Share this link via
Personality Websites!
حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سُنّتوں کے عامِل تھے، لہٰذا آپ نے سُنّت کی پیروی میں اپنا تہبند مبارک ٹخنوں سے اُوپر رکھا ہوا تھا مگر کفّار اس کو بُرا سمجھتے تھے، کفّار تکبر اور فخر کے طَور پر تہبند ٹخنوں سے نیچے رکھتے تھے۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی اَبَان بن سعید نے جب آپ کا تہبند مبارک ٹخنوں سے اُوپر دیکھا تو طنز کرتے ہوئے بولا: کیا بات ہے، میں تمہیں کمزور حالت میں دیکھ رہا ہوں، تمہارا تہبند ٹخنوں سے اُوپَر ہے؟ مطلب یہ تھا کہ اےعثمان! تم امیر آدمی تھے، تمہارا ایک نام تھا، یہ کیا حالت بنا رکھی ہے؟ تم سفیر بن کر آئے ہو، تمہیں چاہیے تھا کہ ذرا بَن ٹھن کر آتے مگرتمہاری حالت بہت کمزور لگ رہی ہے، تمہارا تہبند ٹخنوں سے اُوپر ہے۔
اس پر حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے بہت پیارا جواب دیا، دل کے کانوں سے سنیے! آپ نے فرمایا: ہمارے پیارے نبی، رسول ِ ہاشمی،مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کا تہبند شریف ایسے (یعنی ٹخنوں سے اوپرہی ) ہوتا ہے۔([1])
یعنی اَہْلِ مکہ مجھے کیا کہیں گے، اُن کی نظروں میں میرا کیا تاَثُّر بیٹھتا ہے، مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں، میرے آئیڈیل(Ideal) میرے محبوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ہیں، میں اُن کی اداؤں کو ادا کرنے ہی میں فخر سمجھتا ہوں۔
سُبْحٰنَ اللہ! اے عاشقانِ رسول! کتنی خوبصورت بات ہے! سُنّتِ مصطفےٰ ہمارے لیے مِعْیار ہے، اللہ پاک نے فرمایا:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (پارہ:21،سورۂ احزاب:21)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بیشک تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami