Share this link via
Personality Websites!
صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے بیعت لینے کے لیے اپنا ہاتھ مبارَک پھیلایا، سب سے پہلے حضرت اَبُو سِنَان اَسَدِی رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہاتھ مبارَک پر اپنا ہاتھ رکھنے کی سَعَادت پائی، اس کے بعد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے اپنے ہاتھ مَحْبُوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے ہاتھ میں دے دئیے! سب سے آخر میں پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے اپنا دوسرا ہاتھ مبارَک بلند کیا اور فرمایا:
اِنَّ عُثْمَانَ فِی حَاجَتِکَ وَ حَاجَۃِ رَسُوْلِکَ
ترجمہ: اے اللہ پاک! بیشک عثمان تیرے اور تیرے رسول کے کام سے گیا ہے۔
یہ کہہ کر آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے اپنا ہاتھ مبارَک سب ہاتھوں کے اُوپَر رکھا اور فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! جس جس نے یہ بیعت کی، اللہ پاک نے انہیں اپنی رِضا کی خوشخبری سُنائی، محبوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا:
لَا یَدْخُلِ النَّارَ اَحَدٌ بَایَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ
ترجمہ: جس جس نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی، ان میں سے کوئی بھی جہنّم میں نہیں جائے گا۔([2])
اب آپ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی شان دیکھیے! سب صحابہ نے یہ بیعت اپنے ہاتھوں سے کی، حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ اس بیعت میں نِرالی شان سے شامِل ہوئے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے نہیں بلکہ محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے ہاتھ کے ذریعے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami