Book Name:Aala Hazrat Ka Tasawwuf

خانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےتصوف کےواقعات پرمشتمل ہوگا،سب سےپہلےاعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی بیعت و خلافت کاایک دلچسپ واقعہ،اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکامختصرتعارف(Introduction) اور آپ کی سیرت کی چند جھلکیاں بیان ہوں گی،اعلیٰ حضرت کو نمازِ باجماعت سے کیسی محبت تھی ،آپ توکل و قناعت میں کس قدر بلند مقام پرپہنچےہوئےتھے،اس تعلق سےآپ کی سیرت کےکچھ واقعات بھی ہم سنیں گے،خلافِ شرع کاموں کو طریقت کا نام دینےوالوں کےبارے میں علمائےکرام نےجو ارشادات بیان فرمائےہیں،یہ بھی اِس بیان میں ہم سُنیں گے۔اللہکرےکہ ہم دِلجمعی کےساتھ اوّل تاآخر  اچھی اچھی نیّتوں کے ساتھ بیان سُننےکی سعادت حاصل کریں۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                             صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی بیعت و خلافت

دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارےمکتبۃُ المدینہ کےرسالے”پیر پر اِعتراض منع ہے“کے صَفْحہ نمبر47 پر ہے:اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ21 سال کی عمر میں اپنے والدِ ماجدرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ حضرت سیدشاہ آلِ رسول مارَہْری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضرہوئے اور سِلسلۂ عالیہ قادِرِیَّہ میں ان سے بَیْعَت کی۔ان کےمرشِد کامل نے(اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو مرید بنانے کے ساتھ ساتھ)تمام سلسلوں کی اجازت وخلافت اورسندِحدیث بھی عطا فرمائی۔حالانکہ حضرت شاہ آلِ رسولرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ خلافت واجازت کے معاملے میں بڑے محتاط تھے۔مگر جب اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو مرید ہوتے ہی تمام سلسلوں کی اجازت ملی تو خانقاہ کےایک خادم سے نہ رہا گیا۔عرض کی:حضور!آپ کے خاندان میں تو خلافت بڑی ریاضت اور