Share this link via
Personality Websites!
آزادکر دیا جاتا ہے۔([1])
قربان جائیے! حاجی 9 ذُو الْحَجْ کا دِن میدانِ عرفات میں گزارتے ہیں *پِھر سُورج غروب ہو جانے کے بعد یہاں سے مُزْدَلِفہ کو روانگی ہوتی ہے، یہ رات یہاں بَسَر ہوتی ہے، فجر کی نماز کے بعد سُورج نکل آنے کے بعد 10 ذُو الْحَجْ (یعنی عید کے دِن) یہاں سے مِنیٰ کو روانگی ہوتی ہے، یہاں حاجی رَمِی کرتے (یعنی شیطان کو کنکریاں مارتے) ہیں *پِھر قربانیاں کی جاتی ہیں *اس کے بعد حلق کروا کر اِحْرام کھول دیتے ہیں *پِھر طوافِ زیارت ہوتا ہے اور یُوں حج مکمل ہو جاتا ہے *بعد میں وَطن واپسی کے وقت اَلْوِداعی طواف کیا جاتا ہے۔
مُقَدَّس ہیں دیگر مہینے بھی لیکن نِرالی ہیں حج کے مہینے کی باتیں
شہا! میرا سینہ مدینہ بنا دو خیالوں میں ہوں بس مدینے کی باتیں ([2])
پیارے اسلامی بھائیو! وہ خُوش نصیب جو اس سال حج کی سَعَادت حاصِل کرنے کے لیے جا رہے ہیں یا پہنچ چکے ہیں، اُن کو بہت بہت مبارَک ہو، اللہ پاک ان کی یہ کاوِشَیں قبول فرمائے، جو بیچارے نہیں جا پا رہے، جانے کو ترس رہے ہیں، اللہ پاک انہیں بھی سَفَرِ حج اور سَفَرِ عمرہ کی توفیق نصیب فرمائے۔
پارہ: 2، سُورۂ بقرہ، آیت: 197 سے لے کر 203 تک 7 آیات میں سَفَرِ حج کے کچھ اَہَم آداب بیان ہوئے ہیں، یہ آداب ہیں تَو حاجیوں کے لیے مگر اِن میں سبھی کے لیے سیکھنے کی باتیں ہیں، آئیے! سیکھتے ہیں:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami