Share this link via
Personality Websites!
ہاتھ ہے۔
یعنی آپ کا اُوپَر والا ہاتھ مبارَک جو (حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی نمائندگی کر رہا ہے) وہ بھی آپ کا ہاتھ نہیں بلکہ یَدُ اللہ ہے۔([1]) اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں:
دستِ شہِ دَوْسَرا جو کہ یدُ اللہ تھا دَست بنا آپ کا، آپ وہ ذیشان ہیں([2])
وضاحت: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ایسی شان والے ہیں کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کا ہاتھ مبارک جو کہ یدُ اللہ تھا ، بیعتِ رضوان کے موقع پر آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے اس ہاتھ کو عثمان کا ہاتھ فرمایا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ رسول! بیعتِ رضوان کے موقع پر جب حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ مکہ پاک گئے ہوئے تھے، اس وقت چند ایمان افروز معاملات ہوئے۔ آئیے! ان میں سے 2روایتیں سُنتے ہیں:
(1): حضرت عثمانِ غنی اور سُنّتِ مصطفےٰ سے محبت!
سرورِ عالَم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو سفیر بنا کر مکہ پاک بھیجا، آپ مکہ پاک پہنچے، آپ کا چچا زاد بھائی اَبَان بن سعید جو مسلمان نہیں تھا، وہ مکہ پاک ہی میں رہتا تھا، حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سب سے پہلے اپنے چچا زاد بھائی اَبَان بن سعید کو ملے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami