Book Name:Qurani Talimat Sikhiye Aur Amal Kijiye

مُعَاشَرے میں پھیلے ہوئے اندھیرے

پیارے اسلامی بھائیو! ابھی ہم نے سُورۂ ابراہیم کی جو آیتِ کریمہ سُنی ، اس میں قرآنِ کریم کے نُزول کا ایک مقصد بیان ہوا :

لِتُخْرِ جَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ﳔ  (پارہ13 ، سورۂ ابراہیم : 1)                                              

ترجَمۂ کنزُ الایمان : کہ تم لوگوں کو اندھیریوں سے اجالے میں لاؤ۔

اس سے معلوم ہوا؛ وہ باتیں جو قرآنِ کریم نازِل ہونے سے پہلے عام تھیں اور اللہ پاک کے آخری نبی ، رسولِ ہاشمی صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے نظامِ قرآن عام فرما کر اُنہیں بدل دیا یعنی حُضُور جانِ کائنات صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے دُنیا کو جن چیزوں سے نِکالا وہ سب اندھیرے ہیں اور جس طرف نِکالا وہ نُور ہی نُور ہے۔ مثلاً * لوگ کُفْر میں بھٹک رہے تھے ، حُضُور صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں ایمان کی طرف بُلایا ، لہٰذا کفر اندھیرا ہے اور ایمان نُور ہے۔ اسی طرح غور کرتے جائیے! * حُضور صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے نماز کا حکم دیا ، لہٰذا نماز پڑھنا نُور ہے اور نماز نہ پڑھنا اندھیرا ہے * حُضُور صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا ، لہٰذا ماہِ رمضان کے فرض روزے رکھنا نُور ہے اور بِلاعُذْرِ شرعی روزے قضا کر دینا اندھیرا ہے * حضور صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے سُود سے منع فرمایا ، لہٰذا سُود سے بچنا نُور ہے اور سُودی لین دین کرنا اندھیرا ہے * حُضُور صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے بےحیائی سے منع فرمایا ، لہٰذا حیا نُور ہے اور بےحیائی اندھیرا ہے * اسی طرح وہ ساری بُرائیاں جن میں زمانۂ جاہلیت کے لوگ مُلَوِّث تھے ، وہ اندھیرا ہی اندھیرا ہے اور قرآنِ کریم نے جن باتوں کا حکم دیا ، وہ سب نُور ہی نُور ہے۔