Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو ! حیا کی نَشوونُما میں ماحول اور تربیَّت کا بَہُت عمل دَخْل ہے۔ حیادار ماحول مل جانے کی صورت میں حیاکو خوب نِکھار ملتا ہے جبکہ بے حیا لوگوں کی صحبت قلب و نگاہ کی پاکیزگی چھین کر بے شرم کر دیتی ہے اور بندہ بے شمار غیر اَخلاقی اور ناجائز کاموں میں مُبتَلا ہو جاتا ہے اس لئے کہ حیاء ہی تو تھی جو برائیوں اور گناھوں سے روکتی تھی۔ جب حیا ہی نہ رہی تو اب بُرائی سے کون روکے ؟ بَہُت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بدنامی کے خوف سے شرما کر بُرائیاں نہیں کرتے مگر جنہیں نیک نامی و بدنامی کی پرواہ نہیں ہوتی ایسے بے حیا لوگ ہر گناہ کر گزرتے ، اَخلاقیات کی حُدُود توڑ کر بداَخلاقی کے میدان میں اُتر آتے اور انسانيت سے گِرے ہوئے کام کرنےمیں بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔
اے عاشقانِ رسول ! حیا کا ذِہن بنانے کے لئے شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنت کا بہترین رِسالہ باحیا نوجوانمکتبۃ المدینہ سے حاصل کرکے پڑھئے ! اور دوسروں کو بھی پڑھنے ترغیب دلائی اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم ! حیا کا دور دورہ ہوگا۔ اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔
یا الٰہی ! دے ہمیں بھی دولتِ شرم و حیا حضرتِ عثماں غنی با حیا کے واسِطے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
چوتھی خصوصیت : دُعائے مصطفےٰ کے حریص
ایک بہت پیاری خصوصیت یہ ہے کہ پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کثرت سے دُعائیں فرماتے تھے۔ آئیے ! اس بارے میں چند روایتیں سنتے ہیں:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami