گوشت  کے 22 اجزا جو نہیں کھائے جاتے

گوشت کے 22 اجزا جو نہیں کھائے جاتے

فیضانِ سنَّت جلد اوّل اوپر سے صَفْحَہ405تا 408پر ہے: میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں :حلال جانور کے سب اجزا حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں {1}رگوں کا خون {2}پِتّا {3}پُھکنا (یعنی مَثانہ) {4،5} علاماتِ مادہ ونَر {6} بَیضے (یعنی کپورے){7}غُدود {8}حرام مَغز {9}گردن کے دوپٹھے کہ شانوں تک کھنچے ہوتے ہیں {10}جگر (یعنی کلیجی) کا خون {11}تِلی کا خون {12} گوشْتْ کا خون کہ بعدِ ذَبْح گوشْتْ میں سے نکلتا ہے {13}دل کا خون {14}پِت یعنی وہ زَرد پانی کہ پِتّے میں ہوتاہے {15}ناک کی رَطُوبت کہ بَھیڑ میں اکثر ہوتی ہے {16} پاخانے کا مقام {17}اَوجھڑی {18}آنتیں {19}نُطْفہ([1]){20}وہ نُطْفہ کہ خون ہوگیا {21} وہ (نُطْفہ) کہ گوشْتْکا لوتھڑا ہوگیا {22}وہ کہ(نُطْفہ)پورا جانور بن گیا اور مردہ نکلا یا بے ذَبْح مرگیا۔ (فتاوٰی رضویہج۲۰ ص ۲۴۰ ، ۲۴۱)

سمجھدار قَصاب بَعض ممنوعہ چیزیں نِکال دیاکرتے ہیں مگربَعض میں ان کو بھی معلومات نہیں ہوتیں یابے اِحتِیاطی برتتے ہیں ۔ لہٰذا آج کل عُمُوماًلاعلمی کی وجہ سے جو چیزیں سالن میں پکائی اور کھائی جاتی ہیں ان میں سے چند کی نِشاندہی کرنے کی کوشِش کرتا ہوں ۔

خون

ذَبْح کے وَقْت جو خون نکلتا ہے اُس کو ’’ دَمِ مَسْفُوح ‘‘ کہتے ہیں ۔ یہ ناپاک ہوتا ہے اس کا کھانا حرام ہے ۔بعدِ ذَبْح جو خون گوشْتْ میں رَہ جاتا ہے مَثَلاً گردن کے کٹے ہوئے حصّے پر، دل کے اندر، کلیجی اور تلّی میں اور گوشْتْ کے اندر کی چھوٹی چھوٹی رگوں میں یہ اگرچِہ ناپاک نہیں مگر اس خون کا بھی کھانا ممنوع ہے۔ لہٰذا پکانے سے پہلے صَفائی کرلیجئے ۔ گوشْتْ میں کئی جگہ چھوٹی چھوٹی رگوں میں خون ہوتا ہے ان کی نگہداشت کافی مشکِل ہے،پکنے کے بعد وہ رگیں کالی ڈَوری کی طرح ہوجاتی ہیں ۔ خاص کر بھیجے، سری پائے اورمُرغی کی ران اورپَر کے گوشْتْ وغیرہ میں باریک کالی ڈوریاں دیکھی جاتی ہیں کھاتے وَقْت ان کو نکال دیا کریں ۔مُرغی کا دل بھی ثابِت نہ پکایئے ، لمبائی میں چار چِیر ے کرکے ِاس کا خون پہلے اچھّی طرح صاف کرلیجئے ۔

حرام مغْزْ

یہ سفید ڈورے کی طرح ہوتا ہے جو کہ بھیجے سے شروع ہوکر گردن کے اندر سے گزرتا ہوا پوری ریڑھ کی ہڈی میں آخِر تک جاتا ہے۔ماہِر قصّاب گردن اور رِیڑھ کی ہڈّی کے بیچ سے دو پر کالے یعنی دو ٹکڑے کرکے حرام مَغْزنکال کر پھینک دیتے ہیں ۔ مگر بارہا بے احتیاطی کی وجہ سے تھوڑا بَہُت رہ جاتا ہے اور سالن یا بریانی وغیرہ میں پک بھی جاتا ہے۔چُنانچِہ گردن، چانپ اور کمر کا گوشْتْ دھوتے وَقْت حرام مغْزتلاش کرکے نکا ل دیا کریں ۔ یہ مُرغی اور دیگر پرندوں کی گردن اور ریڑھ کی ہڈی میں بھی ہوتا ہے،پکانے سے قبل اس کو نکالنا بَہُت مشکِل ہے لہٰذا کھاتے وَقْت نکا ل دیناچاہئے۔

پٹھے

گردن کی مضبوطی کیلئے اِس کی دونوں طرف پیلے رنگ کے دو لمبے لمبے پٹّھے کندھوں تک کِھچے ہوئے ہوتے ہیں ۔ان پٹّھوں کا کھانا ممنوع ہے۔گائے اور بکری کے تو آسانی سے نظر آجاتے ہیں مگر مُرغی اور پرندوں کی گردن کے پٹّھے بآسانی نظر نہیں آتے ، کھاتے وَقْت ڈھونڈ کر یا کسی جاننے والے سے پوچھ کر نکا ل دیجئے۔

غُدُود

گردن پر ، حَلْق میں اور بعض جگہ چربی وغیرہ میں چھوٹی بڑی کہیں سُرخ اور کہیں مَٹیالے رنگ کی گول گول گانٹھیں ہوتی ہیں ان کو عَرَبی میں غُدَّہ اور اُردو میں غُدُود کہتے ہیں ۔ یہ بھی مت کھائیے، پکانے سے پہلے ڈھونڈ کر نکال دیجئے۔ اگر پکے ہوئے گوشْتْ میں بھی نظر آ جائے تو نکا ل دیجئے۔

کپُورا

کپُورے کو خُصیَہ، فَوطہ یا بَیْضَہ بھی کہتے ہیں ان کا کھانا مکروہ تحریمی ہے۔ یہ بیل، بکرے وغیرہ (نَر یعنی مُذَکَّر) میں نُمایاں ہوتے ہیں ۔مُرغے (نَر)کا پیٹ کھو ل کر آنتیں ہٹائیں گے تو پیٹھ کی اندرونی سطح پرانڈے کی طرح سفید دوچھوٹے چھوٹے بیج نُما نظر آئیں گے یہی کپُورے ہیں ۔ ان کو نکا ل دیجئے۔ افسوس! مسلمانوں کی بعض ہوٹلوں میں دل ،کلیجی کے علاوہ بیل،بکرے کے کپُورے بھی توے پر بھون کر پیش کئے جاتے ہیں غالِباً ہوٹل کی زَبان میں اس ڈِش کو ’’کَٹا کَٹ ‘‘کہاجاتا ہے۔(شاید اس کو ’’کَٹاکَٹ‘‘اِ س لئے کہتے ہیں کہ گاہک کے سامنے ہی دِل یا کپُورے وغیرہ ڈال کر تیز آواز سے توے پر کاٹتے اوربُھونتے ہیں اِس سے ’’کَٹاکَٹ ‘ ‘ کی آواز گونجتی ہے)

اَوجھڑی

اَوجھڑی کے اندر غَلاظت بھری ہوتی ہے اِس کا کھانا مکروہِ تحریمی ہے مگر مسلمانوں کی ایک تعداد ہے جو آج کل اِس کو شوق سے کھاتی ہے۔


...[1] مَنی

Share