Share this link via
Personality Websites!
اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱) (پارہ:26،سورۂ حجرات:1)
اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو! بیشک اللہ سننے والا، جاننے والاہے۔
حضرت عائشہ صِدِّیقہ رضی اللہ عنہ ا سے روایت ہے: بعض لوگ رمضان کریم سے ایک دِن پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کردیتے تھے، ان کے بارے میں یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور حکم دیا گیا: اپنے نبی صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم سے آگے نہ بڑھو! ([1])
مشہور مفسرِ قرآن، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یارخان نعیمی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: آیتِ کریمہ میں دیا گیا حکم سب کو عام ہے، یعنی کسی بات میں، کسی کام میں حضور صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم سے آگے ہونا منع ہے، اگر حضور صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے ہمراہ راستے میں جا رہے ہوں تو بِلا اِجازت آگے آگے چلنا منع ہے، اگر آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے ساتھ کھانا کھانے کا شرف ملے تو پہلے شروع کر دینا ناجائِز ہے، اسی طرح اپنی عقل اور اپنی رائے کو حضور صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی رائے سے مُقَدَّم کرنا حرام ہے۔([2])
ایک طرف مکہ پاک میں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا اپنے چچا زاد کے ساتھ یہ مکالمہ چل رہا تھا، دوسری طرف پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی خِدْمت میں حاضِر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ ابوعبد اللہ (یعنی عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ ) کیسے خوش قسمت ہیں، وہ طوافِ کعبہ کی سَعَادت حاصِل کر رہے ہوں گے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے جب یہ بات کی تو سرورِ عالَم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami