Share this link via
Personality Websites!
اَور کیا چاہئے... ! !
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالَم خدا چاہتا ہے رضائے مُحَمَّد)صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم( ([1])
وضاحت : اس شعر میں اعلیٰ حضرت ، امام عشق ومحبت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اُس حدیثِ پاک کی طرف اشارہ فرمایا جس میں یہ ہےکہ قیامت والے دن اللہ پاک سب اگلوں اور پچھلوں کو جمع کر کے اپنے محبوب سے فرمائے گا:یہ سب میری رضا چاہتے ہیں ، لیکن اے میرے محبوب ! میں تیری رضا چاہتا ہوں۔
یاد رکھئے ! محبوبِ خُدا ، سرورِ انبیا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی رِضا مل جانا کوئی عام بات نہیں ، بہت بڑی فضیلت ہے۔ امام محمد بن محمد غزالی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : آخرت میں اللہ پاک کی طرف اَہْلِ جنّت کو جو سب سے بڑا انعام ملے گا ، وہ اللہ پاک کی رضا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اللہ پاک کی رضا ملتی کیسے ہے ؟ سیدی اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:
بَہم عَہْد باندھے ہیں وَصْلِ اَبَد کا رضائے خُدا اور رضائے محمد)صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم( ([2])
یعنی ایک ہے اللہ پاک کی رِضا ، ایک ہے محبوبِ خُدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی رضا ، ان دونوں (یعنی رضائے خُدا اور رضائے مصطفےٰ) نے آپس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہ پختہ وعدہ کیا ہوا ہے کہ دونوں ساتھ ساتھ ہی رہیں گے ، یعنی جسے اللہ پاک کی رضا چاہئے ، وہ محبوبِ خُدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو راضی کر لے ، جس سے محبوبِ خُدا ، محمد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم راضی ہو گئے ، خُدائے دو جَہاں بھی اُس سے راضی ہو جائے گا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami