Share this link via
Personality Websites!
حضرت عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ عنہا سے روایت ہے : بعض لوگ رمضان المبارک سے ایک دِن پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کردیتے تھے ، ان کے بارے میں یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور حکم دیا گیا : اپنے نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم سے آگے نہ بڑھو ! ([1])
مشہور مفسرِ قرآن ، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یارخان نعیمی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : آیتِ کریمہ میں دیا گیا حکم سب کو عام ہے ، یعنی کسی بات میں ، کسی کام میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم سے آگے ہونا منع ہے ، اگر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ راستے میں جا رہے ہوں تو بِلا اِجازت آگے آگے چلنا منع ہے ، اگر آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کھانا کھانے کا شرف ملے تو پہلے شروع کر دینا ناجائِز ہے ، اسی طرح اپنی عقل اور اپنی رائے کو حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی رائے سے مُقَدَّم کرنا حرام ہے۔ ([2])
سُبْحٰنَ اللہ ! ایک طرف مکۂ مکرمہ میں حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عنہ کا اپنے چچا زاد کے ساتھ یہ مکالمہ چل رہا تھا ، دوسری طرف پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمت میں حاضِر صحابۂ کرام علیہم الرِّضْوَان آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ ابوعبد اللہ (یعنی عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عنہ ) کیسے خوش قسمت ہیں ، وہ طوافِ کعبہ کی سَعَادت حاصِل کر رہے ہوں گے۔
صحابۂ کرام علیہم الرِّضْوَان نے جب یہ بات کی تو سرورِ عالَم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ایسا نہیں ہے ، عثمان اگر سالہا سال بھی مکہ میں رہیں ، وہ ہر گز مجھ سےپہلے طواف
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami