Share this link via
Personality Websites!
کریں ، مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہم گناہ کے کاموں میں حیا نہیں کرتے۔ اس کے بَرعکس بعض اوقات جہاں نیکی کا کام ہوتا ہے وہاں مَعَاذَاللہ ہمیں شرم آجاتی ہے ، داڑھی رکھنی ہو تو شرم آتی ہے ، عمامہ کیوں نہیں باندھا ؟ شرم آتی ہے ، زُلفیں رکھ لو ! نہیں شرم آتی ہے ، نیکی کی دَعوت دیا کرو ! نہیں مجھے شرم آتی ہے۔ حالانکہ شرم وہاں کرنی چاہیے جو گناہ کا کام ہو ، لیکن افسوس... ! ہمیں وہاں شرم نہیں آتی۔
مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں : بھلائی 4چیزوں میں ہے : (1):نوافِل پڑھ کر اللہ پاک سے اِظْہارِ محبّت کرنے میں (2):اللہ پاک کے اَحْکامات پر صبر سے کام لینے میں (3):اللہ پاک کی تقدیر پر راضی رہنے میں (4):اور اللہ پاک دیکھ رہا ہے ، اس لئے اس سے حیاء کرنے میں ۔ ([1])
ابن ماجہ کی حدیث ہے : بے شک ہر دین کا ایک خُلْق ہے اور اسلام کا خُلق حیاہے۔ ([2]) یعنی ہر اُمَّت کی کوئی نہ کوئی خاص خَصْلت ہوتی ہے جو دیگر خصلتوں پر غالِب ہوتی ہے اور اسلام کی وہ خصلت حیا ہے۔ اس لئے کہ حیا ایک ایسا خُلْق ہے جو اَخلاقی اچھّائیوں کی تکمیل ، ایمان کی مضبوطی کا باعِث اور اسکی عَلامات میں سے ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami