آدابِ سفر و مقدماتِ حج کا بیان

آدابِ سفر و مقدماتِ حج کا بیان

(۱) جس کا قرض آتا یا امانت پاس ہو ادا کردے، جن کے مال ناحق لیے ہوں واپس دے یا معاف کرالے، پتا نہ چلے تو اتنا مال فقیروں کو دیدے۔

(۲) نما ز ، روزہ، زکاۃ جتنی عبادات ذمہ پر ہوں ادا کرے اور تائب ہو اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پکا ارادہ کرے۔

(۳) جس کی بے اجازت سفر مکروہ ہے جیسے ماں، باپ، شوہر اُسے رضامند کرے، جس کا اس پر قرض آتا ہے اُس وقت نہ دے سکے تو اُ س سے بھی اجازت لے، پھر حجِ فرض کسی کے اجازت نہ دینے سے روک نہیں سکتا، اجازت میں کوشش کرے نہ ملے جب بھی چلا جائے۔

(۴) اس سفر سے مقصود صرف اللہ (عَزَّوَجَلَّ) و رسول (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) ہوں، رِیا و سُمعہ و فخر سے جُدا رہے۔

(۵) عورت کے ساتھ جب تک شوہر یا محرم بالغ قابلِ اطمینان نہ ہو، جس سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے سفر حرام ہے، اگر کرے گی حج ہو جائے گا مگر ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔

(۶) توشہ مالِ حلال سے لے ورنہ قبولِ حج کی امید نہیں اگرچہ فرض اُتر جائے گا، اگر اپنے مال میں کچھ شُبہہ ہو تو قرض لے کر حج کو جائے اور وہ قرض اپنے مال سے ادا کردے۔

(۷) حاجت سے زیادہ توشہ لے کہ رفیقوں کی مدد اور فقیروں پر تصدق کرتا چلے، یہ حجِ مبرور کی نشانی ہے۔

(۸) عالم کتب فقہ بقدرِ کفایت ساتھ لے اور بے علم کسی عالم کے ساتھ جائے۔ یہ بھی نہ ملے تو کم از کم یہ رسالہ ہمراہ ہو۔

(۹) آئینہ، سرمہ، کنگھا، مسواک ساتھ رکھے کہ سُنّت ہے۔

(۱۰) اکیلا سفر نہ کرے کہ منع ہے۔ رفیق دیندار صالح ہو کہ بددین کی ہمراہی سے اکیلا بہتر، رفیق اجنبی کنبہ والے سے بہتر ہے۔

(۱۱) حدیث میں ہے، ''جب تین آدمی سفر کو جائیں اپنے میں ایک کو سردار بنالیں۔'' [1] اس میں کاموں کا انتظام رہتا ہے، سردار اُسے بنائیں جو خوش خلق عاقل دیندار ہو، سردار کو چاہیے کہ رفیقوں کے آرام کو اپنی آسائش پر مقدم رکھے۔

(۱۲) چلتے وقت سب عزیزوں دوستوں سے ملے اور اپنے قصور معاف کرائے اور اب اُن پر لازم کہ دل سے معاف کردیں۔ حدیث میں ہے: ''جس کے پاس اس کا مسلمان بھائی معذرت لائے واجب ہے کہ قبول کرلے، ورنہ حو ضِ کوثر پر آنا نہ ملے گا۔'' [2]

(۱۳) وقتِ رُخصت سب سے دعا کرائے کہ برکت پائے گا کہ دوسروں کی دعا کے قبول ہونے کی زیادہ امید ہے اوریہ نہیں معلوم کہ کس کی دعا مقبول ہو۔ لہٰذا سب سے دعا کرائے اور وہ لوگ حاجی یا کسی کو رُخصت کریں تو وقتِ رخصت یہ دعا پڑھیں:

اَسْتَوْدِعُ اللہَ دِیْنَکَ وَاَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ . [3]

حضور ِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جب کسی کو رخصت فرماتے تو یہ دعاپڑھتے اور اگر چاہے اس پر اتنا اضافہ کرے۔

وَغَفَرَ ذَنْبَکَ وَیَسَّرَلَکَ الْخَیْرَ حَیْثُمَا کُنْتَ زَوَّدَکَ اللہُ التَّقْوٰی وَجَنَّبَکَ الرِّدٰی . [4]

(۱۴) اُن سب کے دین، جان، مال، اولاد، تندرستی، عافیت خدا کو سونپے۔

(۱۵) لباسِ سفر پہن کر گھر میں چاررکعت نفل اَلْحَمْدُ و قُلْ سے پڑھکر باہر نکلے۔ وہ رکعتیں واپس آنے تک اُس کے اہل و مال کی نگہبانی کریں گی۔ نماز کے بعد یہ دُعا پڑھے:

اَللّٰھُمَّ بِکَ انْتَشَرْتُ وَاِلَیْکَ تَوَ جَّھْتُ وَبِکَ اعْتَصَمْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ ثِقَتِیْ وَاَنْتَ رِجَائیِْ اللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ مَا اَھَمَّنِیْ وَمَا لَا اَھْتَمُّ بِہٖ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ عَزَّ جَارُکَ وَلَآ ِالٰہَ غَیْرُکَ اَللّٰھُمَّ زَوِّدْنِی التَّقْوٰی وَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَ وَجِّھْنِیْ اِلَی الْخَیْرِ اَیْنَمَا تَوَجَّھْتُ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَّعْثَآءِ السَّفَرِ وَکَاٰ بَۃِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ وَسُوْءِ الْمَنْظَرِفِی الْاَھْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ . [5]

(۱۶) گھر سے نکلنے کے پہلے اور بعد کچھ صدقہ کرے۔

(۱۷) جدھر سفر کو جائے جمعرات یا ہفتہ یا پیر کا دن ہو اور صبح کا وقت مبارک ہے اور اہلِ جمعہ کو روزِ جمعہ قبلِ جمعہ سفر اچھا نہیں۔

(۱۸) دروازہ سے باہر نکلتے ہی یہ دعا پڑھے:

بِسْمِ اللہِ وَبِاللہِ وَتَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا ِباللہِ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ نَّزِلَّ اَوْ نُزَلَّ اَوْ نَضِلَّ اَوْ نُضَلَّ اَوْ نَظْلِمَ اَوْ نُظْلَمَ اَوْ نَجْھَلَ اَوْ یَجْھَلَ عَلَیْنَا اَحَدٌ . [6] اور درود شریف کی کثرت کرے۔

(۱۹) سب سے رخصت کے بعد اپنی مسجد سے رخصت ہو، وقتِ کراہت نہ ہو تو اس میں دو رکعت نفل پڑھے۔

(۲۰) ضروریات سفر اپنے ساتھ لے اور سمجھدار اور واقف کار سے مشورہ بھی لے، پہننے کے کپڑے وافر ہوں اور متوسط الحال شخص کو چاہیے کہ موٹے اور مضبوط کپڑے لے اور بہتر یہ کہ ان کو رنگ لے اور اگر خیال ہو کہ جاڑوں کا زمانہ آجائے گا تو کچھ گرم کپڑے بھی ساتھ رکھے اور جاڑوں کا موسم ہو اور خیال ہو کہ واپسی تک گرمی آجائے گی تو کچھ گرمیوں کے کپڑے بھی لے لے۔ بچھانے کے واسطے اگر چھوٹا سا روئی کا گدا بھی ہو تو بہت اچھا ہے کہ جہاز میں بلکہ اُونٹ پر بچھانے کے لیے بہت آرام دیتا ہے بلکہ وہاں پہنچ کر بھی اس کی حاجت پڑتی ہے۔ کیونکہ ہندوستانی آدمی عموماً چارپائیوں پر سونے کے عادی ہوتے ہیں۔ چٹائی وغیرہ پر سونے میں تکلیف ہوتی ہے اور گدّے کی وجہ سے کچھ تلافی ہو جائے گی اور صابون بھی ساتھ لے جائے کہ اکثر اپنے ہاتھ سے کپڑے دھونے پڑتے ہیں کہ وہاں دھوبی میسر نہیں آتے۔

اور ایک دیسی کمّل بھی ہونا چاہیے کہ یہ اُونٹ کے سفر میں بہت کام دیتا ہے جہاں چاہو بچھالو بلکہ بعض مرتبہ جہاز پر بھی کام دیتا ہے اور شقدف پر ڈالنے کے لیے بوری کا ٹاٹ لے لیا جائے، چاقو اور سُتلی اور سُوا ہونا بھی ضروری ہے۔

اور کچھ تھوڑی سی دوائیں بھی رکھ لے کہ اکثر حجاج کو ضرورت پڑتی ہے، مثلاً کھانسی، بخار، زکام، پیچش، بدہضمی کہ ان سے کم لوگ بچتے ہیں۔ لہٰذا گُلِ بنفشہ، خطمی، گاؤ زبان، ملیٹھی کہ یہ بخار، زکام، کھانسی میں کام دیں گی، پیچش کے لیے چاروں تخم یا کم ازکم اسپغول ہو اور بدہضمی کے لیے آلوئے بخارا، نمک سلیمانی ہو اور کوئی چُورن بھی ساتھ ہو کہ اکثر اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ مثلاً بادیان، پودینہ خشک، ہلیلہ سیاہ، نمک سیاہ کہ انھیں کا چُورن بنالے کافی ہوگا، اور عرق کافورو پیپر منٹ ہو تو یہ بہت امراض میں کام دیتے ہیں۔

دوائیں ضرور ہوں کہ ان کی اکثر ضرورت پڑتی ہے اور میسر نہیں آتیں اگر تم کو خود ضرورت نہ ہوئی اور جس کو ضرورت پڑی اور تم نے دیدی وہ اُس کسم پُرسی کی حالت میں تمھارے لیے کتنی دعائیں دے گا اور برتنوں کی قسم سے اپنی حیثیت کے موافق ساتھ رکھے، ایک دیگچی ایسی جس میں کم از کم دو۲ آدمیوں کا کھانا پک جائے یہ تو ضروری ہے کیونکہ اگر تنہا بھی ہے جب بھی بدو کو کھانا دینا ہوگا اور اگر چند قسم کے کھانے کھانا چاہتا ہو تو اسی انداز سے پکانے کے برتن ساتھ ہوں اور پیالے رکابیاں بھی اُسی انداز سے ہوں اور ہر شخص کو ایک مشکیزہ بھی ساتھ رکھنا ضروری ہے۔ اولاً تو جہاز پر بھی پانی لینے میں آسانی ہوگی، دوم اونٹ پر بغیر اس کے کام نہیں چل سکتا کیونکہ پانی صرف منزل پر ملتا ہے پھر درمیان میں ملنا دشوار ہے بلکہ نہیں ملتا، اگر مشکیزہ ساتھ ہوا تو اس میں پانی لے کر اُونٹ پر رکھ لو گے کہ پینے کے بھی کام آئے گا اور وضو و طہارت کے لیے بھی اگر تمھارے پاس خود نہ ہوا تو کس سے مانگو گے اور شاید ہی کوئی دے اِلَّا مَا شَآءَ اللہ .

اور ڈول رسّی بھی ساتھ ہو کیونکہ بعض منزلوں پر بعض وقت خود بھرنا پڑتا ہے اوراکثر جگہ پانی بیچنے والے آجاتے ہیں اور جہاز کا نل بعض مرتبہ بند ہوجاتا ہے اس وقت اگر میٹھا پانی حاجت سے زیادہ نہ ہوا تو وضو وغیرہ دیگر ضروریات میں سمندر سے پانی نکال کر کام چلا سکتے ہو۔ کچھ تھوڑے سے پھٹے پرانے کپڑے بھی ساتھ رکھو کہ جہاز پر استنجا سُکھانے میں کام دیں گے۔

لوہے کا چُولھا بھی ساتھ رکھو کہ جہاز پر اس کی سخت ضرورت پڑتی ہے۔ اگر کوئلے والا چُولھا ہو تو بمبئی سے حسبِ ضرورت کوئلے بھی خرید لو اور لکڑی والا چُولھا ہو تو لکڑی لے جانے کی حاجت نہیں۔ اس لیے کہ لکڑی جہاز والے کی طرف سے ضرورت کے لائق ملا کرتی ہے مگر اس صورت میں کلہاڑی کی حاجت پڑے گی کیونکہ جہاز پر موٹی موٹی لکڑیاں ملتی ہیں۔ انھیں چیرنے کی ضرورت پڑے گی۔ اور بمبئی سے کچھ لیمو ضرور لے لو کہ جہاز پر اکثر متلی آتی ہے۔ اُس وقت اس سے بہت تسکین ہوتی ہے، اگر جہاز پر سوار ہونے سے پہلے معمولی تلییں لے لی جائے تو چکر کم آئے گا۔

اور مٹی یا پتھر کی کوئی چیزبھی ہو کہ اگر تیمم کرنا پڑے تو کام دے کہ جہاز میں کس چیز پر تیمم کروگے اور کچھ نہ ہو تو مٹی کا کوئی برتن ہی ہو جس پر روغن نہ کیا ہو کہ وہ اور کام میں بھی آئے گا اور اُس پر تیمم بھی ہوسکے گا۔ بعض حجاج کپڑے پر جس پر غبار کا نام بھی نہیں ہوتا تیمم کرلیا کرتے ہیں نہ یہ تیمم ہوا نہ اس تیمم سے نماز جائز۔

ایک اوگالدان ہونا چاہیے کہ جہاز میں اگر قے کی ضرورت محسوس ہو تو کام دے گا ورنہ کہا ں قے کریں گے اور اس کے علاوہ تھوکنے کے لیے بھی کام دے گا۔ اس کے لیے بمبئی میں خاص اسی مطلب کے اوگالدان ٹین کے ملتے ہیں وہاں سے خریدلے اور ایک پیشاب کا برتن بھی ہو اس کی ضرورت بعض مرتبہ جہاز پر بھی پڑتی ہے۔ مثلاً چکر آتا ہے پاخانہ تک جانا دشوار ہے یہ ہوگا تو جہاں ہے وہیں پر دہ کرکے فراغت کرسکے گا اور اونٹ پر شب میں بعض مرتبہ اترنے میں خطرہ ہوتا ہے یہ ہوگا تو اس کام کے لیے اترنے کی حاجت نہ ہوگی اس کے لیے بمبئی میں ٹین کا برتن جو خاص اِسی کام کے لیے ہوتا ہے خرید لے۔ چائے بھی تھوڑی ساتھ ہو تو آرام دے گی کہ جہاز پر اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ سمندر کی مرطوب ہَوا کے اثر کو دفع کرتی ہے نیز بدو بہت شوق سے پیتے ہیں، اگر تم انھیں چائے پلاؤ گے تو تم سے بہت خوش رہیں گے اور آرام پہنچائیں گے۔ اس کی پیالیاں تام چینی کی زیادہ مناسب ہیں کہ ٹوٹنے کا اندیشہ نہیں بلکہ کھانے پینے کے برتن بھی اسی کے ہوں تو بہتر ہے۔

تھوڑی موم بتیا ں بھی ہوں کہ جہاز پر رات میں پا خانہ پیشاب کو جانے میں آرام دیں گی۔ پانی رکھنے کے لیے ٹین کے پیپے ہونے چاہیے کہ جہاز پر کام دیں گے اور منزل پر بھی۔ اچار چٹنی اگر ساتھ ہوں تو نہایت بہتر کہ ان کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔

اسباب رکھنے کے لیے ایک چیڑ کا بڑا صندوق ہونا چاہیے اور اس میں ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ بعض مرتبہ جہاز میں مسافروں کی کثرت ہوتی ہے اور جگہ نہیں ملتی اگر یہ ہوگا تو تیسرے درجے کے مسافر کو بیٹھنے بلکہ تھوڑی تکلیف کے ساتھ اس پر لیٹ رہنے کی جگہ مل جائے گی۔ اپنے صندوق اور بوری اور دیگراسباب پر نام لکھ لو کہ اگر دوسرے کے سامان میں مل جائیں تو تلاش کرنے میں آسانی ہوگی۔

احرام کے کپڑے یعنی تہبند اور چادر یہیں سے یا بمبئی سے لے لے کیونکہ احرام جہاز ہی پر باندھنا ہو گا اور بہتر یہ کہ دو جوڑے ہوں کہ اگر میلا ہوا تو بدل سکیں گے۔ مستورات ساتھ ہوں تو اُن کے احرام کی حالت میں مونھ چھپانے کو کھجور کے پنکھے جو خاص اسی کام کے لیے بنتے ہیں بمبئی سے خرید لے کہ احرام میں عورتوں کو کسی ایسی چیز سے مونھ چھپانا جو چہرہ سے چپٹی ہو حرام ہے۔ کفن بھی ساتھ ہو کہ موت کا وقت معلوم نہیں یا اتنا تو ہو گا کہ وہ کپڑا اس زمین پاک پر پہنچ جائے گا اور اسے زمزم میں غوطہ دے لو گے اور گرمی کا موسم ہو تو پنکھا بھی ساتھ ہو۔

اس کے بیان کرنے کی حاجت نہیں کہ کھانے کے لیے کیا لے جائے کیونکہ اس میں ہر شخص کی مختلف حالت ہے اور لوگوں کو معلوم ہے کہ ہمیں کن چیزوں کی ضرورت ہوگی اور ہم کس طرح بسر کرسکتے ہیں پھر بھی اس کے متعلق بعض خاص باتیں عرض کردیتا ہوں۔ آٹا زیادہ نہ لے کیونکہ سمندر کی ہوا سے بہت جلد خراب ہوجاتا ہے اور اس میں سونڈیاں پڑجاتی ہیں صرف اتنا لے کہ جہاز پر کام دیدے یا کچھ زائد بلکہ گیہوں لے لے کہ اس کو جدّہ یا مکہ معظمہ یا مدینہ طیبہ میں جہاں چاہے پِسوا سکتا ہے اور چاول ضرور ساتھ لے کہ اکثر کھچڑی پکانی پڑتی ہے اور آلو بھی ہوں کہ متواتردال دِقت سے کھائی جاتی ہے اور استطاعت ہو تو بکرے، مرغیاں، انڈے ساتھ رکھ لے۔ جہاز پر بعض مرتبہ گوشت مل جاتا ہے مگر اس میں خیال کرلے کہ کسی کافر یا مُرتد کا ذبح کیا ہوا تو نہیں۔[7]مسالے پسے ہوئے ہوں اور پیاز لہسن بھی ہوں، بڑیاں بھی ہوں تو بہتر ہے، مدینہ طیبہ کے راستے میں کئی منزلیں ایسی آتی ہیں جہاں دال نہیں گلتی، اس کے متعلق بھی کچھ انتظام کرلے، نیز مدینہ طیبہ جانے کے لیے مکہ معظمہ سے بھُنے ہوئے چنے لے لے یا یہیں سے لیتا جائے کہ بعض مرتبہ اتنا موقع نہیں ملتا کہ دوسرے وقت کے لیے کھانا پکا یا جائے ایسے وقت کام دیں گے۔ گھی حسبِ حیثیت زیادہ لے کہ بدوؤں کو زیادہ گھی دینا پڑتا ہے اور زیادہ گھی سے وہ خوش بھی ہوتے ہیں۔ مسور کی دال ضرور لے کہ جلد گلتی ہے اور بعض دفعہ ایسا ہی موقع ہوتاہے کہ جلد کھانا تیار ہو جائے۔

(۲۱) خوشی خوشی گھر سے جائے اور ذکرِ الٰہی بکثرت کرے اور ہر وقت خوفِ خدا دل میں رکھے، غضب سے بچے، لوگوں کی بات برداشت کرے ، اطمینان و وقار کو ہاتھ سے نہ دے، بیکار باتوں میں نہ پڑے۔

(۲۲) گھر سے نکلے تو یہ خیال کرے جیسے دنیا سے جارہا ہے۔ چلتے وقت یہ دعا پڑھے:

اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَّ عْثَـآءِ السَّفَرِ وَکَاٰ بَۃِ الْمُنْقَلَبِ وَسُوْءِ الْمَنْظَرِ فِی الْمَالِ وَاْلاَ ھْلِ وَالْوَلَدِ .

وا پسی تک مال و اہل و عیال محفوظ رہیں گے۔

(۲۳) اسی وقت آیۃ الکرسی اور قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙسے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ تک تَبَّتْ کے سوا پانچ سورتیں سب مع بسم اللہ پڑھے پھر آخر میں ایک بار بسم اللہ شریف پڑھ لے، راستہ بھر آرام سے رہے گا۔

(۲۴) نیز اس وقت (اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍؕ-) [8]ایک بار پڑھ لے، بالخیر واپس آئیگا۔

(۲۵) ریل وغیرہ جس سواری پر سوار ہو، بِسْم اللہ تین بار کہے پھر اَللہُ اَکْبَرُ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور سُبْحٰنَ اللہ ہر ایک تین تین بار، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ایک بار پھرکہے: (سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ(۱۳)[9]وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ(۱۴)(۱۴) اُس کے شر سے بچے۔

(۲۶) جب دریا میں سوار ہو یہ کہے:

(بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَاؕ-اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۴۱))وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ﳓ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖؕ-سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۶۷)[10] ڈوبنے سے محفوظ رہے گا۔

(۲۷) جہاز پر سوار ہونے میں کوشش کرے کہ پہلے سوار ہو جائے کیونکہ جو پہلے پہنچ گیا اچھی اور کشادہ جگہ لے سکتا ہے اور جو جگہ یہ لے گا پھر اس کو کوئی ہٹانہ سکے گا اور اُترنے میں جلدی نہ کرے کہ اس میں بعض مرتبہ کوئی سامان رہ جاتا ہے۔

(۲۸) تیسرے درجہ میں سفر کرنے والا جہاز پر بچھانے کو چٹائی ضرور لے لے ورنہ بستر اکثر خراب ہو جاتا ہے۔ چند ہمراہی ہوں تو بعض نیچے کے کمرہ میں جگہ لیں اور بعض اُوپر کے، کہ اگر گرمی معلوم ہوئی تو نیچے والے اُوپر کے درجہ میں آکر بیٹھ سکیں گے اور سردی معلوم ہوئی تو یہ اُن کے پاس چلے جائیں گے۔

(۲۹) جب بمبئی سے روانہ ہوں گے قبلہ کی سمت بدلتی رہے گی اس کے لیے ایک نقشہ دیا جاتا ہے، اس سے سمت قبلہ معلوم کرسکو گے۔ قُطب نما پاس رکھا جائے، جدھر وہ قُطب بتائے اسی طرف اس دائرہ کا خط شمال کر دیا جائے پھر جس سمت کو قبلہ لکھا ہے اُس طرف مونھ کر کے نماز پڑھیں۔

(۳۰) جدّہ میں جہاز کنارہ پر نہیں کھڑا ہوتا جیسے بمبئی میں گودی بنی ہے وہاں نہیں ہے بلکہ وہاں کشتیوں پر سوار ہو کر کنارے پہنچتے ہیں، یہ بات ضرور خیال میں رکھے کہ جس کشتی میں اپنا سامان ہو اُسی میں خود بھی بیٹھے اگر ایسا نہ کیا بلکہ سامان کسی میں اُترا اور اپنے آپ دوسری پر بیٹھا تو سامان ضائع ہو جانے کا خوف ہے یا کم از کم تلا ش کر نے میں دقّت ہوگی، کشتی والے بطور انعام کچھ مانگتے ہیں انھیں دیدیا جائے۔

(۳۱) اب یہاں سے سامان کی حفاظت میں پوری کوشش کرے، ہر کام میں نہایت چُستی و ہوشیاری رکھے۔ کشتی سے اُترنے کے بعد چونگی خانہ میں جسے جُمرُک کہتے ہیں سامان کی تفتیش ہوتی ہے اس میں فقط یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی چیز تجارت کی غرض سے تو نہیں لایا ہے۔ اگر تجارتی سامان پائیں گے اُس کی چونگی لیں گے اور تجارتی سامان نہ ہو تو چاہے کتنی ہی کھانے پینے اور دیگر ضرورت کی چیزیں ہوں اُن سے کچھ تعرض [11]نہ کریں گے۔

(۳۲) مکہ معظمہ میں جتنے معلّم ہیں اُن سب کے جدّہ میں وکیل رہتے ہیں جب تم کشتی سے اُترو گے پھاٹک پر حکومت کا آدمی ہو گا کشتی کا کرایہ جو مقرر ہے وصول کرلے گا اوروہ تم سے پوچھے گا معلّم کون ہے جس معلّم کا نام لوگے اس کا وکیل تمھیں اپنے ساتھ لے گا اور وہ تمھارے سامان کو اُٹھوا کر اپنے یہاں یا کسی کرایہ کے مکان میں لے جائے گا اس وقت تمھیں چاہیے کہ اپنے سامان کے ساتھ خود جاؤ اور اگر تم کئی شخص ہو اور سامان زیادہ ہے تو بعض یہاں سامان کی نگرانی کریں بعض سامان کی گاڑی کے ساتھ جائیں۔ اس لیے کہ بعض مرتبہ سامان گاڑی سے گر جاتا ہے اور گاڑی والے خیال بھی نہیں کرتے اس میں ان کا کیا نقصان ہے کوئی ضرورت کی چیز گِر گئی تو تمھیں کو تکلیف ہوگی۔

(۳۳) جدّہ میں پانی اکثر اچھا نہیں ملتا کچھ خفیف کھاری ہوتا ہے، پانی خریدو تو چکھ لیا کرو۔

(۳۴) مکہ معظمہ کے لیے اونٹ کا کرایہ کرنا اُسی وکیل کا کام ہے اور اُس زمانہ میں حکومت کی طرف سے کرایہ مقرر ہو جاتا ہے جس سے کمی بیشی نہیں ہوتی۔ شقدف، شبری جس کی تمھیں خواہش ہو اُس کے موافق وکیل اونٹ کرایہ کردے گا اور کرایہ پیشگی ادا کرنا ہو گا اور اُسی اونٹ کے کرایہ میں دریا کے کنارے سے مکان تک اسباب لانے کی مزدوری اور مکان کا کرایہ اور وکیل کا محنتانہ سب کچھ جوڑ لیا جاتا ہے تمھیں کسی چیز کے دینے کی ضرورت نہیں، ہاں اگر تم پیدل جانا چاہو گے تو یہ تمام مصارف تم سے وکیل وصول کریگا۔

(۳۵) شبری کی پوری قیمت لے لی جاتی ہے۔ اب وہ تمھاری ہوگئی مکہ معظمہ پہنچ کر جو چاہو کرو اگر وہ مضبوط ہے تو مدینہ طیبہ کے سفر میں بھی کام دے گی۔ شقدف کا کرایہ لیا جاتا ہے کہ مکہ معظمہ پہنچ کر اب تمھیں اس سے سروکار نہیں ہاں اگر تم چاہو تو جدّہ میں شقدف خرید بھی سکتے ہو جو پورے سفر میں تمھیں کام دے گا پھر جدہ پہنچ کر تھوڑے داموں پر فروخت بھی ہو سکتا ہے۔ شقدف میں زیادہ آرام ہے کہ آدمی سو بھی سکتا ہے اور شبری میں بیٹھا رہنا پڑتا ہے مگر اس میں سامان زیادہ رکھا جاسکتا ہے اور شقدف میں بہت کم۔

(۳۶) اگر اسباب زیادہ ہو تو مکہ معظمہ تک اس کے لیے الگ اونٹ کر لو اور جو چیزیں ضرورت سے زیادہ ہوں چاہو تو یہیں جدّہ ہی میں وکیل کے سُپرد کر دو جب تم آؤ گے وکیل وہ چیز تمھارے حوالہ کردے گا اور اس کا کرایہ مثلاً فی بوری یا فی صندوق آٹھ آنے یا کم و بیش کے حساب سے لے لے گا اگرچہ تمھاری واپسی چار پانچ مہینے کے بعد ہو۔

(۳۷) اگر جہاز کا ٹکٹ واپسی کا ہے تو اُسے باحتیاط رکھو اور اُس کا نمبربھی لکھ لو کہ شاید ٹکٹ ضائع ہو جائے تو نمبر سے کام چل جائے گا اگرچہ دقّت ہوگی اورتم کو اطمینان ہو تو ٹکٹ وکیل کے پاس رکھ سکتے ہو۔

(۳۸) کرایہ کے اونٹ وغیرہ پر جو کچھ بار کرو اُس کے مالک کو دکھا لو اور اس سے زیادہ بے اس کی اجازت کے کچھ نہ رکھو۔

(۳۹) جانور کے ساتھ نرمی کرو، طاقت سے زیادہ کام نہ لو، بے سبب نہ مارو، نہ کبھی مونھ پر مارو، حتی الوسع اس پر نہ سوؤ کہ سوتے کا بوجھ زیادہ ہوتاہے کسی سے بات وغیرہ کرنے کو کچھ دیر ٹھہرنا ہو تو اُتر لو اگر ممکن ہو۔

(۴۰) صبح و شام اُتر کر کچھ دُور پیادہ چل لینے میں دینی و دنیوی بہت فائدے ہیں۔

(۴۱) بدوؤں اور سب عربیوں سے بہت نرمی کے ساتھ پیش آئے، اگر وہ سختی کریں ادب سے تحمل کرے اس پر شفاعت نصیب ہونے کا وعدہ فرمایا ہے۔ خصوصاً اہلِ حرمین، خصوصاً اہلِ مدینہ، اہلِ عرب کے افعال پر اعتراض نہ کرے، نہ دل میں کدورت لائے، اس میں دونوں جہاں کی سعادت ہے۔

اے کہ حمّال عیب خو یشتنید طعنہ بر عیب د یگراں مکنید[12]

(۴۲) جو عربی نہیں جانتا اُسے بعض تُندخُو جمال وغیرہم گالیاں بلکہ مغلظات تک دیتے ہیں ایسا اتفاق ہو تو شُنیدہ کو محض نا شنیدہ[13] کردیا جائے اور قلب پربھی میل نہ لایا جائے۔ یوہیں عوام اہلِ مکہ کہ سخت خُو و تُند مزاج ہیں اُن کی سختی پر نرمی لازم ہے۔

(۴۳) جمّال یعنی اونٹ والوں کو یہاں کے سے کرایہ والے نہ سمجھے بلکہ اپنا مخدوم جانے اور کھانے پینے میں اُن سے بُخل نہ کرے کہ وہ ایسوں ہی سے ناراض ہوتے ہیں اور تھوڑی بات میں بہت خوش ہو جاتے ہیں اور امید سے زیادہ کام آتے ہیں۔

(۴۴) قبولِ حج کے لیے تین شرطیں ہیں:

اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:

(فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَۙ-وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّؕ-) )پ۲، البقرۃ: ۱۹۷(

حج میں نہ فحش بات ہو، نہ ہماری نافرمانی، نہ کسی سے جھگڑا لڑائی۔

تو ان باتوں سے نہایت ہی دُور رہنا چاہیے، جب غصّہ آئے یا جھگڑا ہو یا کسی معصیت کا خیال ہو فوراً سر جھکا کر قلب کی طرف متوجہ ہوکر اس آ یت کی تلاوت کرے اور دو ایک بار لا حول شریف پڑھے، یہ بات جاتی رہے گی یہی نہیں کہ اسی کی طرف سے ابتدا ہو یا اس کے رُفقا [14] ہی کے ساتھ جدال بلکہ بعض اوقات امتحاناً راہ چلتوں کو پیش کر دیا جاتا ہے کہ بے سبب اُلجھتے بلکہ سب وشتم ولعن وطعن کو تیار ہوتے ہیں، اسے ہر وقت ہوشیار رہنا چاہیے، مبادا [15]ایک دو کلمے میں ساری محنت اور روپیہ برباد ہو جائے۔

(۴۵) کمزور اور عورتوں کو اونٹ پر چڑھنے کے لیے ایک سیڑھی جدّہ میں لے لی جائے تو چڑھنے اُترنے میں آسانی ہوگی۔ جدّہ سے مکہ معظمہ دو دن کا راستہ ہے صرف ایک منزل راستہ میں پڑتی ہے جس کو بحرہ کہتے ہیں، اب جب یہاں سے روانہ ہو تو اِن تمام باتوں پر لحاظ رکھو جو لکھی جا چکیں اور جو آئندہ بیان ہوں گی۔

(۴۶) اونٹ پر عموماً دو شخص سوار ہوتے ہیں۔ شقدف اور شبری میں دونوں طرف بوجھ برابر رہنا ضرور ہے اگر ایک جانب کا آدمی ہلکا ہو تو اُدھر اسباب رکھ کر وزن برابر کرلیں۔ یوں بھی وزن برابر نہ ہو تو ہلکا آدمی اپنے شقدف یا شبری میں کنارہ بیرونی سے قریب ہو جائے اور بھاری آدمی اونٹ کی پیٹھ سے نزدیک ہو جائے۔

(۴۷) بعض مرتبہ کسی جانب کا پلہ جھک جاتا ہے اس کا خیال رکھو جب ایسا ہو تو فوراً اس طرح بیٹھ جاؤ کہ درست ہو جائے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے ا ونٹ کو بھی تکلیف ہوتی ہے اور شبری ہو تو گرنے کا قوی اندیشہ ہے۔ اس کے درست کرنے کو اونٹ والا میزان میزان کہہ کر تمھیں متنبہ کریگا۔ تمہیں چاہیے کہ فوراًدرست کرلو ورنہ اونٹ والا ناراض ہوگا۔

(۴۸) راہ میں کہیں چڑھائی آتی ہے کہیں اُتار، جب چڑھائی ہو خوب آگے اونٹ کی گردن کے قریب دونوں آدمی ہوجائیں اور جب اُتار ہو خوب پیچھے دُم کے نزدیک ہو جائیں۔ جب راہ ہموار آئے پھر بیچ میں ہو جائیں یہ نشیب و فراز کبھی آدمی کے سوتے میں آتے ہیں یا اُسے اس طر ف التفات نہیں ہوتا، اس وقت جمال جگاتا اور متنبہ کرتاہے اوّل اوّل یا گُدَّام گُدَّام کہے تو آگے کو سرک کر بیٹھ جاؤ اور اگر وراء وراء کہے تو پیچھے ہٹ جاؤ، اور بعض بدو ایک آدھ لفظ ہندی سیکھے ہوئے فِیْشُو فِیْشُو کہتے ہیں یعنی پیچھے پیچھے اور کبھی غلطی سے آگے کہنا ہوتا ہے اور فیشو کہتے ہیں۔ دیکھ کر صحیح بات پر فوراً عمل کیا جائے اور اُس جگانے پر ناراض نہ ہونا چاہیے کہ ایسا نہ ہو تو معاذ اللہ گِر جانے کا احتمال ہے۔

(۴۹) جب منزل پر پہنچو تو اُترنے میں تاخیر مت کرو کہ دیر کرنے میں اونٹ والے ناراض ہوتے اور پریشان کرتے ہیں اور روانگی کے وقت بالکل تیار رہو۔ تمام ضروریات سے پہلے ہی فارغ ہو لو۔

(۵۰) اُتر نے اور چڑھنے کے وقت خصوصیت کے ساتھ بہت ہوشیاری اور دیکھ بھال کی ضرورت ہے کہ ان دو وقتوں میں سامان کے ضائع ہونے اور چھوٹ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اور اس وقت بعض دفعہ چور بھی آجاتے ہیں جن کو وہاں کی زبان میں حرامی کہتے ہیں۔

(۵۱) منزلوں پر سودا بیچنے والے اور پانی لے کر بکثرت بدو آجاتے ہیں اُن سے بھی احتیاط رکھو کہ بعض اُن میں کے موقع پاکر کوئی چیز اُٹھا لے جاتے ہیں۔

(۵۲) جس منزل میں اُترے، وہاں یہ دعا پڑھ لے :

اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّـآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ اَللّٰھُمَّ اَعْطِنَا خَیْرَ ھٰذَا الْمَنْزِلِ و َخَیْرَ مَا فِیْہِ وَاکْفِنَا شَرَّ ھٰذَا الْمَنْزِلِ َوشَرَّ مَا فِیْہِ اَ للّٰھُمَّ اَنْزلْنِیْ مَنْزِلًا مُّبَارَکًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ ؕ [16] ہر نقصان سے بچے گا اور بہتر یہ ہے کہ وہاں دورکعت نماز پڑھے۔

(۵۳) منزل میں راستہ سے بچ کر اُترے کہ وہاں سانپ وغیرہ مُوذیوں کا گزر ہوتا ہے۔

(۵۴) جب منزل سے کُوچ کرے دورکعت نماز پڑھ کر روانہ ہو۔ حدیث میں ہے، ''روزِ قیامت وہ منزل اُس کے حق میں اس امر کی گواہی دے گی۔'' [17]

نیز انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں، ''رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جب کسی منزل میں اُترتے دورکعت نماز پڑھ کر وہاں سے رخصت ہوتے۔'' [18]

(۵۵) راستہ پر پیشاب وغیرہ باعثِ لعنت ہے۔

(۵۶) منزل میں متفرق ہو کر نہ اُتریں بلکہ ایک جگہ رہیں۔

(۵۷) اکثر رات کو قافلہ چلتا رہتا ہے اِس حالت میں اگر سوؤ تو غافل ہو کر نہ سوؤ، بلکہ بہتر یہ ہے کہ دونوں آدمیوں میں جو ایک اونٹ پر سوار ہیں باری باری سے ایک سوئے ایک جاگتا رہے کہ ایسے وقت کہ دونوں غافل سوجائیں بعض مرتبہ چوری ہو جاتی ہے۔ شبری کے نیچے سے چور بوری کاٹ لے جاتے ہیں اور شقدف بھی بغل کی جانب سے چاک کرکے مال نکال لے جاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ہر موقع اور ہر محل پر ہوشیاری رکھو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ پر اعتماد، پھر انشاء اللہ العزیز الجلیل نہایت امن و امان کے ساتھ رہو گے۔

(۵۸) راستہ میں قضائے حاجت کے لیے دُور نہ جاؤ کہ خطرہ سے خالی نہیں اور ایک چھتری اپنے ساتھ ضرور رکھو اگرچہ سردی کا زمانہ ہو کہ قضائے حاجت کے وقت اس سے فی الجملہ پردہ ہو جائے گا اور بہتر یہ کہ تین چار لکڑیاں جن کے نیچے لوہا لگا ہو اورایک موٹی بڑی چادر ساتھ رکھو کہ منزل پر لکڑیاں گاڑکر چادرسے گھیر دو گے تو نہایت پردہ کے ساتھ رفع ضرورت کرسکو گے اور عورتیں ساتھ ہوں تو ایسا انتظام ضرورہے کہ خوف کی وجہ سے وہ دُور نہ جاسکیں گی اور نزدیک میں سخت بے پردگی ہوگی۔

(۵۹) مکہ معظمہ سے جب مدینہ طیبہ کے لیے اونٹ کرایہ کریں تو ایک معلّم کے جتنے حجاج ہیں وہ سب متفق ہوکر یہ شرط کرلیں کہ نماز کے اوقات میں قافلہ ٹھہرانا ہوگا، اس صورت میں نماز جماعت کے ساتھ بآسانی اداکرسکیں گے کہ جب یہ شرط ہوگی تو اونٹ والوں کو وقتِ نماز میں قافلہ روکنا پڑے گا اور اگر کسی وجہ سے نہ روک سکیں گے تو چند بدو حجاج کی حفاظت کریں گے کہ یہ باطمینان نماز ادا کرلیں پھر وہ اونٹ تک پہنچا دیں گے۔

اور اگر شرط نہ کی تو صرف مغرب کے لیے قافلہ روکیں گے باقی نمازوں کے لیے نہیں اور اس صورت میں یہ کرے کہ نماز پڑھنے کے وقت اونٹ سے کچھ آگے نکل جائے اور نماز ادا کرکے پھر شامل ہو جائے اور قافلہ سے دُور نہ ہو کہ اکثر خطرہ ہوتا ہے اور بعض مرتبہ ایسا بھی کرنا پڑتاہے کہ سنت یا فرض پڑھنے تک قافلہ سب آگے نکل گیا تو باقی کے لیے پھر آگے بڑھ جائے ورنہ قافلہ سے زیادہ فاصلہ ہو جائے گا اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ فرض و وتر اور صبح کی سنت سواری پر جائز نہیں۔ اُن کو اُتر کر پڑھے باقی سنتیں یا نفل اونٹ کی پیٹھ پر بھی پڑھ سکتے ہیں۔

تنبیہ: خبردار! خبردار! نماز ہر گزنہ ترک کرنا کہ یہ ہمیشہ بہت بڑا گناہ ہے اور اس حالت میں اور سخت تر کہ جن کے دربار میں جاتے ہو راستہ میں انھیں کی نافرمانی کرتے چلو، تو بتاؤ کہ تم نے اُن کو راضی کیا یا ناراض۔ میں نے خود بہت سے حجاج کو دیکھا ہے کہ نماز کی طرف بالکل التفات نہیں کرتے، تھوڑی تکلیف پر نماز چھوڑدیتے ہیں حالانکہ شرعِ مُطہَّر نے جب تک آدمی ہوش میں ہے نماز ساقط نہیں کی۔

(۶۰) سفرِ مدینہ طیبہ میں بعض مرتبہ قافلہ نہ ٹھہرنے کے باعث بمجبوری ظہر و عصر ملا کر پڑھنی ہوتی ہے اس کے لیے لازم ہے کہ ظہر کے فرضوں سے فارغ ہونے سے پہلے ارادہ کرلے کہ اسی وقت عصر پڑھوں گا اور فرض ظہر کے بعد فوراً عصر کی نماز پڑھے یہاں تک کہ بیچ میں ظہر کی سنتیں بھی نہ ہوں اسی طرح مغرب کے بعد عشا بھی انھیں شرطوں سے جائز ہے اور اگر ایسا موقع ہوکہ عصر کے وقت ظہر یا عشا کے وقت مغرب پڑھنی ہو تو صرف اتنی شرط ہے کہ ظہر و مغرب کے وقت میں وقت نکلنے سے پہلے ارادہ کرلے کہ ان کو عصر و عشا کے ساتھ پڑھوں گا۔

(۶۱) جب وہ بستی نظر پڑے جس میں ٹھہرنا یا جانا چاہتا ہے یہ کہے:

اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَمَا اَظْلَلْنَ وَرَبَّ الْاَرْضِیْنَ السَّبْعِ وَمَا اَقْلَلْنَ وَ رَبَّ الشَّیٰطِیْنِ وَمَا اَضْلَلْنَ وَرَبَّ اْلاَرْیَاحِ وَمَا ذَرَیْنَ اَللّٰھُمَّ ِانَّا نَسْئَالُکَ خَیْرَ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ وَخَیْرَ اَھْلِھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَا وَ نَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ وَشَرِّ اَھْلِھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا۔ [19]یا صرف پچھلی دعا پڑھے، ہر بلا سے محفوظ رہے گا۔

(۶۲) جس شہر میں جائے وہاں کے سُنّی عالموں اور باشرع فقیروں کے پاس ادب سے حاضر ہو، مزارات کی زیارت کرے، فضول سیر و تماشے میں وقت نہ کھوئے۔

(۶۳) جس عالم کی خدمت میں جائے وہ مکان میں ہو تو آوازنہ دے باہر آنے کا انتظارکرے، اُس کے حضور بے ضرورت کلام نہ کرے، بے اجازت لیے مسئلہ نہ پوچھے، اُس کی کوئی بات اپنی نظر میں خلافِ شرع معلوم ہو تو اعتراض نہ کرے اور دل میں نیک گمان رکھے مگر یہ سُنّی عالم کے لیے ہے، بدمذہب کے سایہ سے بھاگے۔

(۶۴) ذکرِ خدا سے دل بہلائے کہ فرشتہ ساتھ رہے گا، نہ کہ شعر و لغویات سے کہ شیطان ساتھ ہوگا۔

(۶۵) رات کو زیادہ چلے کہ سفر جلدطے ہوتا ہے۔

(۶۶) ہر سفر خصوصاً سفرِ حج میں اپنے اور اپنے عزیزوں ، دوستوں کے لیے دعا سے غافل نہ رہے کہ مسافرکی دعا قبول ہے۔

(۶۷) جب کسی مشکل میں مدد کی ضرورت ہو تین بار کہے:

یَا عِبَادَ اللہِ اَعِیْنُوْنِیْ [20]اے اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے نیک بندو! میری مدد کرو۔غیب سے مدد ہوگی یہ حکم حدیث میں ہے۔

(۶۸) جب سواری کا جانور بھاگ جائے اور پکڑنہ سکو یہی پڑھو فوراً کھڑا ہو جائے گا۔

(۶۹) جب جانور شوخی کرے یہ دعا پڑھے:

اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ(۸۳)[21]

(۷۰) یَا صَمَدُ ۱۳۴ بار روز پڑھے، بھوک پیاس سے بچے گا۔

(۷۱) اگر دشمن یا رہزن کا ڈر ہو لِاٖلٰفِ پڑھے، ہر بلا سے امان ہے۔

(۷۲) جب رات کی تاریکی پریشان کرنے والی آئے، یہ دعا پڑھے:

یَا اَرْضُ! رَبِّیْ وَرَبُّکِ اللہُ اَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّ مَا ِفیْکِ وَشَرِّ مَا خَلَقَ فِیکِ وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَیْکِ وَ اَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ شَرِّ اَسَدٍ وَّ اَسْوَدَ وَمِنَ الْحَیَّۃِ وَالْعَقْرَبِ وَمِنْ سَاکِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ وَّالِدٍ وَّمَا وَلَدَ . [22]

(۷۳)جب کہیں دشمنوں سے خوف ہو، یہ پڑھ لے:

اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ . [23]

(۷۴) جب غم و پریشانی لاحق ہو، یہ دعا پڑھے:

لَآ اِلٰہَ اِلَّااللہُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ . [24]اور ایسے وقت لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ ؕ اور حَسْبُنَا اللہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ کی کثرت کرے۔

(۷۵) اگر کوئی چیز گم ہو جائے تو یہ کہے:

یَا جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠(۹) اِجْمَعْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ ضَالَّتِیْ . [25]

اِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالٰی مل جائے گی۔

(۷۶) ہر بلندی پر چڑھتے اللہ اکبر کہے اور ڈھال میں اُتر تے سبحان اللہ۔

(۷۷) سوتے وقت ایک بار آیۃ الکرسی ہمیشہ پڑھے کہ چور اور شیطان سے امان ہے۔

(۷۸) نمازیں دونوں سرکاروں میں وقت شروع ہوتے ہی ہوتی ہیں، معاً شروع وقت پر فوراً اذان اور تھوڑی دیر بعد تکبیر و جماعت ہو جاتی ہے، جو شخص کچھ فاصلہ پر ٹھہرا ہو اتنی گنجائش نہیں پاتا کہ اذان سُن کر وضو کرے پھر حاضر ہو کر جماعت یا پہلی رکعت مل سکے اور وہاں کی بڑی برکت یہی طواف و زیارت اور نمازوں کی تکبیر اول ہے۔ لہٰذا اوقات پہچان رکھیں، اذان سے پہلے وضو طیار رہے، اذان سُنتے ہی فوراً چل دیں تو تکبیر اول ملے گی اور اگر صف اول چاہیں، جس کا ثواب بے نہایت ہے جب تو اذان سے پہلے حاضر ہو جانا لازم ہے۔

(۷۹) واپسی میں بھی وہی طریقے ملحوظ رکھے، جو یہاں تک بیان ہوئے۔

(۸۰) مکان پر آنے کی تاریخ و وقت سے پیشتر اطلاع دیدے، بے اطلاع ہرگز نہ جائے خصوصاً رات میں۔

(۸۱) لو گوں کو چاہیے کہ حاجی کا استقبال کریں اور اس کے گھر پہنچنے سے قبل دعا کرائیں کہ حاجی جب تک اپنے گھر میں قدم نہیں رکھتااس کی دعا قبول ہے۔

(۸۲) سب سے پہلے اپنی مسجد میں آکر دو رکعت نفل پڑھے۔

(۸۳) دو رکعت گھر میں آکر پڑھے پھر سب سے بکشادہ پیشانی ملے۔

(۸۴) عزیزوں دوستوں کے لیے کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور لائے اور حاجی کا تحفہ تبر کاتِ حرمین شریفین سے زیادہ کیا ہے اور دوسرا تحفہ دعا کا کہ مکان میں پہنچنے سے پہلے استقبال کرنے والوں اور سب مسلمانوں کے لیے کرے۔( انظر:''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹ص۷۲۶۔۷۳۱، وغیرہ.) (بہارِ شریعت ،جلد اول،حصہ۶،صفحہ۱۰۵۱ تا ۱۰۶۷)


[1] ۔۔۔۔۔۔ ' 'سنن أبي داود''، کتاب الجھاد، باب فی القوم یسافرون ...إلخ، الحدیث: ۲۶۰۸، ج۳، ص۵۱.

[2] ۔۔۔۔۔۔

[3] ۔۔۔۔۔۔ ترجمہ : اللہ کے سپرد کرتاہوں تیرے دین اور تیری امانت کو اور تیرے عمل کے خاتمہ کو۔۱۲

[4] ۔۔۔۔۔۔ ترجمہ : اور تیرے گناہ کو بخش دے اور تیرے لئے خیر میسر کرے،تو جہاں ہو اور تقوی کو تیرا توشہ کرے اور تجھے ہلاکت سے بچائے۔۱۲

[5] ۔۔۔۔۔۔ ترجمہ : اے اللہ(عَزَّوَجَلَّ)! تیری مدد سے میں نکلا اور تیری طرف متوجہ ہوا اور تیرے ساتھ میں نے اعتصام کیا اور تجھی پر توکل کیا، اے اللہ (عَزَّوَجَلَّ)! تو میرا اعتماد ہے اور تو میری امید ہے۔ الٰہی تو میری کفایت کر اُس چیز سے جو مجھے فکر میں ڈالے اور اُس سے جس کی میں فکر نہیں کرتا اور اُس سے جس کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تیری پناہ لینے والا با عزّت ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ الٰہی! تقویٰ کو میرا زادِ راہ کر اور میرے گناہوں کو بخش دے اور مجھے خیر کی طرف متوجہ کر جدھر میں توجہ کروں۔ الٰہی! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی تکلیف سے اور واپسی کی برائی سے اور آرام کے بعد تکلیف سے اور اہل و مال و اولاد میں بُری بات دیکھنے سے۔۱۲

[6] ۔۔۔۔۔۔ ترجمہ : اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے نام کے ساتھ اور اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کی مدد سے اور اللہ( عَزَّوَجَلَّ )پر توکل کیا میں نے اور گناہ سے پھرنا اور نیکی کی قوت نہیں مگر اللہ (عَزَّوَجَلَّ) سے، اے اللہ! (عَزَّوَجَلَّ) ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس سے کہ لغزش کریں یا ہمیں کوئی لغزش دے یا گمراہ ہوں یا گمراہ کیے جائیں یا ظلم کریں یا ہم پر ظلم کیا جائے یا جہالت کریں یا ہم پر کوئی جہالت کرے۔۱۲

[7] ۔۔۔۔۔۔ فتاوی عالمگیری میں ہے:مُرتَدکا ذَبیحہ مُردار ہے اگر چِہ بِسْمِ اللہ پڑھ کر ذَبح کرے ۔(عالمگیری ج۲ ص ۲۵۵) اور اگر مسلمان کا ذَبح کردہ گوشت ذَبح سے لیکر کھانے تک ایک لمحے کیلئے بھی مسلمان کی نظر سے اَوجھل ہو کر اگر مُرتَد یا غیر کتابی کافِرکے قبضے میں گیا تو اس کا کھانا بھی ناجائز ہے۔چنانچہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ارشادفرماتے ہیں: ''اگر وقتِ ذبح سے وقتِ خریداری تک وہ گوشت مسلمان کی نگرانی میں رہے، بیچ میں کسی وقت مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہو اور یوں اطمینان کافی حاصل ہو کہ یہ مسلمان کا ذبیحہ ہے ،تو اس کا خریدنا ،جائز اور کھانا حلال ہوگا۔'' (فتاویٰ رضویہ، ج۲۰، ص۲۸۲)

[8] ۔۔۔۔۔۔ پ۲۰، القصص: ۸۵.ترجمہ: بے شک جس نے تجھ پر قرآن فرض کیا تجھے واپسی کی جگہ کی طرف واپس کرنے والا ہے۔۱۲

[9] ۔۔۔۔۔۔ پ۲۵، الزخرف: ۱۳۔۱۴.ترجمہ: پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے اسے مُسخر کیا اور ہم اس کو فرمانبردار نہیں بنا سکتے تھے اور ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔۱۲

[10] ۔۔۔۔۔۔ اس دعا میں پہلی آیت سورہ ھود(آیت : ۴۱)کی ہے ،جب کہ دوسری آیت سورہ زمر(آیت:۶۷)کی ہے۔ترجمہ: اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے نام کی مدد سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے بے شک میرارب بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ اور انھوں نے اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کی قدر جیسی چاہیے نہ کی اور زمین پُوری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہے اور آسمان اس کے ہاتھ میں لِپٹے ہوئے ہیں، پاک اوربرتر ہے اُس سے جسے اُس کا شریک بتا تے ہیں۔۱۲

[11] ۔۔۔۔۔۔ یہ اس زمانہ میں تھا اب اس زمانہ حکومت نجدیہ میں ایسانہیں۔۱۲

[12] ۔۔۔۔۔۔ یعنی جو شخص اپنا عیب اٹھائے ہے ،وہ دوسروں کے عیب پر طعنہ نہ دے ۔

[13] ۔۔۔۔۔۔ یعنی سنی کو ان سنی

[14] ۔۔۔۔۔۔ رفیق کی جمع ۔ساتھی ۔دوست۔

[15] ۔۔۔۔۔۔ یعنی ایسا نہ ہو۔ خدا نہ کرے۔

[16] ۔۔۔۔۔۔ ترجمہ: اللہ کے کلماتِ تامہ کی پناہ مانگتا ہوں اس کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا الٰہی تو ہم کو اس منز ل کی خیر عطا کر اور اس کی خیر جو کچھ اس میں ہے اور اس کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے ہمیں بچا۔ الٰہی توہم کو برکت والی منزل میں اُتار اور تو بہتر اُتارنے والا ہے۔ ۱۲

[17] ۔۔۔۔۔۔

[18] ۔۔۔۔۔۔ ''المستدرک''، کتاب المناسک،کان لاینزل منزلاإلاودعہ برکعتین ، الحدیث: ۱۶۷۷،ج۲، ص۹۲.

[19] ۔۔۔۔۔۔ ترجمہ: اے اللہ (عَزَّوَجَلَّ)! ساتوں آسمانوں کے رب اور ان کے جن کو آسمانوں نے سایہ کیا اور ساتوں زمینوں کے رب اور ان کے جن کو زمینوں نے اُٹھایا اور شیطانوں کے رب اور ان کے جن کو انھوں نے گمراہ کیا اور ہواؤں کے رب اور اُن کے جن کو ہواؤں نے اُڑایا۔ اے اللہ(عَزَّوَجَلَّ)! ہم تجھ سے اس بستی کی اور بستی والوں کی اور جو کچھ اس میں ہے اُن کی بھلائی کا سوال کرتے اور اس بستی کے اور بستی والوں کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اُس کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔۱۲

[20] ۔۔۔۔۔۔ انظر: ''مجمع الزوائد''، کتاب الاذکار، الحدیث: ۱۷۱۰۳، ۱۷۱۰۴ص۱۸۸، ج۱۰.

[21] ۔۔۔۔۔۔ پ۳، آل عمران:۸۳. ترجمہ:کیا اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے دین کے سوا کچھ اور تلاش کرتے ہیں اور اسی کے فرماں بردار ہیں، خوشی اور ناخوشی سے وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور اُسی کی طرف تم کو لوٹنا ہے۔۱۲

[22] ۔۔۔۔۔۔ ترجمہ:اے زمین میرا اور تیر اپروردگار اللہ (عَزَّوَجَلَّ) ہے، اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کی پناہ مانگتا ہوں تیرے شر سے اور اُس کے شر سے جو تجھ میں پیدا کی اور جو تجھ پر چلی اور اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کی پناہ شیر اور کالے اور سانپ اور بچھو اور اس شہر کے بسنے والے سے اور شیطان اور اس کی اولاد سے۔۱۲

[23] ۔۔۔۔۔۔ ترجمہ:اے اللہ! (عَزَّوَجَلَّ) میں تجھ کو ان کے سینوں کے مقابل کرتاہوں اور اُن کی بُرائیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ۱۲

[24] ۔۔۔۔۔۔ ترجمہ: اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے سوا کوئی معبود نہیں جو عظمت والا حِلم والا ہے۔ اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے سوا کوئی معبود نہیں جو بڑے عرش کا مالک ہے۔ اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے اور بزرگ عرش کا مالک ہے۔۱۲

[25] ۔۔۔۔۔۔ ترجمہ:اے لوگوں کو اُس دن جمع کرنے والے جس میں شک نہیں، بے شک اللہ (عَزَّوَجَلَّ) وعدہ کا خلاف نہیں کرتا، میرے اور میری گُمی چیز کے درمیان جمع کردے۔۱۲

Share