Book Name:Aala Hazrat Ka Tasawwuf

سیِّدُ الطائفہ حضرت جُنید بغدادی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہنے انہیں فرمایا:صَدَقُوْا لَقَدْ وَصَلُوْا، وَلٰکِنْ اِلٰی اَیْنَ؟اِلَی النَّارِوہ سچ کہتے ہیں بیشک پہنچے،مگرکہاں؟جہنم کو۔(الیواقیت والجواہر،الفصل الرابع،المبحث السادس والعشرون،باختلاف بعض الالفاظ،ص۲۰۶)البتہ اگر مَجْذوبیت(جَذْب کی حالت)سےعقلِ تکلیفی زائِل  (ختم)ہو گئی ہو جیسےغشی والا تو اس سے قلمِ شریعت اُٹھ جائے گا مگر یہ بھی سمجھ لو جو اس قسم کا ہو گا اس کی ایسی باتیں کبھی نہ ہوں گی، شریعت کا مقابلہ کبھی  نہ کرے گا۔(بہارِ شریعت، حصہ اوّل،۱/۲۶۵۔۲۶۷)

مثلاً اگر نماز کا کہا جائے تو انکار نہ کرے گا،بلکہ نماز پڑھے گا۔ یاد رہے کہ ہر کسی کو دیکھ کے مجذوب سمجھ کر اس کی پیروی کی اجازت نہیں ۔ یہ کیا بات ہے کہ نماز تو مدینے میں پڑھتے ہیں مگر کھانا آستانے میں ۔یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ مجذوب سے بیعت نہیں کر سکتے کہ وہ اس کیفیت میں ہی نہیں کہ دوسروں کی رہنمائی کر سکے اور بیعت کا اہم مقصد ہی دِین و شریعت پر عمل کی رہنمائی حاصل کرنا ہے ،مزید یہ کہ ولی اورپِیر کے لیے عالِم ہونا ضروری ہے  تا کہ لوگوں کی دُرست شرعی رہنمائی کر سکیں۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                             صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!تصوف کا باب نہایت کشادہ ہے،صوفیائے کرام نے تصوف کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں،چنانچہ منقول ہے کہ (پابندِشریعت ہونے)عجز واِنکساری اپنانے اور توکُّل وقناعت اختیار کرنے کا نام تصوف ہے۔(اللہ والوں کی باتیں،۵/۳۹)

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ!ہمارے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پابندِ شریعت اورعاجزی و انکساری کےپیکر ہونے کے ساتھ ساتھ توکل و قناعت کی قیمتی دولت سے مالا مال تھےاورآپ انتِہائی کم غِذا اِسْتِعْمال فرمایاکرتے تھے، آپ کی عام غِذا چکّی کے پسے ہوئے آٹے کی روٹی اور بکری کا قَورمہ تھا ،آخِرِ عُمر