Share this link via
Personality Websites!
ہیں۔ اَلحمدُ لِلّٰہ! پہلی وجہ سے تَو ہم محفوظ ہیں۔ یعنی اللہ پاک کے فضل سے ہمیں اِیْمان نصیب ہے، ہم اللہ پاک پر، اس کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پر سچّے دِل سے اِیْمان رکھتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں اس پر استقامت نصیب فرمائے۔
پیارے اسلامی بھائیو! منافقوں کے صدقات قبول نہ ہونے کی دوسری وجہ اِرْشاد ہوئی:
وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى (پارہ:10، سورۂ توبہ:54 )
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور وہ نماز کی طرف سستی و کاہلی سے ہی آتے ہیں۔
پتا چلا؛ نمازوں میں سُستی بھی قبولِیّت کی راہ میں بڑی رُکاوٹ ہے۔ افسوس! اب ہمارے ہاں نمازوں کی پابندی کی طرف تَوَجُّہ بالکل کم ہوتی جا رہی ہے۔ بالخصوص عید کے موقع پر تو بیچارے امام صاحِب کو نمازی ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔ پکّے نمازی جو پانچوں وقت کی نمازیں باجماعت مسجد میں ادا کرتے ہیں، عید والے دِن وہ بھی میسر نہیں آتے *بعض تَو رشتے داروں سے ملنے ملانے کے لیے بیرونِ شہر چلے جاتے ہیں اور *بعض نادان عید کی مَصْرُوفیات کے سبب نمازوں میں سُستی کر جاتے ہیں۔ کاش! ہمیں توفیق ملے، عید والے دِن بھی پانچوں نمازیں مسجد میں باجماعت ادا کر پائیں۔
حدیثِ پاک میں ہے: پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
اَلْجَفَاءُ كُلُّ الْجَفاءِ وَالْكُفْرُ وَالنِّفَاقُ مَنْ سَمِعَ مُنَادِيَ اللهِ تَعَالَى يُنادِي بِالصَّلَاةِ يَدْعُوْ اِلَى الْفَلاَحِ فَلَا يُجِيْبُهٗ
ترجمہ: بےوفائی، پُوری کی پُوری بےوفائی، کُفْر اور منافقت ہے کہ آدمی اذان دینے والے کو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami