Share this link via
Personality Websites!
کے گڑھے میں اُترے، ایسے جگری یاروں نے بھی ملنا چھوڑ دیا۔
غرض؛ وہ دوستیاں جو دُنیاداری کی بنیاد پر ہوتی ہیں، وہ روزِ قیامت تَو کیا قبر کے گڑھے تک بھی ساتھ نہیں چلتیں۔
(2):دوسری دوستی: فرمایا:
اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠(۶۷) (پارہ:25، سورۂ زخرف:67)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: سوائے پرہیزگاروں کے
یعنی نیک لوگوں کی دوستی، اِن کی بیٹھک، اِن کا پیار، اِن کی محبّت ہے جو دُنیا ہی میں نہیں، بلکہ قیامت کے دِن، اُس نفسا نفسی کے عالَم میں بھی قائِم رہے گی اور کام بھی آئے گی۔
بخاری شریف میں حدیثِ پاک ہے، رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سُلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: روزِ قیامت گنہگاروں کو جہنّم میں ڈال دیا جائے گا۔ اب نیک لوگ جن کی بخشش ہو چکی ہو گی، وہ اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کریں گے: اے اللہ پاک! اِخْوَانُنَا كَانُوْا يُصَلُّوْنَ مَعَنَا وَيَصُوْمُوْنَ مَعَنَا وَيَعْمَلُونَ مَعَنَا یہ ہمارے بھائی ہیں، ہمارے ساتھ نمازیں پڑھا کرتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھا کرتے تھے، ہمارے ساتھ مِل کر نیک اَعْمال کیا کرتے تھے۔اللہ پاک فرمائے گا: اِذْہَبُوْا! یعنی جہنّم کے اندر چلے جاؤ! فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِّنْ اِيمَانٍ فَاَخْرِجُوْهُ جس کے دِل میں دینار برابر بھی اِیمان پاؤ! اُسے جہنّم سے نکال کر لے آؤ! محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ان بخشے ہوؤں پر جہنّم کی آگ حرام کر دی جائے گی، یہ جہنّم کے اندر چلے جائیں گے اور جس جس کو پہچانتے ہوں گے، انہیں نکال کر باہَر لے آئیں گے۔([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami