Share this link via
Personality Websites!
پر یہ بیعت لِی جا رہی تھی، اُن کی شان و عظمت کا عالَم کیا ہو گا...؟
اس بیعت کا انداز کیا تھا...؟ روایات میں ہے: پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم سَمُرَہ نامی ایک درخت کے نیچے کھڑے ہوئے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! اس دَرَخت کی بھی کیسی شان ہے۔ آپ قرآنِ کریم کا اُسْلُوب دیکھیے! اَصْل مقصُود تَو بیعت تھی، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا جذبۂ عشقِ رسول تھا کہ آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے بیعت کے لیے بُلایا، سب حاضِر ہو گئے، اب یہ بیعت درخت کے نیچے کھڑے ہو کر لی گئی ہو یا کنویں کے کِنَارے پر، اس سے تَو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر
کسی کو کسی سے ہوئی ہے، نہ ہو گی خُدا کو ہے جتنی محبّت کسی کی([2])
چُونکہ یہ بیعت لیتے وقت پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم اس درخت کے نیچے کھڑے ہو گئے تھے، لہٰذا اللہ پاک نے باقاعِدَہ درخت کا بھی قرآنِ کریم میں ذِکْر کیا، کہا:
تَحْتَ الشَّجَرَةِ
یعنی اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم آپ جب درخت کے نیچے کھڑے ہو کر بیعت لے رہے تھے۔
پتا چلا؛ مَحْبُوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم جس مٹی پر قدم رکھ دیں، جس پیڑ کے نیچے کھڑے ہو جائیں، وہ مٹی اور وہ پیڑ بھی قابِلِ ذِکْر ہو جاتا ہے، اسے ایسی عزّت سے نوازا جاتا ہے کہ چند لمحوں کے لیے آپ اس پیڑ کے نیچے ٹھہرے تھے، اب قیامت تک کے لیے جو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami