Book Name:Barakate Namaz aur Tarke Namaz ke Waeiden

صَدْرُالْاََفاضِل حَضْرتِ علّامہ مولانا سَیِّد محمد نعیمُ الدِّین مُرادآبادی رَحْمَۃُ اللّٰہ  عَلَیْہ  خَزائِنُ العرفان میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : تنگ زِندگانی یہ ہے کہ ہِدایت کا اِتّباع (پیروی) نہ کرنے سے عملِ بد اورحَرام میں مبتلا ہو یا قَناعت سے مَحْروم ہو کر گرفتارِحرص (لالچ میں گرفتار)ہو جائے اور کثرتِ مال و اسباب سے بھی اس کو فَراخِ خاطر (کُشادہ دلی)اور سُکونِ قَلْب مُیَسَّر نہ ہو ، دِل ہر چیز کی طلب میں آوارہ ہو اورحِرص کے غَموں سے کہ “ یہ نہیں وہ نہیں “ حال تاریک اوروَقْت خَراب رہےاور مومن مُتوکِّل کی طرح اس کو سُکون و فَراغ حاصل ہی نہ ہو جس کو “ حَیاتِ طیّبہ “ کہتے ہیں۔ حَضْرتِ ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُما نے فرمایا کہ بندے کو تھوڑا ملے یا بہت اگر خَوفِ خُدا نہیں تو اس میں کچھ بھلائی نہیں اور یہ تنگ زِنْدگانی ہے۔

پیارے اسلامی بھائیو!اللہ پاک کی یاد سے مُنہ پھیرنے کی آفتیں کس قَدر شدید ہیں کہ انسان کی  مَعِیْشت تنگ ہوجائے گی ، وہ ناجائز وحَرام کاموں میں  مبتلا ہوجائے گا ، قَناعت کی دولت چِھن جائے گی اور حِرص کی بھیانک آگ ہر طَرف سےاسے  اپنی لپیٹ میں لے لے گی ، جتنا بھی کمالے گا اس کی حِرص کی آگ نہیں بجھے گی۔ وہ مال کو پُرسکون زِنْدگی کا ذَرِیعہ سمجھےگا ، مگر دولت وشُہرت حاصل ہونے کے باوُجُوداُسےقَلْبی سُکون حاصل نہ ہوگا۔ آرام دہ بِسْتر توہوگا لیکن چین کی نیند مُیَسَّرنہ ہوگی۔ خواہشات کا سیلاب  اس کے  صَبْرو شکر اور خُوشیوں کی عمارت کو بہا لے جائے گا اور طَرح طَرح کے غم اس کی زِنْدگی کو تاریک کردیں گے ، غرض یہ کہ  ایسا شخص سُکون کی دولت سے مَحْروم رہے گا۔

پیارے اسلامی بھائیو!ان تمام آیات ِ مُبارَکہ اور اَحادیثِ مُقَدّسہ کو سُننے کے بعد ہمیں  یہ عہد کرنا چاہیے کہ اِنْ شَآءَ اللہ آئندہ ہماری کوئی نَماز قَضا نہیں ہوگی۔ آئندہ ہم پابندی کے ساتھ نمازِ با جماعت کا اِہتِمام کریں گے۔ ۔ ۔ بلکہ آج تک  جتنی نَمازیں قَضا ہوئی ہیں ، سچی توبہ کرکے انہیں اَدا کریں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہ