Share this link via
Personality Websites!
یعنی انہوں نے اپنے گھر جہاں یہ پیدا ہوئے، جہاں انہوں نے بچپن گزارا، جہاں جوانیاں گزاریں، وہ گلیاں، وہ گھر چھوڑ کر یہ جا رہے ہیں تو اب انہیں دُنیا میں رہنے کے لیے حَسِین تَرِین مقام عطا کیا جائے گا۔([1]) یہ پہلا اِنْعام جو دُنیا میں نصیب ہوا۔ مزید فرمایا:
وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ(۴۱) (پارہ:14، سورۂ نحل:41)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور بیشک آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے، کسی طرح لوگ جانتے ۔
یعنی دُنیا میں اچھے ٹھکانے کے ساتھ ساتھ آخرت میں انہیں بہت بڑا اَجْر عطا کیا جائے گا۔([2])
شانِ صحابۂ کرام علیہم الرّضوان
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام علیہم الرّضوان کی ان مقدَّس شانوں پر ذرا غور فرمائیے! آج ہم سَفَرِ حج، سَفَرِ مدینہ کی سَعَادت حاصِل کرتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، کیا ہم میں سے کسی کے پاس اِن نیکیوں کی قبولیت کی گارنٹی ہے؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے اَعْمال قبول ہو گئے ہیں؟ نہیں...!! کہہ سکتے *ہم نماز پڑھ تو سکتے ہیں، قبول کرنا نہ کرنا اللہ پاک کی مرضِی ہے *ہم روزے رکھ تو سکتے ہیں، قبول ہوئے یا نہیں، ہم نہیں جانتے *ہم بڑے ذوق و شوق کے ساتھ مدینے جا بھی سکتے ہیں، حج بھی کر سکتے ہیں، عمرہ بھی کر سکتے ہیں مگر یہ نیکیاں قبول ہوئیں یا نہیں، مرنے سے پہلے ہم جان نہیں سکتے۔ صحابۂ کرام علیہم الرّضوان کی شان دیکھیے! یہ حضراتِ عالی وقار نیکیاں کرتے تھے، اللہ پاک قرآنِ کریم کی آیات اُتار کر بتا دیتا تھا کہ جس نے یہ نیکی کی ہے، اسے دُنیا میں یہ اَجْر ملے گا، آخرت میں وہ اَجْر مِل جائے گا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami