Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو ! حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عنہ کی خصوصیات میں سے پانچویں اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے بیعتِ رِضْوان کے موقع پر اپنے ہاتھ کو حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عنہ کا ہاتھ فرمایا۔
ہجرت کا چھٹا سال ، صلح حدیبیہ کا موقع تھا ، پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عنہ کو سَفَیر بنا کر مکۂ مکرمہ روانہ فرمایا۔
اُس وقت تک مکۂ مکرمہ فتح نہیں ہوا تھا ، مکۂ مکرمہ پر کافِروں کا قبضہ تھا ، چنانچہ اَہْلِ مکہ نے حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عنہ کو روک لیا۔ اِدھر ایک جھوٹی خبر پھیلی کہ کافِروں نے حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عنہ کو شہید کر دیا ہے۔
غیب جاننے والے نبی ، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم اگرچہ جانتے تھے کہ یہ خبر جھوٹی ہے ، البتہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام علیہم الرِّضْوَان سے اس بات پر بیعت لی کہ اگر واقعی عثمان شہید ہو چکے ہیں تو ہم ان کا بدلہ ضرور لیں گے۔
اس بیعت کا ذِکْر قرآنِ کریم میں یُوں کیا گیا ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ-فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠(۱۰) (پارہ:26 ، سورۂ فتح:10)
ترجَمہ کنزُ الایمان : وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے تو جس نے عہد توڑا اس نے اپنے بڑے عہد کو توڑا اور جس نے پورا کیا وہ عہد جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو بہت جلد اللہ اُسے بڑا ثواب دے گا ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami