Share this link via
Personality Websites!
یہ بیعت کی۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ- (پارہ:26،سورۂ فتح:10)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بیشک جولوگ تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔
میں نے اس بیعت کا مکمل نقشہ کھینچنے کی کوشش کی ہے، بتائیے! اس بیعت میں سب سے نیچے کس کا ہاتھ تھا؟ اللہ پاک کے رسول صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کا۔ سب سے اُوپَر کس کا ہاتھ تھا؟ اللہ پاک کے رسول صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کا۔ نیچے جو ہاتھ مبارَک تھا وہ بیعت لینے کے لیے تھا، اُوپَر جو ہاتھ مبارَک تھا وہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی نمائندگی کے لیے تھا۔ اللہ پاک فرما رہا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ- (پارہ:26،سورۂ فتح:10)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بیشک جولوگ تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ۔
یعنی اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم آپ کا جو نیچے والا ہاتھ مبارَک ہے یہ اَصْل میں آپ کے جسم پاک کے ساتھ ہے مگر چُونکہ اللہ پاک کے حکم سے کام کرتا ہے، لہٰذا یہ ہاتھ مبارَک آپ کا نہیں بلکہ اللہ پاک کا ہے اور یہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم جو بیعت کر رہے ہیں یہ صِرْف آپ کے ہاتھ پر نہیں بلکہ اللہ پاک کے ساتھ بیعت کر رہے ہیں اور
یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ- (پارہ:26،سورۂ فتح:10)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: ان کے ہاتھوں پر اللہ کا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami