Share this link via
Personality Websites!
خصوصی شانیں ہیں، ان میں سے ایک خصوصی شان بیعتِ رِضْوان بھی ہے۔ بَیْعتِ رِضْوان آپ ہی کے لیے ہوئی، آپ ہی کے حق میں ہوئی اور اس بیعت میں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو یہ خصوصی شان بھی حاصِل ہوئی کہ محبوبِ ذیشان، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے خُود حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی نمائندگی فرمائی۔ آئیے! اس بیعت کا ذِکْرِ خیر سنتے ہیں:
ہجرت کا چھٹا سال تھا، پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے عمرہ کی ادائیگی کا اِرادہ فرمایا اور سینکڑوں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر مکہ پاک کی طرف روانہ ہوئے۔
جب حُدَیْبِیَہ نامی مقام آیا تو اچانک آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی مبارَک اُونٹنی قَصْوا بیٹھ گئی، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو پریشانی ہوئی کہ آج قَصْوا خِلافِ عادَت یُوں کیوں بیٹھ گئی ہے۔ آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا:
ما خَلاَتِ القَصْوَاءُ، وَما ذَاكَ لَها بِخُلُقٍ، وَلٰكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الفِيْلِ
ترجمہ: قَصْوا ضِدْ کر کے نہیں بیٹھی، نہ اس کی یہ عادَت ہے بلکہ اِسے اُسی (رَبِّ کریم) نے روک دِیا ہے، جس نے ہاتھیوں (یعنی اَبْرَہَہ کی فوج) کو رَوک دیا تھا۔([1])
یعنی قَصْوا اُونٹنی کا یُوں خِلافِ مَعْمُول بیٹھ جانا ایک خُدائی اشارہ تھا کہ یہ مبارَک قافلہ مکہ پاک کی طرف نہ بڑھے بلکہ یہیں حُدَیبِیَہ میں ٹھہر جائے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami