Share this link via
Personality Websites!
بندہ تِلاوت کے دوران اس درخت کا ذِکْر کرے گا۔
تَحْتَ الشَّجَرَةِ
کے الفاظ پڑھے گا، بحکمِ حدیث 90 نیکیاں کماتا رہے گا۔
یہ ابھی مَحْبُوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے ساتھ چند لمحوں کی نسبت کا اَثَر ہے، تَو وہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم جو آپ کے ہاتھ مبارَک پر زندگی اور موت کی بیعت کر رہے تھے، ان کی شان کا عالَم کیا ہو گا اور حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ جو جان ہتھیلی پر رکھ کر مکہ پاک پہنچے ہوئے تھے، جن کے نام پر یہ بیعت ہو رہی تھی، ان کی شان و عظمت کا عالَم کیا ہو گا...!!
آل و اَصْحابِ نبی سب بادشہ ہیں، بادشاہ
میں فقط ادنیٰ گدا اَصْحاب و اَہْلِ بیت کا([1])
دستِ حبیبِ خُدا، ہاتھ بنا آپ کا
خیر! پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم سَمُرَہ نامی درخت کے نیچے کھڑے ہوئے اور اِعْلان کیا گیا:
اَیُّہَا النَّاسُ اَلْبَیْعَۃَ اَلْبَیْعَۃَ نَزَلَ رُوْحُ الْقُدُسِ فَاخْرُجُوْا عَلٰی اِسْمِ اللہ
ترجمہ:لوگو...!! بیعت ہو رہی ہے، بیعت ہو رہی ہے، حضرت جبرائیل عَلَیْہ ِالسَّلام اُترے ہیں، پَس! اللہ پاک کا نام لے کر نکلو (جلدی سے آ کر بیعت کر لَو)
صحابہ فرماتے ہیں: ہم آرام کے لیے لیٹے ہوئے تھے۔ جونہی بیعت کا اِعْلان ہوا، سب جلدی سے اُٹھے اور محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی خِدْمت میں حاضِر ہو گئے۔ آپ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami