Share this link via
Personality Websites!
بنے گا کہ اِیْمان کا رنگ جس پر چڑھ جائے، وہ دُنیا بھر میں حَسِین تَرِین ہو جاتا ہے، پِھر جب تقویٰ دِل میں اُترتا ہے تو آدمی کو مزید حَسِین بنا دیتا ہے اور جب اللہ پاک کی محبّت سے دِل سرشار ہو جائے، تب تو آدمی نہایت اعلیٰ تَرِین مقامات پر پہنچ جاتا ہے۔
اَہْلِ ایمان کا حُسْنِ ظاہِر و باطن
روایت ہے: ایک مرتبہ رسولِ بےمثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم سفر میں تھے، صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کی بڑی تعداد بھی ساتھ تھی، اس دوران ایک صحرا سے گزر ہوا، دُور دُور تک پانی کا نام و نشان نہیں تھا، صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کو شِدَّت کی پیاس لگ گئی، موت سروں پر منڈلانے لگی مگر فِکْر کی کیا بات تھی کہ مالِکِ کوثَر نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ساتھ تھے۔ کسی شاعر نے کیا خو ب کہا؛
کسی کو حالات کیوں بتائیں، کسی کا اِحْسان کیوں اُٹھائیں
تمہی سے مانگیں گے تم ہی دَو گے، تمہارے دَرْ سے ہی لَو لگی ہے
اب غیب جاننے والے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے دُور ایک ریت کے ٹیلے کی طرف اِشارہ کیا اور فرمایا: اس ٹیلے کے پیچھے ایک غُلام ہے، سیاہ فام ہے، حبشی ہے، اُونٹنی پر سُوار ہے، اُس کے پاس پانی سے بھرے ہوئے مشکیزے ہیں، اُس غُلام کو اُونٹ سمیت میرے پاس لے آؤ!
صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان دوڑے، ٹیلے کے پاس پہنچے، دیکھا؛ جیسا بتایا تھا، بالکل ویسا ہی غُلام موجود تھا، صحابۂ کرام نے اس غُلام کو ساتھ لیا اور قافلے میں واپس آ گئے۔ اب پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے اس غُلام سے ایک مشکیزہ لیا، رحمت بھرے ہاتھ اس
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami