگرچِہ وہ حج کریں ۔(المبسوط للسرخسی ج۶ ،الجزء الثانی عشرص۲۴)

قُربانی کے ٹوکن: آج کل بَہُت سارے حاجی صاحِبان بینک میں قُربانی کی رقم جمع کرواکر ٹوکن حاصِل کرتے ہیں ، آپ ایسا مت کیجئے ۔ ادارے کے ذَرِیعے قُربانی کروانے میں سَراسَرخطرہ ہے کیونکہ مُتَمَتِّع اورقارِن کے لیے یہ ترتیب واجِب ہے کہ پہلے رَمی کرے پھر قُربانی اورپھر حَلْق اگر اِس ترتیب کے خِلاف کیا تو دَم واجِب ہوجائے گا۔ اب آپ نے اِدارے کو رقم جمع کروادی ،اُنہوں نے اگر چِہ قُربانی کا وَقْت بھی بتادِیا پھر بھی اِس بات کا پتا لگنا بے حد دُشوار ہے کہ آپ کی طرف سیقُربانی وَقْت پر ہوئی یا نہیں !اگر آپ نے قُر بانی سے پہلے ہی حَلْق کروادِیا تو آپ پر’’ دَم ‘‘ واجِب ہوجائے گا۔اِدارے کے ذَرِیعے قُربانی کروانے والوں کو یہ اِختِیار دِیا جاتاہے کہ اگر وہ اپنی قُربانی کا صحیح وَقت معلوم کرنا چاہیں تو 30 اَفراد پر اپنا ایک نمایَندہ منتخَب کرلیں اُس کو پھر ’’خُصُوصی پاس‘‘ جاری کیاجاتاہے اوروہ جاکرسب کی قُربانیاں ہوتی دیکھ سکتا ہے۔ مگر یہاں بھی ایک خطرہ موجود ہے اور وہ یہ کہ اِدارے والے لاکھوں جانور خریدتے ہیں اور اُن سب کا بے عَیب ہونا قریب بہ ناممکن ہے۔ اکثر کاروان والے بھی اجتِماعی قُربانیوں کی ترکیب کرتے ہیں مگر ان میں بھی بعضوں کی’’ بد عُنوانیوں ‘‘ کی بد ترین داستانیں ہیں ! بَہَرحال مناسِب یِہی ہے کہ اپنی قُربانی آپ خود ہی کریں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

’’یا ربِّ اُمّتِ نبی کو بخش دے‘‘ کے ستّرہ حُرُوف کی نسبت سےحَلق اور تَقصِیر کے 17 مَدَنی پھول

حج و عمرے کے اِحرام کھولنے کے وَقْت سر مونڈانے کے مُتعلّق دو فرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مُلاحَظہ فرمایئے : {۱} بال مونڈانے میں ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے اور ایک گناہ مٹایا جاتا ہے۔(اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیبج۲ ص ۱۳۵ حدیث ۳ ){۲}سرمُونڈانے میں جو بال زمین پر گرے گا، وہ تیرے لیے قِیامت کے دن نور ہو گا (اَیضاً) {۳}قُربانی سے فارِغ ہوکر قِبلے کی طرف مُنہ کر کے اسلامی بھائی حَلْق کریں یعنی تمام سَر کے بال مُنڈوا دیں یا تَقصِیر کریں یعنی کم از کم چوتھائی (4/1) سَر کے بال اُنگلی کے پَورے کے برابر کٹوائیں ۔دو تین جگہ سے چند بال قینچی سے کاٹ لینا کافی نہیں {۴} حَلْق ہو یا تقصیر سیدھی جانب سے ابتِدا کیجئے{۵}اِسلامی بہنیں صِرْف تَقصِیر کروائیں یعنیچوتھائی (4/1) سَرکے بالوں میں سے ہر بال اُنگلی کے پَورے کے برابر کٹوائیں یا خود ہی قینچی سے کاٹ لیں ۔انہیں سر مُنڈوانا حرام ہے ۔(بہارِ شریعت ج۱ ص۱۱۴۲) (یاد رہے! عورت کا غیر مَرد سے بال کٹوانا کُجااُس کے آگے اپنے بال ظاہِر کرنا بھی جائز نہیں ) {۶}بال چُونکہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں لہٰذا ایک پَورے سے زِیادہ کٹوائیں تاکہ چوتھائی سر کے بال کم از کم ایک پَورے کے برابرکٹ جائیں {۷}اب اِحرام سے باہَر ہونے کا وَقْت آگیا تو اب مُحرِم (یعنی اِحرام والا)اپنا یا دوسرے کا سَرمُونڈ یا قَصْر کر سکتا ہے اگرچِہ دوسرابھی مُحرِم ہو{۸}حَلْق یا تَقصِیر سے پہلے اگر ناخُن کتروائیں گے یا خط بنوائیں گے تو کَفّارہ لازِم آئے گا۔اِ س موقع پر سر مُنڈوانے کے بعد مُونچھیں تَرشوانا ، مُوئے زیرِ ناف دُور کرنامُستَحب ہے{۹} حَلْق یا تَقصِیر کا وَقْت اَیّامِ نَحْر یعنی 10 ، 11 اور12 ذُوالْحِجَّہ ہے اورافضل 10۔اگر بارہویں کے غروبِ آفتاب تک حَلْق یا قَصْرنہ کیا تو دَم لازِم آئے گا (عالمگیری ج۱ص۲۳۱،رَدُّالْمُحتارج۳ص۶۱۶){۱۰} جس کے سَرپر بال نہ ہوں ، قُدرَتی گَنج ہو اُسے بھی سَر پر اُسْتَرہ پِھروانا واجِب ہے(عالمگیر ی ج ۱ص۲۳۱) {۱۱} اگر کسی کے سَر پر پُھڑیاں ہیں ۔ جن کی وجہ سے مُنڈوانہیں سکتا اور بال بھی اِتنے بڑے نہیں کہ کٹوا سکے تو اِس مجبوری کے سبب اُس سے مُنڈوانااورکتروانا ساقِط ہوگیا اُسے بھی مُنڈوانے اورکتروانے والوں کی طرح سب چیزیں حَلال ہوگئیں مگر بہتر یہ ہے کہ اَیّامِ نَحْر ختم ہونے تک بدستور اِحرام میں رہے (ایضاً) {۱۲}حَلْق یا قَصْرمنٰی شریف میں سنَّت ہے جبکہ حُدُودِ حَرَم میں واجِب۔ اگر حُدُودِ حَرَم سے باہَر کیاتو دَم واجِب ہوگا۔{۱۳} حَلْق یا تَقصِیر کے دَوران یہ تکبیر پڑھتے رہیے اور فارِغ ہو کر بھی پڑھئے: اَللّٰہُ اَکْبَرُ ط اَللّٰہُ اَکْبَرُ طلَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکْبَرُ ط اَللّٰہُ اَکْبَرُ ط وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُ ط

{۱۴} بعدِ فَراغَت اوّل آخِر دُرُود شریف کے ساتھ یہ دُعا پڑھئے: اَللّٰھُمَّ اَثْبِتْ لِیْ لِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃً وَّ امْحُ عَنِّیْ بِھَا سَیِّئَۃً وَّارْفَعْ لِیْ بِھَا عِنْدَكَ دَرَجَۃً ط

ترجمہ: اےاللہ! ہر بال کے بدلے میرے لئے ایک نیکی لکھ دے اور ایک گناہ مٹاد ے اور اپنے ہاں ہر بال کے بدلے میرا ایک دَرَجہ بلند فرما دے۔(احیاء العلوم ج۱ ص۳۴۳)اورتمام اُمَّت کے لئے دُعائے مغفِرت کیجئے {۱۵}مُفْرِد اگر قُربانی کرنا چاہے تو اُس کے لیے مُستَحَب یہ ہے کہ حَلْق یا تَقصِیر قُربانی کے بعد کروائے اوراگر حَلْق کے بعد قُربانی کی جب بھی حَرَج نہیں اورتَمَتُّع اورقِران والے کے لیے حَلْق یاتَقصِیر قُربانی کے بعد کرنا واجِب ہے، اگر پہلے حَلْق یا تَقصِیر کرے گا تو دَم واجِب ہوجائے گا(بہارِ شریعت ج۱ ص۱۱۴۲){۱۶} بال دَفن کر دیں اور ہمیشہ بدن سے جو چیز بال، ناخُن، کھال جُدا ہوں دَفن کر دیا کریں ۔ (ایضاً ص ۱۱۴۴) {۱۷}حَلْق یا تَقصِیر کے بعداب عورت سے صُحبت کرنے، بشہوت اُسے ہاتھ لگانے ، بوسہ لینے، شرم گاہ دیکھنے کے سوا جو کچھ احرام نے حرام کیا تھا سب حلال ہوگیا ۔(ایضاً )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

’’کعبے کا طواف‘‘کے دس حروف کی نسبت سےطَوافِ زِیارت کے10 مَدَنی پھول

{۱}طَوافُ الزِّیارۃکو ’’ طوافِ اِفاضہ‘‘ بھی کہتے ہیں یہ حج کا دوسرا رُکن ہے، اِس کا وَقْت 10ذُوالْحِجَّۃِ الحرامکی صبحِ صادِق سے شُروع ہوتا ہے اِس سے قَبل نہیں ہو سکتا۔اس میں چار پھیرے فرض ہیں بِغیر اس کے طواف ہو گا ہی نہیں اور حج نہ ہو گااور پورے سات کرنا واجِب ہے {۲} طَوافُ الزِّیارۃدسویں ذُوالْحِجَّہ کو کرلینا افضل ہے، لہٰذا پہلے جَمْرَۃُ الْعَقَبَہ کی رَمی پھر’’ قُربانی‘‘ اوراِس کے بعد حَلْق یا تَقصِیر سے فارِغ ہولیں ، اب افضل یہ ہے کہ کچھ قُربانی کا گوشْتْ کھاکر پیدل مکّۂ مکرَّمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً حاضِر ہوں اور یہ بھی افضل ہے کہ بابُ السَّلام سے مسجدُ الحرام شریف میں داخِل ہوں {۳}افضل وَقْت تو10 تاریخ ہی ہے مگر تینوں دن یعنی بارھویں کے غُروب ِ آفتاب تک طوافِ زیارت کر سکتے ہیں چُونکہ 10تاریخ کو بِھیڑ زیادہ ہوتی ہے لہٰذا اپنی سَہولت کوپیشِ نظر رکھنا بَہُت مفید رہے گا ۔ اس طرح اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مُتَعدِّد تکلیف دہ چیزوں اور بعض صورَتوں میں دوسروں کی اِیذا رسانیوں ، عورَتوں سے گُڈمُڈ ہونے ان سے بدن ٹکرانے اورنَفْس و شیطان کے بہکاوے میں آ کر ہونے والے گناہوں سے بچت ہو جائے گی {۴}باوُضو اور سترِ عورَت کے ساتھ طَواف کیجئے۔(اکثر اسلامی بہنوں کی کلائیاں دَورانِ طواف کُھلی ہوتی ہیں اگر ’’طوافُ الزّیارۃ‘‘کے چار پھیرے یا اس سے زیادہ اس طرح کئے کہ چہارم (4 / 1) کلائی یا چوتھائی (4 / 1) سر کے بال کُھلے تھے تو دم واجِب ہوگیا۔ اگر ستر عورت کے ساتھ اس طواف کا اعادہ(یعنی نئے سرے سے) کرلیا تو دم ساقِط ہوجائے گا) {۵} اگر قارِن اور مُفرِد’’طَوافِ قُدُوم‘‘میں اور مُتَمَتِّعحج کا اِحرام باندھنے کے بعد کسی نَفلی طَواف میں حج کے ’’رَمَل و سَعْی‘‘سے فارِغ ہو چکے ہوں تو اب طَوافِ زِیارت میں اِس کی حاجَت نہیں {۶} اگر حج کے رَمَل و سَعْی سے پہلے فارِغ نہیں ہوئے تھے تو اب روزہ مرّہ کے کپڑوں ہی میں کرلیجئے۔ ہاں ’’اِضْطِباع ‘‘ نہیں ہو سکے گا کیوں کہ اب اِس کا موقع نہ رہا {۷}جو گیارہویں کو نہ جائے بارھویں کو کرلے اس کے بعد بِلاعُذْر تاخیر گناہ ہے، جُرمانے میں ایک قُربانی کرنی ہوگی۔ ہاں مَثَلاً عورت کو حیض یا نِفاس آگیا تو ان کے ختم کے بعد طواف کرے مگر حیض یانِفاس سے اگر ایسے وَقت پاک ہوئی کہ نہا دھو کر بارھویں تاریخ میں آفتاب ڈوبنے سے پہلے چار پھیرے کرسکتی ہیتو کرنا واجِب ہے، نہ کرے گی گنہگار ہوگی۔ یوہیں اگر اتنا وَقْت اُسے ملا تھا کہ طواف کرلیتی اور نہ کیا اب حَیض یا نِفاس آگیا تو گنہگار ہوئی ۔ (ایضاً ص۱۱۴۵) {۸}اگرطَوافُ الزِّیارۃ نہ کیا عورَتیں حَلال نہ ہوں گی چاہے برسوں گزر جائیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۲۳۲)اِسی طرح اگر بیوی نے نہیں کیا تو شوہر اُس کیلئے حلال نہ ہو گا {۹} طَواف سے فارِغ ہوکر دو رَکْعَت ’’واجِبُ الطَّواف‘‘بدستور اداکیجئے اِس کے بعد ’’مُلْتَزَم‘‘پر بھی حاضِری دیجئے اور ’’آبِ زَم زَم‘‘بھی خوب پیٹ بھر کرنَوش کیجئے {۱۰} اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ

!مُبارَک ہو کہ آپ کا حج مکمّل ہوگیا اور عورَتیں بھی حَلال ہوگئیں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

’’یا اللہ شیطان سے پناہ دے‘‘کے اٹھار حروف کی نسبت سے گیارہ اوربارہ کی رَمی کے 18 مَدَنی پھول

[1]11اور12 ذُوالْحِجَّہکو تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنی ہیں ۔اِس کی ترتیب یہ ہے:پہلے جَمْرَۃُ الْاُولٰی(یعنی چھوٹا شیطان)پھر جَمْرَۃُ الوُسْطی (یعنی منجھلا شیطان)اورآخِر میں جَمْرَۃُ العَقَبَہ (یعنی بڑا شیطان) [2]دوپَہَر (یعنی ظہر کا وَقت شُروع ہونے)کے بعد جَمْرَۃُ الْاُولٰی (یعنی چھوٹے شیطان ) پر آیئے اور قِبلے کی طرف مُنہ کر کے سات کنکریاں ماریئے(کنکری پکڑنے اور مارنے کا طریقہ اسی کتاب کے صَفْحَہ 187پر گزرا) کنکریاں مارکر جمرے سے کچھ آگے بڑھ جایئے اور اُلٹے ہاتھ کی جانِب ہٹ کر قِبلہ رُو کھڑے ہوکر دونوں ہاتھ کندھوں تک اُٹھایئے کہ ہتھیلیاں آسمان کی طرف نہیں بلکہ قبلے کی جانب رہیں ، [10]؎ اب دُعا و اِستِغفار میں کم از کم 20 آیتیں پڑھنے کی مِقدار مشغول رہئے[3] اب جَمْرَۃُ الوُسْطیٰ(یعنی منجھلے شیطان)پر بھی اِسی طرح کیجئے[4]پھر آخِر میں جَمْرَۃُ العَقَبَہ(یعنی بڑے شیطان ) پر اُس طرح ’’رمی‘‘کیجئے جس طرح آپ نے10 تاریخ کو کی تھی ( طریقہ صفحہ186 پر گزرا) یاد رہے! بڑے شیطان کی رَمی کے بعد آپ کو ٹھہرنا نہیں ، فوراً پلٹ پڑنا اور اِسی دَوران دُعا بھی کرنی ہے۔(دُرُست طریقہ یہی ہے مگراب فوراً پلٹنا ممکِن نہیں رہا لہٰذا کنکریاں مارکر کچھ آگے بڑھ کر ’’ یُوٹَرن‘‘ کی ترکیب فرما لیجئے) [5]بارہویں کو بھی اِسی طرح تینوں جَمرات کی رَمی کیجئے [6] گیارہویں اور بارہویں کی رَمی کا وَقتزَوالِ آفتاب (یعنی ابتدائے وقت ظہر) سے شُروع ہوتا ہے۔ لہٰذا گیارہویں اور بارہویں کی رمی دوپَہر سے پہلے اصلاً(یعنی بالکل) صحیح نہیں ۔ (بہارِ شریعت ج۱ ص۱۱۴۸) [7]دسویں ، گیارہویں اور بارہویں کی راتیں (اکثر یعنی ہررات کا آدھے سے زیادہ حصّہ) مِنٰی شریف میں گزارنا سُنَّت ہے [8] بارھویں کی رَمی کرکے غُروبِ آفتاب سے پہلے پہلے اختیار ہے کہ مَکَّہ مُعَظَّمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کو روانہ ہو جائیں مگر بعدِ غُروب چلا جانا مَعیُوب۔ اب ایک دن اور ٹھہرنا اور تیرھویں کو بدستور دوپہر ڈھلے(یعنی ابتدائے وقت ِظہر) رَمی کرکے مکہ شریف جانا ہوگا اور یِہی افضل ہے [9] اگرمِنٰی میں تیرھویں کی صُبحِ صادِق ہو گئی اب رَمی کرنا واجِب ہوگیا اگر بِغیر رَمی کئے چلے گئے تو دَم واجِب ہوگا [10] گِیارہویں اوربارہویں کی رَمی کا وَقْت آفتا ب ڈھلنے (یعنی ظہر کا وَقت شُروع ہونے) سے صُبحِ صادِق تک ہے مگر بِلا عُذْر آفتاب ڈوبنے کے بعد رَمی کرنا مکروہ ہے [11]تیرہویں کی رَمی کا وَقت صُبحِ صادِق سے غُروبِ آفتاب تک ہے مگر صُبح سے ابتِدائے وَقتِ ظہر تک مکروہِ (تنزیہی) ہے، ظہر کا وَقت شُروع ہونے کے بعد مَسنُون ہے[12]کسی دِن کی رَمی اگر رہ گئی تو دوسرے دِن قضا کرلیجئے اور دَم بھی دینا ہوگا۔ قضا کا آخِری وَقْت تیرھویں کے غروبِ آفتاب تک ہے[13]رَمی ایک دِن کی رہ گئی اور آپ نے تیرھویں کے غروبِ آفتاب سے پہلے پہلے قضا کر لی تب بھی اوراگر نہیں کی جب بھی یاایک سے زِیادہ دِنوں کی رہ گئی بلکہ بالکل رَمی کی ہی نہیں ہر صورت میں صِرْف ایک ہی دَم واجِب ہے[14]زائد بچی ہوئی کنکریاں کسی کو ضَرورت ہوتواُس کو دے دیجئے یا کسی پاک جگہ ڈال دیجئے، ان کو جمروں پر پھینک دینا مکروہِ(تنزیہی) ہے [15]آپ نے کنکری ماری اور وہ کسی کے سَر وغیرہ سے ٹکرا کر جَمرے کو لگی یا تین ہاتھ کے فاصِلے پر گری تو جائز ہوگئی[16]اگر آپ کی کنکری کسی پر گری اور اُس نے ہاتھ وغیرہ کا جھٹکا دِیا جس سے وہاں تک پہنچی تو اُس کے بدلے کی دوسری ماریئے [17]اُوپر کی منزِل سے رَمی کی اورکنکری جَمرے کے گرد بنی ہوئی پیالہ نُما فصیل (یعنی باؤنڈری )میں گری تو جائز ہوگئی کیونکہ فصیل میں سے لڑھک کر یا تو جمرے کو لگتی ہے یا تین ہاتھ کے فاصلے کے اَندر اَندر گرتی ہے[18]اگر شک ہو کہ کنکری اپنی جگہ پہنچی یا نہیں تو دوبارہ ماریئے۔(بہارِ شریعت ج۱ ص۱۱۴۶،۱۱۴۸)

’’والعیاذ باللہ‘‘ کے بارہ حروف کی نسبت سےرَمی کے 12 مکروہات

(نمبر1اور2 سنتِ مؤکدہ کے ترک کی وجہ سے اِساء ت۔جبکہ بقیہ سب مکروہِ تنزیہی ہیں )

[1]دسویں کی رَمی بِغیر مجبوری کے غُروبِ آفتاب کے بعد کرنا۔(سُنتِ مؤکدہ کے خلاف ہونے کے سبب اِسائَ ت ہے)[2]جمروں میں خِلافِ ترتیب کرنا[3]تیرہویں کی رَمی ظہر کا وَقْت شُروع ہونے سے پہلے کرنا[4]بڑا پتَّھر مارنا[5]بڑے پتھر کو توڑ کر کنکریاں بنانا[6]مسجِد کی کنکریاں مارنا [7] جَمرے کے نیچے جو کنکریاں پڑی ہیں اُن میں سے اُٹھا کر مارنا(مکروہِ تنزیہی ہے) کہ یہ نامقبول کنکریاں ہیں ، جو مقبول ہوتی ہیں وہ غیبی طور پراُٹھا لی جاتی ہیں اور قِیامت کے دِن نیکیوں کے پلڑے میں رکھی جائیں گی [8]جان بوجھ کر سات سے زِیادہ کنکریاں مارنا[9]ناپاک کنکریاں مارنا[10]رَمی کے لیے جو سَمْت مقرّر ہوئی اُس کے خِلاف کرنا [11] جمرے سے پانچ ہاتھ سے کم فاصلے پر کھڑے ہونا۔ زِیادہ کا کوئی مُضایَقہ نہیں ( البتہ یہ ضَروری ہے کہ قریب ہو تب بھی کنکری ماری ہی جائے،صرف رکھ دینے کے انداز میں نہ ہو ۔ ) [12]مارنے کے بدلے کنکری جمرے کے قریب ڈال دینا۔(بہارِ شریعت ج۱ص۱۱۴۸، ۱۱۴۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

’’یا خدا بار بار حج نصیب کر‘‘کے انیس حروف کی نسبت سے طَوافِ رُخصَت کے 19مَدَنی پھول

{۱}جب رُخصت کا اِرادہ ہو اُس وَقْت ’’آفاقی حاجی‘‘پر طَوافِ رُخصت واجِب ہے، نہ کرنے والے پر دَم واجِب ہوتاہے۔اِس کو طوافِ وَداع اورطوافِ صَدْر بھی کہتے ہیں {۲}اِس میں اِضْطِباع ، رَمَل اور سَعْی نہیں {۳}عُمرے والوں پر واجِب نہیں {۴}حَیض ونِفاس والی کی سِیٹ بُک ہے تو جاسکتی ہے اُس پر اب یہ طَواف واجِب نہیں اوردَم بھی نہیں {۵}طَوافِ رُخصت میں صِرْف طَواف کی نیَّت ہی کافی ہے، واجِب، ادا، وَداع (یعنی رُخصت) وغیرہ اَلفاظ نیَّت میں شامل ہونا ضَروری نہیں یہاں تک کہ طَوافِ نَفل کی نیَّت کی جب بھی واجِب ادا ہوگیا{۶}سَفَرکا اِرادہ تھا، طَوافِ رُخصت کرلیا پھر کسی وجہ سے ٹَھَہرنا پڑا جیسا کہ گاڑی وغیرہ میں عُموماً تاخیر ہوجاتی ہے اور اِقامَت کی نیَّت نہیں کی تو وُہی طَواف کافی ہے، دوبارہ کرنے کی حاجَت نہیں اورمسجدُ الحرام میں نَماز وغیرہ کے لیے جانے میں بھی کوئی مُضایَقہ نہیں ، ہاں مُستحب یہ ہے کہ پھر طَواف کرلے کہ آخِری کام طَواف رہے{۷}طَوافِ زِیارۃ کے بعد جو بھی پہلا نفلی طَواف کیا وُہی طَوافِ رُخصت ہے{۸}جو بِغیر طواف کے رُخصت ہوگیا تو جب تک مِیقات سے باہَر نہ ہوا واپَس آئے اورطواف کر لے{۹}اگر مِیقات سے باہَر ہونے کے بعد یاد آیا تو واپَس ہونا ضَروری نہیں بلکہ دَم کے لیے جانور حَرَم میں بھیج دے، اگر واپس ہو تو عُمرے کا اِحرام باندھ کر واپَس آئے اورعُمرے سے فارِغ ہوکرطوافِ رُخصت بجا لائے، اب اِس صورت میں دَم ساقِط ہوجائے گا{۱۰} طَوافِ رُخصت کے تین پھیرے چھوڑے گا تو ہر پھیرے کے بدلے ایک ایک صَدَقہ دے اوراگر چار سے کم کئے ہیں تو دَم دیناہوگا{۱۱}ہوسکے تو بے قراری کے ساتھ روتے روتے طوافِ رُخصت بجالائیے کہ نہ جانے آیَندہ یہ سَعادت مُیَسَّر آتی بھی ہے یا نہیں {۱۲} بعدِ طَواف بدستور دو رَکْعَت وا جِبُ ا لطَّواف ادا کیجئے{۱۳}طَوافِ رُخصت کے بعد بدستور زَم زَم شریف پر حاضِر ہوکر آبِ زَم زَم نوش کیجئے اوربَدَن پر ڈالئے{۱۴}پھر دَروازۂ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوکر ہوسکے تو آستانۂ پاک کو بوسہ دیجئے اورقَبولِ حج و زِیارت اور بار بار حاضِری کی دُعا مانگئے۔اور دعائے جامِع (یعنی رَبَّنَاۤ اٰتِنَا ۔۔۔اِلخ) یایہ دعاپڑھئے: اَلسَّآئِلُ بِبَابِكَ یَسْأَ لُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَمَعْرُوْفِكَ وَیَرْجُوْ رَحْمَتَكَ(ترجَمہ :تیرے دروازہ پر سائل تیرے فضل و احْسان کاسُوال کرتا ہے اور تیری رَحمت کا اُمّیدوار ہے )(بہارِ شریعت ج ۱ ص ۱۱۵۲) {۱۵}مُلْتَزَم پر آکر غلافِ کعبہ تھام کر اُسی طرح چمٹئے اور ذِکرودُرُوداور دُعا کی کثرت کیجئے{۱۶}پھر ممکن ہو تو حَجرِ اَسوَد کو بوسہ دیجئے اورجو آنسو رکھتے ہیں گرایئے {۱۷}پھر کعبۂ مُشَرَّفہ کی طرف مُنہ کئے اُلٹے پاؤں یا حسبِ معمول چلتے ہوئے بار بار مُڑ کر کعبۂ مُعظَّمہ کو حَسرَت سے دیکھتے ، اُس کی جُدائی پر آنسو بہاتے یا کم از کم رونے جیسی صورت بنائے مسجدُالحرام سے ہمیشہ کی طرح اُلٹا پاؤں بڑھا کر باہر نکلئے اور باہَر نکلنے کی دُعا پڑھئے{۱۸}حَیض و نِفاس والی دروازۂ مسجِد پر کھڑی ہوکر بہ نگاہِ حَسرَت کعبۂ مُشرَّفہ کی زِیارت کرے اور روتی ہوئی دُعا کرتی ہوئی پلٹے{۱۹}پھر بَقَدَرِ قُدرت فُقَرائے مَکَّۂ مُعظَّمہ میں خیرات تقسیم کیجئے۔(بہارِ شریعت ج۱ ص۱۱۵۱،۱۱۵۳)

یاالٰہی!ہر برس حج کی سعادت ہو نصیب

بعدِ حج جا کر کروں دیدارِدربارِ حبیب

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(رفیق الحرمین ،ص۱۴۸ تا ۲۰۸)


[1] ۔۔ آپ اپنے اپنے خیموں ہی میں ظہر کی نماز ظہر کے وقت میں اور عصر کی نماز عصر کے وقت میں باجماعت ادا کیجئے۔

[2] ۔۔۔ مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : اسم پاک ’’ارحمُ الراحمین‘‘ پر ایک فرِشتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مقرّر فرمایا ہے جوشخص اسے (یعنی ارحمُ الرّاحمین ) تین بار کہتا ہے فرِشتہ ندا کرتاہے :’’مانگ کہ ارحمُ الراحمین تیری طرف مُتَوَجِّہ ہوا۔‘‘ (احسن الوعا ص۷۰)

[3] ۔۔۔سیِّدُنا امام جعفرِصادِق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جو شخص عِجز (یعنی لاچاری) کے وَقت پانچ بار ’’ یَارَبَّنَا‘‘ کہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے اُس چیز سے امان بخشے جس سے خوف رکھتا ہے اور وہ جو دعا مانگتا ہے وہ عطا کرتا ہے۔(احسنُ الوعاص۷۱)

[4] ۔۔۔ ترمذی ج ۵ص ۳۱۸ حدیث ۳۵۵۱

[5] ۔۔۔ بدقسمتی سے ان تمام عزیزوں سے آجکل عُموماً پردہ نہیں کیا جاتا حالانکہ شریعت نے ان کے ساتھ بھی پردے کا حکم دیا ہے۔ان کی آپس میں بے پردگی اور بے تکلُّفی میں سخت گنہگاری اور عذاب ِنار کی حقداری ہے۔

[6] ۔۔۔ صبح صادق کے وقت مزدلفہ میں توپ کا گولہ چلایا جاتا ہے تاکہ حجاج کو فجر کی نمازکے وقت کا پتا چل جائے۔

[7] ۔۔۔ یہ مِنٰی اورمُزدَلِفہ کے بیچ میں ہے اور یہ ان دونوں کی حُدود سے خارِج مُزدلفہ سے منٰی کو جاتے ہوئے بائیں ( یعنی الٹے)ہاتھ کوجو پہاڑپڑتا ہے اُس کی چوٹی سے شروع ہو کر545ہاتھ تک ہے۔ یہاں اصحابِ فیل(یعنی ہاتھی والے) آ کر ٹھہرے تھے اوران پر عذابِ ابابیل نازِل ہوا تھا، یہاں وُقوف جائز نہیں ۔ اِس جگہ سے جلد گزرنا اور عذابِ الٰہی سے پناہ مانگی چاہئے۔ 

[8] ۔۔۔ کاش! اِس وَقت دل میں نیّت حاضِر ہوجائے کہ مجھ پر جو بُری خواہشات مُسلّط ہیں انہیں مار بھگانے میں کامیاب ہوجاؤں ۔

[9] ۔۔۔ قُربانی کے مَسائل کی تفصیلی معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِشریعت جلد3 صفحہ327 تا353 نیز مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ’’ ابلق گھوڑے سوار‘‘ پڑھئے۔

[10] ۔۔۔ رمی جمار کے بعد دعامیں ہتھیلیوں کارُخ کعبہ کی طرف ہو۔حجرِ اَسود کے سامنے کھڑا ہونے کے وَقت ہتھیلیوں کا رُخ حجرِ اسود کی طرف ہو اور باقی احوال میں آسمان کی طرف ہو۔

Share

ویڈیوز

Comments


Security Code