Share this link via
Personality Websites!
و َسَلَّم نے فرمایا: ایسا نہیں ہے، عثمان اگر سالہا سال بھی مکہ میں رہیں، وہ ہر گز مجھ سےپہلے طواف نہیں کریں گے۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! اے عاشقانِ رسول! کیسی نرالی محبّت ہے، حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں ہیں، آپ کو کہا جاتا ہے: طواف کر لیجیے! آپ کہتے ہیں: اپنے مَحْبُوب آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم سے پہلے ہر گز طواف نہیں کروں گا۔
اِدھر محبوبِ خُدا، سرورِ انبیا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کو اپنے پیارے صحابی کی محبّت پر بھروسا کتنا ہے...!! آپ فرماتے ہیں: عثمان چاہے سالہا سال بھی وہاں رہیں، تب بھی وہ میرے بغیر طواف نہیں کریں گے۔ سُبْحٰنَ اللہ!
اللہ پاک حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے، آپ کے صدقے ہمیں بھی عشقِ رسول کی لا زوال دولت، سُنّت سے محبت، پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی اطاعت کا جذبہ نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ۔
خَلق پہ لُطفِ خُدا، حضرتِ عثمان ہیں جملہ مرض کی دَوا، درد کے دَرمان ہیں
آپ مَمْدُوحِ جہاں، خلقِ خُدا مَدح خواں کیا ہے اَگر بَدگُماں چند بے ایمان ہیں
حق نے وہ رتبہ دیا تم غنی ہم سب گدا کیا کہوں میں تم ہو کیا، عقل و دل حیران ہیں
تم غنی سالکؔ گدا، اِک نظر بہرِ خدا آپ جہاں کے لیے رحمتِ رحمٰن ہیں([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami