Share this link via
Personality Websites!
مَعْلُوم ہوا؛ قرآنِ کریم جس طرح ہِدایَت کا سرچشمہ ہے، جس طرح دِلوں کو زندگی بخشتا ہے، یونہی اس میں جسمانی بیماریوں کی شفا بھی موجود ہے۔
بلکہ اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: خَیْرُالدَّوَاءِ اَلْقُرْاٰنُ یعنی بہترین دَواقرآنِ کریم ہے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ!میڈیکل کی دواؤں کا اَپنا اَثَر ہے طبِّ یونان کی جڑی بوٹیوں کا اَپنا اَثَر ہے ہومیوپیتھک کے نسخوں کا اپنا اَثَر ہے، ان سب بلکہ دُنیا کی تمام تَر دَواؤں میں سب سے جو بہترین دَوا ہے، وہ قرآنِ کریم ہے۔
اللہ پاک کے نام میں شِفَا ہے
امام رازی رحمۃُ اللہ علیہ نے تفسیر کبیر میں بڑی خوبصُورت روایت لکھی، فرماتے ہیں: ایک مرتبہ اللہ کے نبی حضرتِ موسیٰ کلیمُ اللہ علیہ السَّلام کے پیٹ میں دَرْد ہوا۔
اللہ! اللہ! نصیب دیکھیے! ہمیں دَرْد ہو تَو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں مگر حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کی شان وعظمت کے کیا کہنے! آپ کو دَرْد ہُوَا تَو کوہِ طُور پر حاضِر ہوئے، اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کیا: مولیٰ! پیٹ میں دَرْد ہے۔ اِرْشاد ہوا: اے موسیٰ! جنگل میں جائیے اور فلاں جڑی بُوٹی کھا لیجیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السَّلام جنگل میں پہنچے، جڑی بوٹی حاصِل کی، کھائی اور آرام آگیا۔ کچھ عرصے کے بعد پھر پیٹ میں اسی طرح کا دَرْد ہوا، اب حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کو علاج مَعْلُوم تھا، چنانچہ جنگل میں گئے، وہی جڑی بُوٹی لی اور کھا لی مگر خُدا کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami