Book Name:Ham Q Nahi Badltay

کاروبار(Business)كاروزانہ، ماہانہ اور سالانہ حساب کتاب کرتا ہے،پھر اُس پرمختلف پہلوؤں سے غور و فِکْر کرتاہے،جہاں کسی قسم کی خامی نظر آئے، اُسےدُرُسْت کرتا ہے اور جوچیز نفع کے حُصُول میں رُکاوٹ نظرآتی ہےاس کودُورکرتاہے۔اگروہ اپنےکاروباری مُعاملات کامُحاسَبہ نہ کرے تو اُسے نفع حاصل ہونا تو دُور ،اُلٹا نُقْصان کا سامنابھی ہوسکتا ہےاور اگر اس نُقْصان کے بعدبھی وہغفلت کی گہری نیندسے بیدار نہ ہوتو ایک دن ایسا آتا ہےکہ اُس کااَصَل سرمایہ بھی باقی نہیں رہتا اور وہ کوڑی کوڑی کا مُحتاج ہوکررہ جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جو شخص”آخرت“میں نفع کمانے کاآرزُو مَنْد ہو ،اُسے بھی چاہئے کہ اپنے کئے گئے اَعْمال پرغور کرے ، جو اَعْمال اُس کونفع دِلوانےمیں مُعاون ثابت ہوں، اُن کو مزید بہتر کرے اور جو کام اِس نفع کےحُصُول میں رُکاوٹ بن رہےہوں، اُنہیں چھوڑ دے،جوشخص اس طرح اپنا اِحْتِساب جاری رکھے گاوہ اللہکریم کی توفیق سےکامیابی سےہمکِنار ہو گا اور بطورِنفع اُسے جنّت  میں داخلہ نصیب ہوگا،یہی وجہ تھی کہ  حضرت سَیِّدُنافاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ عَنْہُ روزانہ اپنا محاسبہ کرتے تھے ،چنانچہ

سَیِّدُنافاروقِ اعظم  کا محاسبۂ نفس

       حضرتِ سَیِّدُناعمرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ عَنْہُ(اپنامحاسبہ فرمایا کرتے)رات کےوقت اپنےپاؤں پردُرَّہ (کَوڑا)مار کر فرماتے: بتا! آج تُو نے’’کیا عمل‘‘کیا؟۔(احیاء العلوم،۵/۳۵۸ملخصاً)

اےعاشقانِ صحابہ واولیاء!دعوتِ اسلامی کےمدنی ماحول میں محاسبۂ نفس اورخوداحتسابی کرنےکو ’’ غور و فكر  کرنا‘‘کہتےہیں۔اَمیرِاہلسنّت،حضرت علّامہ مولانامحمدالیاس عطّارقادریدَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   ہمارےسچےاورحقیقی خیرخواہ ہیں۔آپ  نےہمیں ایک عظیم الشّان مدنی نسخہ بنام”مدنی انعامات “عطا