Book Name:Faizan-e-Safar-ul-Muzaffar

سے دُور دُور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔وہ شخص دورانِ سفر  اپنے ذِہن کے مُطابق بد شگونیوں کا شکار ہوااور یہ سوچنے لگا کہ اب  سفر ختم کر کے واپس جانے میں ہی عافیت ہے۔کیونکہ اس کے خیال کے مطابق  اتنی ساری بد فالیوں(یعنی بدشگونیوں) کے بعد اس کی حاجت کا پورا ہو نا ممکن نہ تھا،چونکہ سفر کرنا بھی ضروری تھالہٰذا اس نے سفر ختم نہ کیا ۔ جب وہ وہاں پہنچا تو اسے اتنی رقم مل گئی جو اس سے پہلے اس نے کبھی دیکھی  بھی نہیں تھی اور نہ ہی اسے اس کی توقع تھی۔ اپنی حاجت کے اس طرح پورا ہونے کے بعداس نے یہ ذہن بنا لیا کہ بدشُگُونی کی کوئی  حقیقت نہیں ہے۔

اس حکایت سے اُن لوگوں کے وہم کی مکمل کاٹ ہوگئی جو  کسی انسان،جانور،کسی  دن یا مہینے کو صرف اپنے وہم کی بنیاد پر  منحوس خیال کرتے ہیں حالانکہ شریعت میں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

یادرکھئے!جو شخص وہم کی آفت میں مُبْتَلا ہوجاتا ہے تو اسے ہر چیز ہی منحوس محسوس ہونے لگتی ہے، حتّٰی کہ وہمی شخص کم عقل لوگوں کی باتوں میں آکر غلط فیصلے کرکے نہ صرف خود آزمائش میں مُبْتَلا ہوجاتا ہے بلکہ دیگر لوگوں کیلئے بھی وبالِ جان بن کر رہ جاتا ہے ۔ کسی مسلمان کےمَنْحوس ہونے کا خیال نفرت کے وبال  میں ڈال سکتا ہے۔ مَنحْوس ہونے کا وہم شیطان کا وہ  ہتھیار ہے  جو مسلمانوں کو آپس میں لڑائی ، جھگڑے کرواکر چین  و سکون کی بربادی کا سبب بن جاتا ہے۔یہ بات  اچھی  طرح ذِہْن نشین کرلیجئے  کہ کسی شخص،جگہ، چیز یا وَقْت کومنحوس جاننے کا اسلام میں  کوئی تصوُّر(Consept)نہیں یہ صرف وہمی خیالات ہوتے ہیں، جیسا کہ

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ سے سُوال کیا گیا:ایک شخص کے مُتعلِّق مشہور ہے کہ اگر صُبْح کو اس کی منحوس صُورت دیکھ لی جائے یا کہیں کام کو جاتے ہوئے یہ سامنے آجائے تو ضَرورکچھ نہ کچھ دِقّت(مشکل) اور پریشانی اُٹھانی پڑے گی اور چاہے کیسا ہی یقینی طور پر