Book Name:Faizan-e-Safar-ul-Muzaffar

آیا کہ یہاں سے واپس لوٹ جانے میں ہی عافیت ہے، لیکن پھر اپنی حاجت کو یاد کرکے واپسی کا اِرادہ چھوڑدیا۔ جب میں مُسافر خانے پہنچا اور ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا کروں کہ اتنے میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔میں نے پوچھا: کون؟تو جواب ملا:میں آپ سے ہی ملنا چاہتا ہوں۔میں نے پوچھا:کیا تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں؟اس نے کہا:ہاں۔میں نے دل میں کہا:’’یا تو یہ دشمن ہے یا پھر بادشاہ کا نمائندہ!‘‘میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد دروازہ کھول دیا۔اس شخص نے کہا :مجھے فُلاں شخص نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ اگرچہ میرے آپ سے اِختلافات ہیں لیکن اَخْلاقی حُقُوق کی اَدائیگی ضَروری ہے، میں نے آپ کے حالات سُنے ہیں اس لئے مجھ پر لازِم ہے کہ آپ کی ضروریات پوری کروں۔اگر آپ ایک یا دو ماہ تک ہمارے یہاں ٹھہریں تو آپ کی ضروریات پوری کی جائیں گی،اگر آپ یہاں سے جانا چاہتے ہیں تویہ30 دِینار ہیں،انہیں اپنی ضَروریات پر خَرچ کرلیجئے اور تشریف لے جائیے ہم آپ کی مجبوری سمجھتے ہیں۔

اس شخص کا بیان ہے کہ اس سے پہلے میں کبھی30 دِینار کا مالک نہیں ہوا تھا اور مجھ پر یہ بات بھی ظاہِر ہوگئی کہ بَدشُگُونی کی کوئی حقیقت نہیں۔(روح البیان،پ۲،البقرۃ،تحت الایۃ۱۸۹،۱/۳۰۴ملخصاً)

حکیمُ الْاُمَّت حضرت  مفتی احمد یار خانرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ لکھتے ہیں :اسلام میں  نیک فال لینا جائز ہے ،بدفالی بدشگونی لینا حرام ہے ۔(تفسیر نعیمی، ۹/۱۱۹)

کریں نہ تنگ خیالاتِ بد کبھی ، کردے                 شعور و فکر کو پاکیزگی عطا یاربّ

(وَسائلِ بخشش مُرمَّم،ص۷۸)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                             صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمّد

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حکایت سے پتہ چلا!بدشُگُونی کا حقیقت