Book Name:Aala Hazrat Ka Tasawwuf

میں یہ غِذا مزید کم ہو کر فقط ایک پیالی بکری  کے گوشت کا شوربا بِغیر مرچ کا اور ایک ڈیڑھ بسکٹ(Biscuit)سُوجی کا تَناوُل فرماتے تھے،الغرض کھانے پینے کے مُعاملے میں آپ نہایت سادہ تھے۔(فیضانِ اعلیٰ حضرت،ص۱۱۳)اسی طرح روزہ رکھنا آپ کو بہت پسند تھا، کیسی ہی علالت(بیماری) ہوتی، کتنی ہی نقاہت(کمزوری) ہوتی(ماہِ رمضان کا)روزہ کبھی نہ چھوڑتے،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بھتیجے اورخلیفہ مَوْلانا حَسَنَیْن رَضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:روزے کی قَضا کے بارے میں نہ اُن کے کسی بڑے کی زَبانی سُنا نہ کسی برابر والے نے بتایا نہ ہم چھوٹوں نے کبھی ماہِ مُبارَک کا کوئی روزہ قَضا کرتےدیکھا ۔ بعض مرتبہ ماہِ (رَمَضان)مُبارَک میں بھی عَلالت ہوئی مگر اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے روزہ نہ چھوڑا ،اگر کسی نے بَاِصرار عَرض بھی کِیا کہ ایسی حالت میں روزے سے کمزوری اور بڑھے گی تو اَرْشادفرمایا:مَریض ہوں تو عِلاج نہ کروں ؟لوگ تعجّب سے کہتے تھے کہ روزہ بھی کوئی عِلاج ہے۔ اَرْشادفرمایا:اِکْسِیْر عِلاج ہے، میرے آقا مدینے والے مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بتایا ہواہے۔اِرشادفرماتےہیں:صُوْمُوا تَصِحُّوایعنی روزہ رکھو تَنْدُرُسْت ہوجاؤگے۔(معجم اوسط،۶/۱۴۶،حدیث:۸۳۱۲)

جب1339ہجری کا ماہِ رَمَضان مئی،جون1921میں پڑا اورمسلسل عَلالت(بیماری)اورشدید کمزوری کے باعِث اعلیٰ حضرت(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)نے اپنے اندر موسمِ گرما میں روزہ رکھنے کی طاقت نہ پائی تو اپنے حق میں یہ فتویٰ دیا کہ پہاڑ پر سردی ہوتی ہے وہاں روزہ رکھنا ممکن ہے، لہٰذا روزہ رکھنے کے لیے وہاں جانا استِطاعت کی وجہ سے فَرْض ہوگیا۔پھر آپ روزہ رکھنے کے ارادے سے کوہِ بھوالی ضلع نینی تال تشریف لے گئے ۔(تجلیاتِ امام احمد رضا، ص۱۳۳ملخصاً) اور ایسا بھی نہ تھا کہ روزوں میں پیٹ بھر کر کھانا کھانا آپ کےمعمولات میں ہو،عام ایام میں جتنی غذا آپ کھاتے رمضان میں وہ اور کم ہوجاتی تھی،چنانچہ