Share this link via
Personality Websites!
لمبے رکھیں، وہ فیشن کے طَور پر اُونچے بلکہ بعض تَو آدھی پنڈلی تک رکھتی ہیں۔ دوسری طرف مردَوں کو حکم ہے کہ پانئچے اُونچے رکھیں، یہ ایڑیوں سے بھی نیچے تک رکھتے ہیں، یعنی دونوں ہی اُلٹ چل رہے ہیں۔ اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ سُنّت کی نِیت سے پائنچے ٹخنوں سے اُوپَر رکھنے کی عادَت بنائیے!
حدیثِ پاک میں ہے: ایک شخص بڑے عمدہ کپڑے پہنے ہوئے اکڑ کر چل رہا تھا، اپنے بالوں پر بڑا ناز کر رہا تھا۔
اِذْ خَسَفَ اللہ بِہٖ فَہُوَ یَتَجَلْجَلُ فِیْہَا اِلٰی یَوْمِ القِیَامَۃِ
ترجمہ: تو اللہ پاک نے اسے زمین میں دھنسا دیا، وہ قیامت تک دھنستا ہی چلا جائے گا۔ ([1])
امامِ عالی مقام، امامِ حُسَین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مَا اَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ فِی النَّارِ
ترجمہ: یعنی جو کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکتا ہے، وہ آگ میں ہے۔([2])
اللہ پاک ہمیں توفیق بخشے، صِرْف نماز کے وقت ہی نہیں بلکہ 24 گھنٹے اپنے پائنچے ٹخنوں سے اُوپَر ہی رکھنے کی عادَت بنائیے! یہاں ایک اور بات کی بھی وَضاحَت کر دُوں؛ کہ ٹخنے ننگے رکھنا سنّت ہے۔([3]) جبکہ تکبّر کی نیّت سے ٹخنے چُھپانا حرام ہے۔([4]) لہٰذا ٹخنے اُونچے کرنے کے لیے شلوار چھوٹی سلوانی چاہیے، اُوپَر سے نیفے کو یا نیچے سے پائنچوں کو فولڈ کر لینا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami