Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو! اس بیعت کا موضُوع حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ تھے، بُخاری شریف میں ہے: صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان سے پُوچھا گیا:
عَلٰی اَیِّ شَیْءٍ کُنْتُمْ تُبَایِعُوْنَ
ترجمہ: یعنی اُس دِن کس بات پر بیعت لی گئی تھی؟
فرمایا:
عَلَی الْمَوْتِ
ترجمہ: یعنی اُس روز پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے ہم سے موت پر بیعت لی تھی (کہ یا تَو ہم عثمان کا بدلہ لیں گے یا خُود شہید ہو جائیں گے)۔ ([1])
جان و دِل تیرے قدم پر واریں کیا نصیبے ہیں تیرے یاروں کے([2])
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسولِ اکرم صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی محبّت کا عالَم دیکھیے! ابھی صِرْف ایک خبر مِلی ہے کہ حضرت عثمان شہید ہو گئے ہیں، اگرچہ مَعْلُوم ہے کہ یہ خبر سچّی نہیں ہے مگر آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے اللہ پاک کے حکم سے 1500 صحابہ سے حضرت عثمان کا بدلہ لینے یا شہید ہو جانے کی بیعت لے لی۔
اللہ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا محبوبِ خُدا یار ہے عثمانِ غنی کا([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami