Book Name:Yadgari Ummat Pay Lakhoon Salam

سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےساری زندگی ہی اپنی اُمّت کویاد فرماتے رہے،آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُمّت کی بخشش ونجات کےلئے راتوں کو عبادت کرتے تھے، آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غاروں  کی  تنہائیوں میں  جاکراشکباری فرماتے تھے،آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قرآن کی تلاوت کرتےہوئےاشک بارہوتے تھے،آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُمّت کےگناہوں  اور قیامت کی  سختیوں کاخیا ل کرکےبارگاہِ الٰہی میں  گِریہ و زاری فرماتے تھے،آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قرآن کی اُس آیت کی تلاوت سُن کر اشکباری فرماتے تھے کہ جس آیت میں ہراُمّت سےگواہ لانےاورآپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکوتمام لوگوں پر گواہ بنانےکاذکرموجود ہے،آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکبھی ایک ہی آیت کی تلاوت  پر ساری رات گزار دیتے،کبھی  لمبے  لمبےقیام ورکوع فرماتے،کبھی پیشانی سجدہ میں رکھ کراُمّت کی بھلائی  طلب فرماتے۔آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ گِریہ وزاری و شب بیداری فرماتے،رو رو کرگنہگاراُمتیوں کی نجات اورقبروحشرکی تکلیفوں سےبچانےکےلئےدعا ئیں  کیا کرتے۔ چنانچہ

رونے کا سبب کیا ہے؟

ہمارے بخشے بخشائے آقا،ہم گنہگاروں کو بخشوانے والے مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے دونوں  دستِ مبارک اُٹھا کر اُمّت کے حق میں  رو کر دُعا فرمائی اورعرض کیا:’’اَللّٰھُمَّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ‘‘اے اللّٰہ!میری اُمّت میری اُمّت۔اللّٰہ پاک نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم دیا کہ تم میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے پاس جاؤ۔تمہارا ربّ خوب جانتا ہے، مگر ان سے پوچھوکہ ان کے رونے کا سبب کیا ہے؟حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے حکم کے مطابق حاضر ہو کر دریافت کیا توسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ  سَلَّمَ نے انہیں  تمام حال بتایا اور غمِ اُمّت کا اظہار کیا ۔حضرت جبریل ِامین عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں  عرض کی کہ اے اللّٰہ کریم! تیرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ یہ فرماتے ہیں اور اللّٰہ پاک خوب جاننے والا ہے۔اللّٰہ پاک نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم دیا کہ جاؤ اور میرے