Share this link via
Personality Websites!
سُبْحٰنَ اللہ!یہاں غور فرمائیے! پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے عِلْم و حکمت اور شان و عظمت کی تو کیا بات ہے، آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی اُونٹنی مبارَک بھی کیسی باکمال ہے...!!
خیر! قافلہ یہیں رُک گیا۔ اس وقت مکہ پاک ابھی فتح نہیں ہوا تھا، وہاں غیر مسلوں کا قبضہ تھا، انہیں ایک یہ خطرہ بھی تھا کہ شاید مسلمان جنگ کرنے کے لیے آئے ہیں۔ چنانچہ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو سَفِیر بنا کر مکہ پاک روانہ فرمایا تاکہ آپ اَہْلِ مکّہ کو بتائیں کہ مسلمان جنگ کے ارادے سے نہیں بلکہ اِحْرام باندھ کر عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! اس موقع پر حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا انتخاب بھی آپ کی بڑی شان ہے، آپ ذرا حالات پر غور فرمائیے! *مکّے پر کفّار کا قبضہ ہے *وہاں کوئی بھی اپنا نہیں ہے، سب بیگانے بلکہ *ایسے ظالِم بھی ہیں جو مسلمانوں کو بہت شدید تکلیفیں پہنچایا کرتے تھے *ایسے ماحول میں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ بالکل اکیلے مکہ پاک پہنچے اور وہاں اِسْلام کی نمائندگی فرمائی۔
اب معاملہ یُوں ہوا کہ اَہْلِ مکّہ نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس رَوک لیا۔ اِدھر ایک جھوٹی خبر پھیلی کہ غیر مسلموں نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ہے۔ غیب جاننے والے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم اگرچہ جانتے تھے کہ یہ خبر جھوٹی ہے، البتہ آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے اس بات پر بیعت لی کہ اگر واقعی عثمان شہید ہو چکے ہیں تو ہم ان کا بدلہ ضرور لیں گے۔ اسی بیعت کو بیعتِ رِضْوان کہتے ہیں۔([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami